16لاکھ عمرہ زائرین کیلئے قانون سازی کیوں نہیں؟

16لاکھ عمرہ زائرین کیلئے قانون سازی کیوں نہیں؟
 16لاکھ عمرہ زائرین کیلئے قانون سازی کیوں نہیں؟

  



اہل ِ پاکستان کی معلومات کے لئے وزارتِ مذہبی امور اور اپنے قیام سے اب تک اپنے کروڑوں روپے ماہانہ کے بجٹ ملک بھر میں پھیلے ہوئے حج ڈریکوریٹ، جدہ مکہ، مدینہ کے دفاتر اور بڑے عملے کے وسائل پاکستان سے جانے والے ایک لاکھ10ہزار سرکاری عازمین حج پر خرچ کرتی ہے۔حج2020ء میں پاکستان سے دو لاکھ کے قریب حاجی جائیں گے،60 فیصد کے حساب سے ایک لاکھ20ہزار کے لئے سارے وسائل بروکار لائے جا رہے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ 3سے4 لاکھ زائرین جو عراق،ایران، شام، انڈیا زیارتوں کے لئے جاتے ہیں۔گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق 16لاکھ عمرہ زائرین کے لئے کوئی اتھارٹی، مانیٹرنگ ڈیسک موجود نہیں ہے۔

دُنیا بھر میں حج پرائیویٹ سیکٹر کو دیا جا رہا اور مقابلے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔حکومت حج کو پرائیویٹ کرنے کی بجائے اپنی دلچسپیاں بڑھا رہی ہے، حالانکہ حج کو پرائیویٹ سیکٹر کو دے کر اتھارٹی کی حیثیت سے تمام امور کو مانیٹرز کرنا چاہئے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ دو لاکھ حاجی تو اہم ہیں،16 لاکھ عمرہ زائرین اب تک کیوں ترجیح نہیں بن رہے،3سے4 لاکھ زیارتوں والے کیوں مرکز محور نہیں بن پا رہے،حالانکہ1973ء کے آئین کے مطابق34/2 شیڈول2کے مطابق وزارتِ مذہبی امور کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حج، عمرہ، زیارت کے لئے جانے والوں کو مانیٹر کرے۔2009ء میں حج و عمرہ زیارت کے لئے آئین سازی کا فیصلہ ہوا، 10سال ہو گئے کابینہ کی منظوری کے باوجود مسودہ کھڈے لائن لگا ہوا ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور کی توجہ آئی ہے نہ وفاقی سیکرٹری کی اور نہ پارلیمانی سیکرٹری اور نہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کے ارکان کی ترجیح بنی ہے۔سالانہ بنیادوں پر سال نظام ٹورازم کے سپرد ہے۔ 18ویں تریم کے بعد ٹورازم صوبوں کا محکمہ بن چکا ہے۔ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ ٹریول ایجنٹس سے20ہزار سالانہ فیس لیتی ہے اور اس کے انسپکٹر اور اہلکاروں کی روزی روٹی کے لئے انسپکشن ڈرامہ کافی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور میں عمرہ زائرین کے لئے نہ اسلام آباد میں کوئی مانیٹرنگ ڈیسک ہے نہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے حج ڈریکوریٹ میں اور نہ جدہ، مکہ، مدینہ منورہ میں۔16لاکھ عمرہ زائرین مادر پدر آزاد ہیں۔سعودی عمرہ کمپنیوں کے ساتھ پاکستانی ٹریول ایجنٹ کے رحم کرم پر ہیں۔ وزارتِ مذہبی امور کا عمرہ کمپنیوں سے تعلق صرف ایگریمنٹ سائن کرنے تک محدود ہے۔

سعودیہ میں عمرہ کمپنیاں گزشتہ تین سال میں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔سعودیہ میں اس وقت عمرہ کمپنیاں 1000سے زائد ہیں، جو پاکستان میں ایاٹاایجنٹوں کے ساتھ عمرہ کاروبار کر رہی ہیں،مقابلہ اس حد تک بڑھ گیا ہے، پہلے ایک لاکھ ریال گارنٹی وصول کی جا رہی تھی اب زیادہ کمپنیاں آنے کی وجہ سے وہ بھی نہیں لی جا رہی۔عمرہ ایگریمنٹ کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے کسی ذمہ دار سے پوچھیں کہ آپ سارے وسائل حاجیوں پر لگا رہے ہیں، آخر کیوں؟ ان کا جواب آتا ہے۔ حاجی پاکستان کے سفیر ہیں، حج مقدس عبادت ہے، حاجیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا ہماری حکومت کا ایجنڈا ہے۔حج میں فراڈ ہوتے ہیں، فراڈ روکنا ضروری ہیں۔جب دوسرا سوال کیا جاتا ہے کہ کیا عمرہ زائرین پاکستان کے سفیر نہیں ہیں؟

کیا عمرہ میں فراڈ نہیں ہوتا، کیا عمرہ زائرین کی مانیٹرنگ کی ضرورت نہیں ہے،تو جواب خاموشی کی صورت میں آتا ہے۔2009ء میں سرگرم وفاقی سیکرٹری مذہبی امور نے بیڑا اٹھایا کہ حج اور عمرہ کے لئے آئین سازی ہونی چاہئے اس کے لئے وفاقی وزیر مذہبی امور بھی سرگرم رہے،دلائل دیئے جاتے ہے۔ مجھے یاد ہے مَیں نے بھی کالم لکھا،2009ء کے بعد سارا معاملہ سردخانے کی نظر ہو گیا۔اب16لاکھ عمرہ زائرین کے لئے وزارتِ مذہبی امور کا کردار سعودی عمرہ کمپنیوں کے پاکستانی عمرہ ایجنٹس کے ساتھ ہونے والے ایگریمنٹ پر ایک دستخط بطور تصدیق کنندہ تک محدود ہے۔ اس کی دلچسپ مثال بھی دے دیتا ہوں۔ مجھے ایک دوست نے کہا میری عمرہ کمپنی کا ایگریمنٹ وزارتِ مذہبی امور میں پڑھا ہے۔دستخط نہ ہونے کی وجہ سے نقصان ہو رہا ہے، 100پاسپورٹ روکے پڑے ہیں، مَیں نے اپنے دوست سے پوچھا کس نے دستخط کرنے ہیں۔

انہوں نے کہا سینئر جوائنٹ سیکرٹری جج نے کسی کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے،مَیں نے جوائنٹ سیکرٹری زینت حسین بنگش سے بات کی تو انہوں نے کہا ایک جوائنٹ سیکرٹری دستخط کرتے ہیں۔مَیں نے ان سے ان کا نمبر لیا اور ان کو فون کیا تو فرمانے لگے ہمارے دفتر دوسری جگہ شفٹ ہو رہے ہیں ایک دو دن ٹھہر جائیں،دستخط کر دوں گا، فکر نہ کریں مَیں نے یہی الفاظ شام کو اپنے دوست کو بتا دیئے،جس نے مجھے درخواست کی تھی اس دوست نے مجھے کہا میاں اشفاق صاحب آپ بڑے سادہ ہیں، میرے بندے نے پانچ ہزار روپے دے کر صبح ہی دستخط کروا لئے تھے۔ وزارتِ مذہبی امور کے افسروں کی ایمانداری پر شک نہیں،مَیں خاموش ہو گیا۔عمرہ کا کاروبار ایسے ہی جاری ہے ٹورازم کی مثالیں بھی بے شمار موجود ہیں، جہاں کام کروانا ہو تو پہیے لگانا پڑتے ہیں۔

اہل ِ تشیع کی کوششوں سے آج کل زیارتوں پر جانے والوں کے لئے آئین سازی کی مہم جاری ہے،غنیمت جانا دو لاکھ حجاج کرام کے بعد چار لاکھ زیارتوں والے ترجیح بن گئے ہیں، 16لاکھ عمرہ زائرین کی طرف بھی توجہ دِلا دی جائے یہ بھی پاکستانی ہیں ہر سال سستے عمرہ کے نام پر چھوٹے بڑے شہروں میں کروڑوں روپے کا فراڈ ہوتا ہے،غریب خاندان زندگی بھر کی جمع پونچی لگا کر گھر بیٹھ کر بددُعائیں دینے یا محلے میں رونے دھونے کے بعد بیٹھ جاتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری وفاقی سیکرٹری میاں مشتاق احمد اور ان کی ٹیم ملک بھر میں ہر سال لٹنے والوں پر ترس کھائیں۔ 2009ء سے کابینہ سے منظور کردہ عمرہ حج اتھارٹی کے لئے آئین سازی کریں،16 لاکھ عمرہ زائرین کو عمرہ ایجنٹوں، ایئر لائنز کے رحم کرم پر چھوڑنے کی بجائے وزارتِ مذہبی امور میں حج کی طرح رجسٹریشن کا نظام اپنائیں،علیحدہ شعبہ قائم کریں، مانیٹرنگ کا نظام وزارت میں قائم کریں،سعودیہ میں قائم کریں۔

حج کی طرح عمرہ پیکیج بھی دیں، نیٹ کے ساتھ موبائل پر دستیاب ہوں، وزارت سعودی عمرہ کمپنیوں کے ساتھ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ کوآرڈنیشن قائم کرے اور16لاکھ عمرہ زائرین 4لاکھ زیارتوں پر جانے والوں اور دولاکھ حاجیوں کے لئے مربوط آئین تشکیل دیں تاکہ ہر سال لٹنے لٹانے کا دھندہ ختم ہو سکے۔ سب کے لئے قانون کے مطابق جزا اور سزا کا نظام قائم ہو سکے۔یہ سب آئین سازی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم