لیاقت پور گلوکارہ قتل ، تڑپتی خاتون کی ویڈیوں بنانے پر سب انسپکٹر اے ایس آئی معطل

لیاقت پور گلوکارہ قتل ، تڑپتی خاتون کی ویڈیوں بنانے پر سب انسپکٹر اے ایس آئی ...

رحیم یار خان ،لیاقت پور( نمائندہ پاکستان ،نامہ نگار)سرائیکی گلوکارہ قتل کردی گئی ،پولیس اہلکاروں کی طرف سے تڑپتی خاتون کی ویڈیوبنانے کی اطلاع پر ڈی پی او رحیم یارخان لیاقت پور پہنچ گئے۔ موقع پر پہنچنے والے سب انسپکٹر اور اے ایس آئی کو معطل کرکے تحقیقات شروع کردیں تفصیل (بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

کے مطابق لیاقت پور شہر کی گنجان آبادی رشید آباد کے ایک چوبارہ پر مقیم سات بچوں کی ماں منزہ کنول جو شہزادی کنول کے نام سے سرائیکی زبان میں گلوکاری کرتی تھی کو اس کے سابقہ شوہر کے بھائی ارشد بپڑ نے گلاکاٹ کر قتل کردیاتھا۔ پولیس تھانہ لیاقت پور کی پولیس سب انسپکٹر سہیل سلیم اور اے ایس آئی محمدشاہد کی سربراہی میں فوری طورپر موقع پر پہنچی تو منزہ کنول شدید زخمی حالت میں تڑپ رہی تھی ۔ جس کی پولیس اہلکاراپنے موبائل سے ویڈیوبنانے لگااس دوران کسی شہری نے بھی ویڈیو بنالی جس میں پولیس اہلکارکو ویڈیو بناتے دیکھاجاسکتاتھا۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی پر مذکورہ ویڈیو وائرل ہوتے ہی ڈی پی او رحیم یارخان عمرسلامت لیاقت پور پہنچ گئے ۔ انہو ں نے فوری طورپر دونوں تھانیداروں کو معطل کرکے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ ڈی پی او نے جناح آبادی چک نمبر20عباسیہ مقتولہ کے ورثاء سے ملاقات اور تعزیت کے بعد فاتحہ خوانی کی اور انہیں یقین دلایا کہ واقع میں ملوث ملزموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرکے انصاف فراہم کیاجائیگا۔ انہوں نے موقع کی عینی شاہد مقتولہ کی کمسن بیٹی فاطمہ سے تفصیلات بھی معلوم کیں۔انہوں نے کہاکہ اس قتل کی تحقیقات ڈی ایس پی لیاقت پور کی سربراہی میں ہوگی اور وہ خود اس کی نگرانی کریں گے۔ بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لیاقت پور پولیس فوری طورپر موقع پر پہنچ گئی تھی تاہم ویڈیو بنانے کے عمل کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تھانوں میں سائلیں یا شہریوں کے موبائل فون استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تھانہ لیاقت پور کے ایس ایچ او کی طرف سے جاری کردہ موبائل فون پر پابندی کے نادرشاہی حکم بارے انہوں نے ڈی ایس پی کو معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اگلے ہفتہ لیاقت پور میں کھلی کچہری لگا کر لوگوں کی شکایات سنیں گے اور احکامات جاری کریں گے۔اس موقع پر ڈی ایس پی دستگیر خان لنگاہ بھی موجود تھے۔پولیس تھانہ لیاقت پور نے وقوعہ کا مقدمہ مقتولہ منزل کنول کے بھائی جنید اقبال کی مدعیت میں درج کرلیاہے۔ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کی طرف سے تڑپتی منزہ کنول کو ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے اُس کی ویڈیو بنانے کی رپورٹ پر وزیراعلیٰ اور آئی جی پولیس پنجاب نے بھی نوٹس لے لیاہے۔دریں اثنائرحیم یار خان سے نمائندہ پاکستان کے مطابق حوا کی ایک اور بیٹی سماج کے فرسودہ نظام کی بھینٹ چڑھ گئی 7 بچوں کی ماں کا قتل انتہائی افسوسناک عمل ہیں جس کی جتنی مذمت کی جاے کم ہے ڈی پی او کی قیادت میں پولیس کا بروقت پہنچنے کی کاوش ملزمان کی گرفتاری اچھا اقدام ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختاراں مائی فاونڈیشن کی ضلعی صدر ناصرہ شاہین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ مسماۃ منزہ بی بی گھروں میں گھریلو کام کر کے اپنے 7 بچوں 2 بیٹوں اور 5 بیٹیوں کا پیٹ پالتی تھی جسے معاشرے کے فرسودہ نظام کی بھینٹ چڑھا دیا گیا مقتولہ کے قاتلوں کی فوری گرفتاری پر ڈی پی او کو خراج تحسین پیش کرتی ہوان اور امید رکھتی ہوں کہ ڈی پی او عمر سلامت اس میں مکمل انصاف او قانون کی پاسداری کرتے ہوے ملزمان کو پھانسی کے پھندے تک پہنچائے گئے اور اس کے 7 بچوں کے مستقبل کے لئے بھی کوئی بہتر حکمت عملی اپنائی جائے۔

قتل ‘ خون

مزید : ملتان صفحہ آخر