ہائی کورٹ :پنجاب کی سرکاری56کمپنیوں میں کرپشن کے مقدمہ میں نیب ،آڈیٹر جنرل ،ایف آئی اے سے جواب طلب

ہائی کورٹ :پنجاب کی سرکاری56کمپنیوں میں کرپشن کے مقدمہ میں نیب ،آڈیٹر جنرل ...
ہائی کورٹ :پنجاب کی سرکاری56کمپنیوں میں کرپشن کے مقدمہ میں نیب ،آڈیٹر جنرل ،ایف آئی اے سے جواب طلب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے صاف پانی سمیت 56کمپنیوں میں مبینہ کرپشن کے معاملے میں اب تک کی تحقیقات اور دستاویزات طلب کرنے کے لیے دائر درخواست پر نیب، ایف آئی اے اور آڈیٹر جنرل سے جواب طلب کر لیاہے۔

جسٹس شاہد کریم نے یہ کارروائی شہری منیر احمد کی جانب سے دائر درخواست پر کی ہے ۔درخواست میں سیکورٹی ایکسچیج کمیشن پاکستان،آڈیٹر جنرل ،وفاق اور پنجاب حکومت، ایف بی آراور نیب کو فریق بنایا گیا ہے ۔درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ صاف پانی سمیت 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن کے خلاف مقدمات لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے تاہم کرپشن کے انکشاف ہونے کے بعد نیب ایف بی آراور دیگر تحقیقاتی اداروں نے معاملے پر تحقیقات کاآغازکیا تھا ،درخواست گزار نے قانونی نکتہ اٹھایا کہ آئین کے آرٹیکل 19 (اے )کے تحت ہر شہری کو معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے تاہم تحقیقاتی اداروں کی جانب سے کرپشن پر کی گئی اب تک کی پیش رفت سے متعلق معلومات عوام کے سامنے نہیں رکھی گئیں جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت تحقیقاتی اداروں کی جانب سے اب تک کی گئی چھان بین اور دیگر اہم دستاویزات کو عدالت میں طلب کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ بنانے کا حکم دے ،وکیل نے محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے تحقیقات کرنے پر اعتراض اٹھایا اور یہ موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت کے ماتحت محکمہ اینٹی کرپشن میگا کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات شفاف طریقے سے نہیں کر سکتا ،وکیل نے محکمہ اینٹی کرپشن کو تحقیقات سے روکنے اور کمپنیوں کے چیف ایکزیکٹیو کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی استدعا بھی کی جس پر عدالت نے نیب ایف بی آر سمیت دیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔

مزید : لاہور