اک شخص سارے عالم کو ویران کر گیا(2)

اک شخص سارے عالم کو ویران کر گیا(2)

جامعہ اشرفیہ سے علمائے کرام کی آمد

تقریباً25 سال قبل راقم الحروف، مولانا فضل الرحیم صاحب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور اور مولانا ارشد عبید صاحب نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ اور مولانا محمد اکرم صاحب کی حاجی صاحب سے پہلی تفصیلی ملاقات تھی،جس میں حاجی صاحب نے حضرت مولانا الیاسؒ اور مولانا سید سلیمان ندویؒ اور حضرت مفتی محمد حسنؒ بانی جامعہ اشرفیہ کے واقعات سنائے، جس سے سب حضرات بہت متاثر ہوئے،خاص طور پر سید صاحب کا بتلایا کہ سید صاحب نے فرمایا، جس کام کی بنیاد شعائر پر ہوتی ہے، وہ کام چل کر رہتا ہے۔ اب تبلیغ کے کام کی بنیاد شعائر اسلام خاص طور پر اعمال دین نماز وغیرہ جیسی اہم عبادات پر ہے تو یہ کام چل کر رہے گا۔

پاکستان بننے کے بعد سید صاحب کراچی تشریف لے آئے تھے۔ حضرت حاجی صاحب بھی کراچی میں ابتداً تبلیغی مصروفیات میں مشغول رہے اور بہت سے مواقع پر آ کر سید صاحب کو اپنے ساتھ جماعتوں کی نصرت اور خواص و علماء سے ملاقاتوں کے لئے لے جاتے تھے۔

پاکستان بننے کے بعد چونکہ رمضان سخت گرمی کا تھا۔ جب حاجی صاحب سید صاحب کو لینے کے لئے جاتے تو بعض حضرات مشورہ دیتے کہ حضرت تعب ہو جائے گا نہ جائیں، لیکن سید صاحب فرماتے کہ کچھ بھی ہو جائے، مَیں تو ان کے ساتھ جاؤں گا۔ الغرض سید صاحب اِس قدر بڑے عالم ہونے کے باوجود تبلیغ کے ابتدائی کام میں اس انداز سے اپنا حصہ ڈال گئے۔

بمبئی میں کام کی ابتداء: ایک مرتبہ راقم الحروف حاجی صاحب کے ساتھ سفر مدینہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں پر ہندوستان سے بمبئی کے کچھ تاجر حاضر ہوئے، حاجی صاحب نے انہیں اپنا واقعہ سنایا کہ مولانا یوسفؒ نے میری تشکیل حج کے لئے کر دی۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد مجھے بمبئی سے جدہ جانا تھا۔ جب بمبئی پہنچا تو پتہ چلا کہ جہاز دو تین دن لیٹ ہے۔

اب مَیں پریشان ہوا کہ وقت کہاں گذاروں، اتنے میں اللہ نے بندوبست کیا کہ مارکیٹیں جب بند ہو جاتی تھیں تو ان کے تھڑے پر لیٹ کر رات گذار لیتا، بالآخر چوکیدار کے ذریعے بات ہوئی،جس کے ذریعے سے پتہ کرتے کرتے تاجروں کے صدر و جنرل سیکرٹری تک پہنچ گیا۔

اس طرح اللہ نے حاجی صاحب کے ذریعے بمبئی جیسے دُنیا کے بڑے شہر میں کام کی بنیاد رکھی۔ پھر حاجی صاحب نے ایک ایک شخص کا نام لیا کہ اب وہ موجود ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ کچھ برما چلے گئے، کچھ دلی چلے گئے، کچھ کراچی منتقل ہوئے، کچھ موجود ہیں، کچھ کا انتقال ہو گیا۔ الغرض حاجی صاحب کے ذہن میں ایک ایک بات محفوظ تھی جسے آپ تقریباً65 سال گزرنے پر بھی نہ بھلا سکے۔

ٹونگی ڈھاکہ کے اجتماع میں مہمانوں کی فکر

اندرون و بیرون مُلک کام پر آپ کی گہری نظر تھی، کوئی کمی نظر آتی تو فوراً فکر مند ہو جاتے اور اس کو دور کرنے کی فکر کرتے، غالباً2011ء کا واقعہ ہے، جب راقم الحروف حضرت حاجی صاحب کے ساتھ سفر بنگلہ دیش میں ڈھاکہ کے بڑے اجتماع ٹونگی میں موجود تھا۔ وہاں پر بیرون ممالک سے آمدہ حضرات خاص طور پر عرب ممالک سے آنے والے مہمانوں کی کثیر تعداد اس زمانے میں ڈھاکہ کے اجتماع میں شرکت کے لئے آتی تھی۔ حاجی صاحب کو خیال آیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں پاکستان میں مہمان اتنے نہیں آتے جتنے یہاں آتے ہیں۔ مجھے بھیجا کہ جاؤ،رائیونڈ سے آئے ہوئے فلاں فلاں کو بُلا کر لاؤ اِسی بات پر غور کرنے کے لئے۔۔۔ چنانچہ ان کے آنے پر غور ہوا تو فرمایا! وجہ یہ ہے کہ ہماری توجہ اللہ کی طرف نہیں اور ہم آنے والے مہمانوں کا اس طرح اہتمام کے ساتھ اکرام نہیں کرتے،جس طرح یہ بنگال والے کرتے ہیں۔ اس پر ہمیں اللہ سے توبہ و استغفار کرنی چاہئے اور مہمانوں کے اکرام میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھنی چاہئے۔الغرض حاجب صاحب کی فکر اور کوشش سے اللہ نے مہمانوں کا رُخ رائیونڈ کے اجتماع کی طرف بھی پھیر دیا۔

رائیونڈ کا ابتدائی دور: رائیونڈ کے ابتدائی دور میں جبکہ رائیونڈ کا مرکز دُنیا کی ظاہری چمک دمک اور سرمایہ داروں کی آمد سے کوسوں دور اور ان فوائد سمیٹنے والوں سے بھی محروم تھا۔ یہ زیادہ دور کی بات نہیں،1970ء کے عشرے میں مرکز میں گاڑی تو دور کی بات ہے موٹر سائیکل بھی کم نظر آتی تھی، باہر بازار میں دو ہوٹل اور ایک جنرل سٹور ہوا کرتے تھے۔

حضرت حاجی صاحب مختلف جگہ ٹیلی فون کرنے کے سلسلے میں لاہور بذریعہ مزدا بس یہاں سے یتیم خانہ اور وہاں سے پیدل آگے چار پانچ کلو میٹر تک جاتے تھے اور آپ کے ہمراہ کبھی مولانا ہارون قریشی اور کبھی مولانا احمد بٹلہ ہوتے تھے۔

بعض دفعہ یہی سفر ریل سے ہوتا تھا تو لاہور اسٹیشن پر اُتر کر پیدل چار پانچ کلو میٹر جا کر ٹیلی فون وغیرہ کرتے، جس میں اندرون اور بیرون مُلک جماعتوں کے مسائل سے متعلقہ باتیں ہوتی تھیں اور واپس رائیونڈ تشریف لاتے۔

یہ وہ زمانہ تھا،جب رائیونڈ مرکز میں پنکھے بھی نہیں تھے اور 40/30 طلبہ باری باری اپنے ہاتھوں سے روٹیاں پکاتے تھے۔اس ابتدائی دور سے جو حاجی صاحب سے قریبی تعلق رکھنے والے اور حاجی صاحب کے اعتماد والے سفر و حضر کے ساتھی وہ یہ لوگ تھے، جن میں قابل ذکر الحاج قطب الدین صاحب، جناب یوسف قریشی اور مولانا ہارون قریشی وغیرہ ہیں، جو کام میں کسی فتنہ سے بچنے کی خاطر چند سال قبل علیحدہ ہو چکے تھے، تاہم حاجی صاحب نے انہیں ہمیشہ یاد رکھا اور موقع بموقع یہ لوگ بھی آ کر حاجی صاحب سے ملتے رہے۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم