بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینا امت مسلمہ کے خلاف کھلی جنگ ، گریٹر اسرائیل کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیا جائے گا :سینیٹر سراج الحق

بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینا امت مسلمہ کے خلاف کھلی جنگ ، ...
بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینا امت مسلمہ کے خلاف کھلی جنگ ، گریٹر اسرائیل کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیا جائے گا :سینیٹر سراج الحق

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینا امت مسلمہ کے خلاف کھلی جنگ ہے جس کے خلاف پوری امت متحد ہے ، گریٹر اسرائیل کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیا جائے گا ، آج مسلم حکمران وہ کردار ادا نہیں کررہے جو انہیں کرنا چاہیئے تھا، جماعت اسلامی کے زیراہتمام 17دسمبر کو کراچی میں ”القدس ملین مارچ“ امت مسلمہ کی اتحاد ویکجہتی کا بھرپور مظہر ہوگا ،القدس ملین مار چ کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے ہر سطح پر جائیں گے ، دشمنان اسلام کا آخری ہدف بیت المقدس نہیں ، مکہ و مدینہ بھی ہیں ،پوری امت کے لیے مکہ اور مدینہ کے بعد بیت المقدس سب سے اہم ہے ، عالم اسلام کو امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف سخت اقدامات کرنا ہوں گے ، امریکی سفیروں کو اسلامی ممالک سے نکالا جائے ،امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف حکمرانوں کی جانب سے عوامی جذبات کی کوئی ترجمانی نہیں کی گئی ۔

یہ بھی پڑھیں :سیاسی اختلافات پس پشت ڈال کر امت کا اتحاد ضروری، مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے مسلم ممالک اقتصادی دباﺅ بڑھائیں: شاہد خاقان عباسی

کراچی آمد کے بعد ایئر پورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت خود دلدل میں پھنس گئی ہے ، ملک معاشی تباہی کی طرف جارہا ہے ، ڈالر 110کا ہوگیاہے جس سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا، معیشت سے متعلق مفروضے قائم کیے گئے ہیں ،حکومت ایک دفعہ پھر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی طرف جانے پر مجبور ہورہی ہے ، چند ماہ کی تجارت میں 15ارب ڈالر کا خسارہ ہوا ہے ، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ آئندہ بجٹ کے لیے حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی بڑی سازش تھی اس کی جوڈیشنل انکوائری ہونی چاہیئے ، الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہیئے اور تمام کرپٹ لوگوں کا بلا امتیاز اور کڑا احتساب ہونا چاہیئے ، قوم کو لوٹنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے معاشی دہشت گردوں کو گرفتار کیا جائے اور نیب کے مقدمات میں ملوث افراد کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جائے ۔انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات میں سب سے بڑی روکاوٹ حکومت خود ہے ، اگر حقوق نہ دیے گئے تو فاٹا کے عوام کا ہاتھ اور حکمرانوں کا گریبان ہوگا۔ 31دسمبر تک فاٹا کو اس کا حق نہیں دیا گیا تو پھر سے اسلام آباد کی طرف جائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے خلاف کسی قوت کوبرداشت نہیں کریں گے،کراچی کی کسی جماعت میں ٹارگٹ کلرز کی تنظیم نہیں بننے دی جائے گی: ڈی جی رینجرز سندھ

دریں اثنا سینیٹر سراج الحق نے دارالعلوم نعیمیہ کراچی کے مہتمم و چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور عالمی حالات اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز بالخصوص بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینے کے فیصلے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا دونوں رہنماؤ ں نے امریکی صدر کے فیصلے کو امت مسلمہ کے خلاف کھلی جنگ قراردیتے ہوئے اسے پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ قراردیا اوراس امر پر اتفاق کیا کہ اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جانا چاہیئے ، مسلم دنیا کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف عملی ، ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں ۔ ملاقات میں سراج الحق نے مفتی منیب الرحمن کو جماعت اسلامی کے تحت 17دسمبر کو ہونے والے ”القدس ملین مارچ “میں شرکت کی دعوت دی۔ مفتی منیب الرحمن نے سینیٹر سراج الحق کا خیر مقدم کیا اور ملین مارچ کی حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس کا مسئلہ انتہائی حساس ہے ، بیت المقدس مسلمانون کا قبلہ  اول ہے ، ہمارے پیارے نبی ﷺ نے 14  سال بیت المقدس کی جانب رُخ کر کے نمازادا کی ہے ، ہم کسی صورت میں بھی بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں حکومت سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ بیت المقدس کے حوالے سے صرف زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کرے اور بیرونی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے احتجاج ریکارڈ کروائے۔

مزید : قومی