پنجاب اسمبلی خواجہ برادران کی گرفتاری اور حمزہ شہباز کو بلیک لسٹ میں ڈالنے پر مسلم لیگ (ن) سراپا احتجاج

پنجاب اسمبلی خواجہ برادران کی گرفتاری اور حمزہ شہباز کو بلیک لسٹ میں ڈالنے ...

لاہور( نمائندہ خصوصی،آئی این پی) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے ججوں ‘جر نیلوں اور بیوروکریٹس کے احتساب کابھی مطالبہ کردیا‘(ن) لیگ کا خواجہ برادران کی گرفتاری اور حمزہ شہبا زشر یف کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے پر ایوان میں شدیداحتجاج ‘ڈپٹی سپیکرنے پروٹیکشن آڈر کے معاملے پر ترمیم کیلئے کمیٹی بنانے کا عندیہ دے دیا‘ گھریلو ملازمین ،تصادم مفادات کا تدراک،سکلز ڈویلپمنٹ سمیت 6بلز حکومت نے منظوری کیلئے ایوان میں پیش کر دےئے جبکہ ن لیگ نے کہا حکومت اتنی دوری پیدا نہ کرے کہی نہ حکومت نہ اپوزیشن رہے جسکے جواب میں وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ (ن) لیگ نے اپنے دور میں مولانا اعظم طارق،مونس الٰہی اور اشرف سوہنا کے پروڈکشن آڈر جاری نہیں کیے لیکن حکومت پھر بھی اس معاملے کی متعلقہ ادارے سے رپورٹ طلب کرکے ایوان کو آگاہ کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت ایک گھنٹہ45منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ داخلہ اور جیل خانہ جات کے متعلق سوالوں کے جواب وزیر قانون راجہ بشارت اور زوار حسین وڑائچ کی جانب سے گئے مسلم لیگ ن کے رکن وارث کلو نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا حمزہ شہباز کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں تھا پھر ان کو بیرون ملک جانے سے ایف آئی اے نے کیوں روکا،لاہور ہائیکوٹ کے جج باقر نجفی نے ہدایات کی تھی کہ حمزہ شہباز کوگرفتار کرنے یہ ان کیخلاف کوئی کاروائی کرنے سے پہلے ان کو آگاہ کیا جائے گا،ایف آئی اے نے عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے،ن لیگ کیخلاف جو طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے،اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا،ہم حکومت کو چلتے دیکھنا چاہتے ہیں ،منتخب لوگوں کو عزت دی جائے،اس کے جواب میں ڈپٹی سپیکر نے کہا قوانین میں کچھ ترامیم کی ضرورت ہے اس حوالے سے جلد کمیٹی بنائی گی جویہ سینئر ممبران پر مشتمل ہو گی۔لیگی رکن طاہر خلیل سندھو نے کہا حکومت اپوزیشن کے ساتھ اتنی دوریاں پیدا نہ کرے کہی ایسا نہ ہو کہ نہ حکومت رہے اور نہ اپوزیشن رہے۔وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ایف آئی اے اور نیب پنجاب حکومت کے ماتحت نہیں ،اگر پنجاب حکومت سے متعلقہ معاملہ ہے تو ہم اپوزیشن کا مسئلہ ضرور حل کر سکتے ہیں،جہاں بات ہے کہ خواجہ سلمان رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی تو ن لیگ کو10سال یہ خیال نہیں آیا کہ کوئی اسمبلی کا رکن گرفتار بھی ہو سکتا ہے جبکہ مسلم لیگ(ن) نے اپنے دور حکومت میں مولانا اعظم طارق ،مونس الٰہی اور اشرف سوہنا کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے تھے،اب یہ کس منہ سے پروڈکشن آرڈر کی بات کررہے ہیں۔پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی نے کہا پیپلزپارٹی ہمیشہ ایسے انتقام کا نشانہ بنتی رہی ہے،ن لیگ نے اپنے دور میں ترامیم نہیں کی ،ہم نے 62اور 63آرٹیکل میں ترمیم کان لیگ سے کہا تھا لیکن اس وقت یہ لوگ اقتدار میں تھے انہوں نے ہماری بات پر توجہ نہیں دی،کل حکومت نے جو کام کیا ہے پیپلزپارٹی اس کی مذمت کرتی ہے نظریاتی لوگوں کے ساتھ ساتھ سلوک ہوتا رہا ہے،حکومتی وزیر نیب کے ترجمان بنے ہوئے ہیں،کیا نیب ان کے کہنے پر لوگوں کو گرفتار کررہی ہے،یہ احتساب نہیں انتقام لگ رہا ہے،کیا پاکستان میں احتساب صرف سیاستدانوں کا ہی مقدر ہے ،جنرلوں،ججوں اور بیوروکریٹس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔اپوزیشن اراکین نے جیلوں میں قیدیوں کو سہولتوں کی عدم فراہمی کے خلاف بھی شدید احتجاج کیا، اشرف انصاری نے کہا میرا اپنا10 دن جیل میں رہنے کا تجربہ ہے ،وہاں جو کھانا دیا جاتا ہے وہ کسی انسان کے کھانے کے قابل نہیں لہٰذاحکومت قیدیوں کے حقوق کا خیال کرے۔صوبائی وزیر جیل خانہ جات چوہدری زوار حسین وڑائچ نے کھانے کا معیار مزید بہتر کرنے کی یقین دہانی کرا دی،ایک ضمنی سوال پر لیگی رکن ملک ارشد نے کہا ساہیوال جیل میں قیدیوں کیلئے ڈاکٹر کی سہولت میسر نہیں ہے ،اسمبلی میں 371ایم اپی ایز کیلئے روزانہ دوڈاکٹرز،ریسکیو سمیت دیگر طبی عملہ موجود رہتا ہے لیکن جیل میں ہزاروں قید ی ہوتے ہیں ان کیلئے ایک بھی ڈاکٹر کی سہولت نہیں ہے کیا جیل میں کوئی قیدی بیمار نہیں ہوتا،اس کے جواب میں صوبائی وزیر نے بتایا ساہیوال جیل میں ہفتے میں اک بار سپیشل ڈاکٹر جاتا ہے اور تمام مریضوں کو طبی سہولیات فری دی جاتی ہیں اور جیل میں قیدیوں کو کھانے پینے سمیت تمام سہولتیں دی جاتی ہے اور کھانے کے معیار کو بھی مزید بہتر بنایا جارہا ہے۔ بعد ازاراں وزیر قانون راجہ بشارت نے تصادم مفادات تدراک پنجاب 2018،حق سرکاری خدمات پنجاب ،گھریلو ملازمین پنجاب،سکلز ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب ،ترمیم ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی اور ترمیم بورڈ آف ٹیکینکل ایجوکیشن پنجاب کے بل ایوان میں پیش کئے ،ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے تمام بلز سپیشل کمیٹی ون کے سپرد کر دیے اور دو ماہ میں رپورٹ طلب کرلی ایجنڈا مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر