ان ہاؤس تبدیلی کی قیاس آرائیاں بے بنیاد،عوا م اگلے پانچ سالوں کیلئے بھی تحریک انصاف کو منتخب کرینگے:بریگیڈ یئر(ر)اعجازشاہ

ان ہاؤس تبدیلی کی قیاس آرائیاں بے بنیاد،عوا م اگلے پانچ سالوں کیلئے بھی ...
ان ہاؤس تبدیلی کی قیاس آرائیاں بے بنیاد،عوا م اگلے پانچ سالوں کیلئے بھی تحریک انصاف کو منتخب کرینگے:بریگیڈ یئر(ر)اعجازشاہ

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیرداخلہ بریگیڈ یئر(ر)اعجاز احمد شاہ نے ایک بار پھر پی آئی سی پر وکلاء کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک کے دو پیشہ وارانہ اور تعلیم یافتہ طبقوں میں تصادم کا جانی ومالی نقصا ن بیمارا ور لاچاروں کا ہوا، ذمہ داران کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے، احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی اور اشتعال انگیزی شدت پسندی کی علامت ہے، امید ہے کہ پنجاب حکومت اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں کامیاب ہو گی،یہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی کی بناء پر صرف یہ پانچ سال ہی نہیں بلکہ اگلے پانچ سالوں کے لئے بھی عوام تحریک انصاف کو اور عمران خان کوہی منتخب کریں گے،اِن ہاوس تبدیلی کا کوئی جواز نہیں بنتا، اس قسم کی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں،عمران خان نے 22 سال کی جدوجہد کر کے یہ مقام حاصل کیا ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف سے ان کو مائنس کر دیا جائے؟حکومت اور اتحادی پارٹیوں میں کسی قسم کا اختلاف نہیں۔

 نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئےوفاقی وزیرداخلہ اعجاز احمد شاہ نے  کہا کہ لاہور میں ہونے والے واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،یہ ایک قابل تشویش بات ہے کہ ملک کے دو پیشہ وارانہ اور تعلیم یافتہ طبقوں میں تصادم ہوا اور اس میں بیمار و لاچار جن کو جنگ کی حالت میں بھی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے،اِن کو جانی اور مالی نقصان ہوا،میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ جو بھی اس کے ذمہ داران ہیں،اِنہیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کا پرامن احتجاج اوراپنے حق کےلئےآوازاٹھانا جمہوریت کاحسن ہےلیکن اِس دوران کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی اوراشتعال اَنگیزی شدت پسندی کی علامت ہے، ہمارے معاشرےمیں برداشت کی کمی کےباعث بہت سےمسائل جنم لیتے ہیں ،امید ہے کہ پنجاب حکومت اِس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں کامیاب ہو گی،ایک مرتبہ پھر یہ کہنا چاہوں گا کہ جو کچھ بھی ہوا اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ،یہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔وزیرداخلہ نے کہا کہ دو مقدمات درج ہوچکے ہیں ، جس میں سے ایک پولیس موبائل جلانے پر اور دوسرا میڈیکل سٹاف کو مدعی بنا کر درج کیا گیا ہے، ذمہ داران کی شناخت اور معاملے کی اصل وجوہات کا پتہ لگانا بے حد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی رفتار گزشتہ حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے آہستہ ضرور ہو سکتی ہے لیکن ہم درست سمت میں کام کر رہے ہیں اور اس بات کا ثبوت معیشی سطح پر آنے والی مثبت تبدیلی ہے،ہم گورننس سے لے کر تمام معاملات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، مہنگائی پر قابو پانے کے کی دیر ہے،میں آپکو یہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ صرف یہ پانچ سال نہیں بلکہ اگلے پانچ سالوں کے لئے بھی عوام ہمیں ہی منتخب کریں گے،اِن ہاوس تبدیلی کا کوئی جواز نہیں بنتا، اس قسم کی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں ،عمران خان نے 22 سال کی جدوجہد کر کے یہ مقام حاصل کیا ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف سے ان کو مائنس کر دیا جائے؟ حکومت اور اتحادی پارٹیوں میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ۔

اعجاز شاہ نے کہا کہ زرداری صاحب پر ابھی فرد جرم عائد نہیں ہوئی، ابھی تحقیقاتی عمل جاری ہے،اُنہوں نے صحت کی بنیاد پر عدالت سے ضمانت حاصل کی، کسی بھی قسم کی بارگین نیب اور زرداری کے درمیان ہو تو ہو حکومت کا اس سے کو ئی تعلق نہیں، نواز شریف کے مقرر کردہ چار ہفتے 16 دسمبر کو پورے ہو ریے ہیں ،مزید توسیع کے لئے عدالت کے احکامات کے مطابق پنجاب حکومت سے رابطہ کرنا ہوگا،مریم نوازکا نام ای سی ایل سے نکالنے کا کوئی جواز نہیں بنتا،لندن میں یہ خلاف قانون بات ہے کہ آپ کسی اور کی طبی تفصیلات نہیں لے سکتے،اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے باقاعدہ طور پر تحریری حقائق برطانوی حکومت کو دے دئیے تاکہ جانچ پڑتال کے لئے جانے والے حکام کو باآسانی رسائی مل سکے۔ پرویز مشرف کیس کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف صرف یہ تھا کہ قانون کی باقاعدہ پیروی کی جائے چونکہ یہ انتہائی سنگین نویت کا کیس ہے لہذا پرویز مشرف کو اپنا دفاع کرنے کا موقع دیا جائےباقی اس معاملے میں حتمی فیصلہ عدالت کا ہی ہوگا قانون کی تمام شرائط و ضوابط پورے ہونے چاہئیں۔

مزید : قومی