گیس بحران ، وزیر اعظم کا معلومات چھپانے پر ایم ڈی سوئی ناردرن ، سدرن کیخلاف انکوائری کا حکم

گیس بحران ، وزیر اعظم کا معلومات چھپانے پر ایم ڈی سوئی ناردرن ، سدرن کیخلاف ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں گیس کی فراہمی کے سلسلے میں پیدا ہونیوالے بحران کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیرپٹرولیم غلام سرور خان، وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی ، چیئرمین ٹاسک فورس برائے انرجی ندیم بابر، وفاقی سیکریٹریز اور دیگر افسروں نے شرکت کی ۔ وزیرپٹرولیم غلام سرور خان کی جانب سے وزیر اعظم کو گیس کی صورتحال اور پیدا ہونیوالے حالیہ بحران پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ گیس کے حالیہ بحران کی ذمہ داری بنیادی طور پر ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی عائد ہوتی ہے جنہوں نے نہ صرف حکومت سے بعض گیس کمپریسر پلانٹس کی خرابی سے متعلق معلومات کو پوشیدہ رکھا بلکہ دسمبر کے مہینے میں گیس کی طلب کے حوالے سے تخمینہ سازی میں بھی غفلت اور نا اہلی کا مظاہرہ کیا۔ ملک میں گیس کی ڈومیسٹک پروڈکشن کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت جنوب میں واقع گیس فیلڈ ز کی کل پروڈوکشن 1200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جوکہ پچھلے سال کے مقابلے میں 80ایم ایم سی ایف ڈی کم ہے۔ اسی طرح شمال میں کنڑ پساکی (kunner Pasaki) اور گیمبٹ (Gambat)فیلڈ میں بھی گیس پروڈکشن میں50ایم ایم سی ایف ڈی کی کم واقع ہوئی ہے۔ جنوب میں گیس پروڈوکشن کی کمی کے باعث کراچی کے صارفین کو گیس کی فراہمی میں دشواری کا سامنا پیش آیا جبکہ نواب شاہ اور سارن کے مقام پر گیس کمپریسر ز کی خرابی کے باعث ملک کے شمال میں گیس کی کمی کی شکایت سامنے آئی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ نہ تو ایس این جی پی ایل کی جانب سے دسمبر میں گیس کی طلب کے متعلق حقائق سے آگاہ کیا گیا اور نہ ہی ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس کمپریسرز کی خرابی کے حوالے سے بروقت حکومت کو اطلاع دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کی جانب سے نااہلی کا مظاہر ہ کرنے اورکمپریسرز کے حوالے سے معلومات پوشیدہ رکھنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے دونوں اداروں کے مینیجنگ ڈائریکٹرز کے خلاف فوری انکوائری کا حکم دیتے ہوئے وزیرپٹرولیم کو ہدایت کی یہ کارروائی آئندہ 72گھنٹوں میں مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ گیس کی صورتحال پر قابو پانے کے حوالے سے کیے جانیوالے اقدامات سے متعلق وزیراعظم کو بتایا گیا کہ شیڈول کیے گئے آر ایل این جی کے آٹھ کارگو بروقت پاکستان پہنچ جائیں گے۔ اس کے علاوہ ڈومیسٹک گیس کی پروڈوکشن کی بحالی کیلئے بھی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ڈومیسٹک پروڈوکشن کی کمی اور گیس کمپریسرز کی خرابی کے باوجود بھی اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ گھریلو صارفین متاثرنہ ہوں تاہم سی این جی اور بعض جنرل صنعتوں کے کیپٹیو پلانٹس کو دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے تاکید کی کہ گیس کی طلب و رسد اورصارفین کو گیس کی فراہمی کے حوالے سے منصوبہ بندی کو مزید مربوط کیا جائے تاکہ اس حوالے سے مستقبل میں کسی ایسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔دوسری جانب ترجمان سوئی سدرن کا کہنا ہے کہ فنی خرابی پر گمبٹ اور کنرپسا گیس فیلڈ سے گیس کم سپلائی ہورہی ہے۔ترجمان سوئی سدرن شہباز اسلام نے بتایاکہ سسٹم میں پہلے سے گیس کی کمی تھی اور فنی خرابی کی وجہ سے گیس کی مزید کمی ہوگئی ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ریگولر گیس ملنے پر سی این جی سیکٹر کو گیس فراہم کردیں گے تاہم اولین ترجیح گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی ہے۔

وزیراعظم ،گیس اجلاس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کیڈٹ کالج قلعہ سیف اللہ کے کیڈٹس نے ملاقات کی ہے ،ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال، بلوچستان کے مسائل، تعلیم اور دیگر موضوعات پر بات چیت کی گئی ۔ وزیراعظم نے طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس رہا ہے۔یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے تاہم ماضی کی حکومتوں کی بد انتظامی کی وجہ سے صوبہ پس مانندگی کا شکار رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے سوئٹزر لینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سوئٹزر لینڈ میں وسائل محدود ہیں لیکن گڈ گورننس کی بدولت سوئٹزرلینڈ آج یورپ کے بعض دیگر ملکوں سے بھی زیادہ ترقی کر چکا ہے۔جہاں کرپشن ہوتی ہے وہاں کی عوام پس مانندگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے ریاستِ مدینہ اور خلافت راشدہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے نبی ؐ نے ریاست کے جو سنہری اصول مرتب کیے ان پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں نے محدود وسائل کے باوجود دنیا کی امامت کی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی ترقی کے لئے قانون کی حکمرانی ، انصاف، نچلے طبقے کی معاونت اور ان کو اوپر اٹھانے کے لئے جامع نظام اور تعلیم کا فروغ کلیدی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

کیڈٹس کی ملاقات

مزید : صفحہ اول