شریعت اور ملکی آئین میں بھی سودی کاروبار کی ممانعت ہے ، گورنر سٹیٹ بینک

شریعت اور ملکی آئین میں بھی سودی کاروبار کی ممانعت ہے ، گورنر سٹیٹ بینک

کراچی(این این آئی)سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنرطارق باجوہ نے کہاہے کہ شریعت اور ملکی آئین بھی سودی کاروبار کی ممانعت کرتا ہے،سٹیٹ بینک کی سوچ ہے کہ مالیاتی نظام میں اسلامک بینکنگ بنیاد ہو،اسلامی فنانس محض مذہبی ضرورت نہیں ہے بلکہ معاشرے میں معاشی مساوات کیلئے بھی اہم ہے،معلوم نہیں ہے کہ سود ی کاروبار کا خاتمہ ہوگا، شرعی معیارات کا اردومیں اجرا اہم کوشش ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے کتاب’’ شرعی معیارات ‘‘ کے اردو ترجمہ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ پچاس لاکھ گھروں کیلئے 17کھرب روپے پانچ برسوں میں درکار ہوں گے،پی ٹی آئی حکومت نے اسلامی بینکاری کا حصہ بڑھانے ہا ہدف مقرر کیا ہے۔حکومت کی پچاس لاکھ گھروں کیلئے مشارکہ مصنوعات کی ضرورت ہوگی۔اسلامک انڈسٹری سے مستفید ہوں۔عملے کی تربیت پر توجہ دیں۔طارق باجوہ نے کہاکہ نفع و نقصان میں حصہ دینے والی سرمایہ کاری لائیں ۔نفع و نقصان میں شرکت دینے والی سرمایہ کاری سہولت کا پہلا صارف میں بنوں گا۔انہوں نے کہاکہ سٹیٹ بینک اسلامی بینکاری کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔اپنے ویڈیوپیغام میں وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹرعشرت حسین نے کہاکہ اسلامک فنانس انڈسٹری عوام کو معلومات فراہم کرنے کاتشہیری پروگرام وضع کرے۔اکاؤنٹنگ اینڈ آڈٹنگ آرگنائزیشن فار اسلامک فنانشل انسٹی ٹیوشن(ایویفی) کے چیئرمین شیخ ابراہیم بن خلیفہ الخلیفہ نے کہاکہ شریعہ سٹینڈر کا اردو ترجمہ ضروری تھا۔پاکستان کی اسلامی انڈسٹری عالمی تجربے سے فائدہ اٹھائے۔چیئرمین ایویفی شریعہ بورڈمفتی تقی عثمانی نے کہاکہ شرعی معیارات کا اردو ترجمہ بہت اچھی کوشش ہے۔شرعی معیارات کا اردو ترجمہ اسلامک فنانشل انڈسٹری کو فائدہ پہنچائے گا۔سٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین عرفان صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی بینکاری سے تعلق رکھنے والے افراد اور مذہبی علماء کیلئے اس شعبہ سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات کا حصول اردو زبان میں دستیاب ہونے کے باعث زیادہ باسہولت ہو گا ۔

گورنر سٹیٹ بینک

مزید : صفحہ آخر