خواجہ فریدؒ کے عرس پر سہولتیں مہیا نہیں کی گئیں ‘ زائرین سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں‘ سرائیکستان صوبہ محاذ

خواجہ فریدؒ کے عرس پر سہولتیں مہیا نہیں کی گئیں ‘ زائرین سردی سے ٹھٹھر رہے ...

ملتان(سپیشل رپورٹر ) عثمان بزدار نے بھی میاں شہباز شریف کی طرح سرائیکی وسیب کو نظر انداز کر دیا ہے۔خواجہ فرید کے عرس پر(بقیہ نمبر10صفحہ12پر )

سہولتیں مہیا نہیں کی گئیں زائرین سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان صوبہ محاذ کے رہنماؤں پروفیسر شوکت مغل ،ظہور دھریجہ ،مظہر کات نے عرس خواجہ فرید کے سلسلے میں بلائے گئے خصوصی اجلاس میں کیا، صدارت مسیح اللہ خان جام پوری نے کی۔ انہوں نے کہا کہ عرس مبارک کی غیر رسمی تقریبات شروع ہو چکی ہیں ہزراوں زائرین دسمبر کی سخت سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں محکمہ اوقاف کی طرف سے زائرین کی سہولت کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا حالانکہ محکمہ اوقاف کے پاس خواجہ فرید کی ہزاروں ایکڑ وقف اراضی ہے اس موقع پر قرادادوں کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ زائرین کیلئے مسافر خانے تعمیر کیے جائیں ،لنگر خانہ بنایا جائے ،دربار اور دربار سے ملحقہ مسجد کی توسیع کی جائے،ایوان اقبال طرز پر ایوان فرید بنایا جائے داتا دربار کمپلیکس کی طرح خواجہ فرید کمپلیکس بنایا جائے فرید محل کو قومی ورثہ بنایا جائے ، زائرین کے قیام طعام کے ساتھ ساتھ باتھ روم اور پانی کا انتظام کیاجائے۔ اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے ظہور دھریجہ نے کہا پہلے تخت لاہور کے میاں برادران کا شکوہ تھا ،اب وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار توجہ نہ کریں تو پھر کون ذمہ دار ہے ؟ انہوں نے کہا اس علاقے ارکان اسمبلی گورچانی مزاری لغاری دریشک کیوں خاموش ہیں ؟سرائیکی رہنماؤں نے کہا جب تک صوبہ سرائیکستان نہیں بنے گا مسئلے حل نہیں ہوں گے ۔انہوں نے کہا خواجہ فرید روائتی پیر نہیں تھے انہوں نے انسان دوستی کے ساتھ ساتھ انگریزی راج ختم کرنے کا درس دیا تھا ،وہ حریت پسند تھے آج خواجہ فرید کے عرس کو حریت پسند قومی رہنما کے یوم کی طرح منانے کی ضرورت ہے ۔اجلاس میں زبیر دھریجہ ،ذیشان مغل ،بابا ممتاز دھریجہ ،کاشف دھریجہ ،معیز بھٹہ ،افضال بٹ ،اور دیگر نے شرکت کی ۔

سرائیکستان صوبہ محاذَ

مزید : ملتان صفحہ آخر