عالمی لیڈرشپ کی نمایاں خصوصیات اور میاں شہباز شریف ۔۔اوآئی سی اجلاس میں وہی مرکزِ نگاہ کیوں ؟

عالمی لیڈرشپ کی نمایاں خصوصیات اور میاں شہباز شریف ۔۔اوآئی سی اجلاس میں وہی ...
عالمی لیڈرشپ کی نمایاں خصوصیات اور میاں شہباز شریف ۔۔اوآئی سی اجلاس میں وہی مرکزِ نگاہ کیوں ؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تحریر : ایچ اعجاز 

اگر کوئی یہ پوچھے  کہ شہبازشریف میں ایسی کیا خصوصیات ہیں کہ پنجاب کی عوام بار بار اُنہیں کا انتخاب کرتی ہے؟ ایسی کیا بات ہے کہ شہبازشریف پنجاب سمیت دیگر صوبوں کی عوام کے دلوں پر بھی راج کرنے لگے ہیں؟ ہر کوئی  یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیسے دیکھتے ہی دیکھتے شہبازشریف پاکستان کی ہی نہیں بلکہ دنیا کی نمایاں لیڈرشپ کی صف میں سرفہرست نظر آنے لگے ہیں ؟تو اُس کا جواب اس کے سوا اور کچھ نہیں شہبازشریف کی شخصیت میں وہ تمام خصوصیات شامل ہیں جو ایک اچھے قائد میں ہونی چاہیے ۔شہبازشریف ایسے  قائد بن کر اُبھر رہے ہیں جو خود بھی متحرک ہیں اور دوسروں کو بھی متحرک رکھنا بھی جانتے ہیں ۔وہ  انتہائی دباؤ میں بھی ایسے فیصلے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیںجن کے  مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں،یہی وہ  خصوصیات ہیں جو اُنہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔وہ حقیقت پسند ہیں اور ہر خبر کے اصل حقائق سے باخبر رہتے ہیں۔جہاں پاکستان کے مفادات کی بات ہو وہ ذاتی  ہی نہیں بلکہ اپنے صوبے کے مفادات کو  بھی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں جبکہ  اپنی سیاست پر عوامی مفادات کو ہر حال میں مقدم رکھتے ہیں ،وہ ہمیشہ مسلم اُمہ کے اتحاد کی بات کرتے ہیں۔

میاں محمد شہبازشریف کی شخصیت کا سرسری جائزہ لیا جائے مثبت سوچ و عمل ، بصیرت، خوداعتمادی ، انصاف پسندی، جانچ و پرکھ، ہمت و حوصلہ ، قوت فیصلہ، برداشت، جوش و ولولہ اور متاثر کُن اندازِ بیان جیسے  قائدانہ اوصاف اِن میں نمایاں ہیں جس کی دنیا بھی معترف ہےاور اب ان  کا شمار مسلم امہ کی قابل قدر لیڈرشپ میں ہونے لگا ہے یہی وجہ ہے اوآئی سی کے غیرمعمولی اجلاس  کیلئے تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کو مدعو  کیا گیا تو وہ شہبازشریف ہی تھے، یہ پنجاب کیلئے ہی نہیں بلکہ پاکستان کیلئے فخریہ لمحات ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب خصوصی دعوت پر فلسطین کے حوالے سے منعقدہ او آئی سی اجلاس  میں شریک ہوئے۔یہ وزیراعلیٰ پنجاب کے اُس پُرخلوص عزم کی عکاس ہے ،جسکا وہ ہر موقع ،ہرمقام اور  ہر سطح پر ایک صوبہ کی نہیں بلکہ پاکستان کی ترقی اور اتحاد کا اظہار کرتے ہیں ۔ او آئی سی اجلاس  میں شرکت شہبازشریف کے اُس بھرپور جذبے  کی بھی ترجمانی کا حاصل ہے جو وہ مسلم اُمہ کی باہمی اتحاد کیلئے رکھتے ہیں،یہی وجہ ہےکہ ہر جگہ انکی مسلمانوں کیلئے مخلصانہ کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے ۔

اوآئی سی اجلاس  کے آغاز سے قبل  مسلم اُمہ کی نمایاں قیادت سے ملاقاتیں اور  انٹرنیشنل میڈیا کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کی شخصیت  دن بھر مرکزِ نگاہ بنی رہی۔استنبول کے میئر میلوت یوسال سے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے مابین بے مثال دوستانہ تعلقات ہیں،  ترکی اور پاکستان کے دو طرفہ تعلق کی بڑی وجہ مولانا  جلال الدین رومیؒ  اور علامہ اقبالؒ کا روحانی میل بھی ہے ۔ ترک صدر کی جانب سے ا و آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں وزیراعلیٰ شہبازشریف کو خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ خصوصی دعوت نامہ پر شہبازشریف کی شرکت پر اظہارتشکر کیا ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کا کہنا تھا کہ  ہرمشکل گھڑی میں پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑا ہے،ہم کسی بھی ایسے اقدام کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں جس سے فلسطین کے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔اُن کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے مسئلے پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے پورے عالم اسلام کی ترجمانی کی ہے۔شہباز شریف نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کادارلحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مشرق وسطی میں امن کوسبوتاژکرسکتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ  پاکستان کو شہبازشریف کی صورت میں ایک عالمی لیڈر میسر ہوا ہے ، جس نے ہر موقع پر دنیا میں پاکستان کے اصل تشخص کو اُجاگر کیا ہے ۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں, ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ