ملکی ترقی کیلئے تمام سیاستدان عمران خان کوسپورٹ کریں ،جاوید ہاشمی

ملکی ترقی کیلئے تمام سیاستدان عمران خان کوسپورٹ کریں ،جاوید ہاشمی

ملتان (نیوز رپورٹر ) سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ احتساب کی آڑ میں اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریاں تشویشناک (بقیہ نمبر47صفحہ12پر )

ہیں ‘ احتساب ضرور کیا جانا چاہیے لیکن اسے سیاستدانوں تک محدود کرنے کی بجائے تمام کا بلاتفریق ہونا چاہیے ۔ اس ملک کو بہت لوٹا گیا ہے ‘ اس کی ہڈیوں کو بھی نچوڑ لیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس ملک میں جان ہے اور یہ قائم ہے‘ احتساب کی آڑ میں نواز شریف ‘ مریم نواز ‘ شہباز شریف ‘ آصف زرداری ‘ حمزہ شہباز ‘ سعد رفیق ‘ سلمان رفیق جیسے لوگوں کو پکڑ لیا جاتا ہے ‘ حمزہ شہباز کو کیوں ملک روانگی سے روکنا مناسب نہیں ‘جبکہ اس کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں ۔ کچھ لوگوں کو سزا ہوجاتی ہے اور جو راستہ بدل لیتے ہیں ان پر سب کچھ قربان کر دیا جاتا ہے ‘ میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ نیب کاادارہ احتساب کیلئے نہیں بنا بلکہ مخالفین سے انتقام لینے کیلئے بنایا گیا ہے ۔ میں نے سپریم کورٹ میں کہاتھا کہ یہ نیب نہیں عیب ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ جو نیب کے قابو آ جاتے ہیں ان کے اثاثہ جات کی پڑتال شروع ہو جاتی ہے ‘ میں نے سیاست میں آنے کے بعد کاروبار نہیں کیاکیونکہ مجھے اندازہ تھا کہ یہ مجھے بھی کسی طرح پھنسالیں گے ‘ میں ان مراحل سے گزرا ہوں ‘ یہ احتساب کی بجائے انتقام کا ادارہ ہے ‘ سیاسی جماعتیں کڑے حالات سے گزرتی ہیں اور لیڈرشپ جیلیں کاٹتے ہیں ‘ ماریں کھاتے ہیں ‘ لیکن ختم نہیں ہوتے ان کا نام زندہ رہتا ہے ۔ بینظیربھٹو کو اپنی کابینہ تک بنانے کی اجازت نہیں تھی اور نواز شریف کو اپنی کابینہ کے کئی ممبران کو نکالنا پڑا یہاں تک کہ وزیر اطلاعات کو بھی کابینہ سے فارغ کرنا پڑا ‘ میں درخواست کرتا ہوں کہ عمران خان کو تھوڑے اختیارات دئیے جائیں ‘ عمران خان بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن جب کچھ کر نہیں پاتے تو پھر لوگوں کو مارنے پر تل جاتے ہیں ‘ مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ عبوری وزراء اعظم کے کیا اختیارات تھے یا نہیں تھے سب کو پتہ ہے اس پر اس پراکسی حکومت سے عوام کے کیا مسائل حل ہونگے ‘ عمران خان نے اختیارات کی اسی کشمکش سے تنگ آ کر دوباہ الیکشن کی بات کی ہے جو کہ بہت غلط ہے ‘ اگر کسی دن عمران خان ٹھیک سے نہ سویا ہوا تو وہ اسمبلی توڑ سکتا ہے ۔ پاکستان اس وقت گھمبیر صورتحال سے گزر رہا ہے ‘ پاکستان مخالف قوتیں آئندہ کی میزائل جنگوں میں سب نے اپنا ہدف پاکستان کو بنا رکھا ہے ۔ ہم رد الفساد لڑ رہے ہیں ‘ فوجی و سویلین قیمتی جانیں قربان کر رہے ہیں ‘ اور مخالف قوتیں ہم پر دہشتگردوں کو پناہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں ۔ میں اپنی فوج کے جوتے کی مٹی بھی آنکھوں میں لگانے تک محبت کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ عمران خان کو مضبوط کریں تاکہ وہ عملی اقدامات اٹھا سکیں ۔ آج مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب علیحدہ صوبہ بنانے کی حمایت کر رہی ہیں پھر کیا چیز مانع ہے کرتار پور راہداری دینے کیلئے نواز شریف اور بینظیر دونوں کہتے تھک گئے لیکن کرتار پور بارڈر کھل گیا ‘ عمران خان آج سب مخالفین کو ختم کرنا چاہتے ہیں ‘ اگر سب ختم ہو گئے تو پھر عمران خان کو کون چلنے دیگا ۔

جاوید ہاشمیظ

مزید : ملتان صفحہ آخر