جوڈیشل کمپلیکس اور ملحقہ دیگر حساس عمارتوں کا سکیورٹی جائزہ

    جوڈیشل کمپلیکس اور ملحقہ دیگر حساس عمارتوں کا سکیورٹی جائزہ

  



پشاور(کرائمز رپورٹر)سی سی پی او قاضی جمیل الرحمان کی خصوصی ہدایت پر ریڈ زون میں تعلیمی اداروں، سرکاری عمارتوں اور دیگر حساس دفاتر کی سکیورٹی آڈٹ کرانے کا سلسلہ تیز کردیا گیا، ایس ایس پی آپریشن نے ابتدائی طور پر جوڈیشل کمپلیکس پشاور کا دورہ کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا، دوسرے مرحلے میں ریڈ زون میں واقع سرکاری دفاتر اور دیگر سرکاری عمارتوں کی سکیورٹی آڈٹ کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو عمارتوں، دفاتر، تعلیمی اداروں وغیرہ کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لئے سفارشات تیار کرے گی،سکیورٹی آڈٹ کا مقصد سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کو مزید موثر بنانا ہے تفصیلات کے مطابق سی سی پی او قاضی جمیل الرحمان کی خصوصی ہدایت پر ایس ایس پی آپریشن ظہور بابر آفریدی نے ریڈ زون میں واقع سرکاری دفاتر، عمارتوں، ہائی کورٹ اورڈی سی آفس کے ساتھ ساتھ کالجز، یونیورسٹیز اور دیگر تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی سکیورٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ابتدائی مرحلے میں جوڈیشل کمپلیکس پشاور کا دورہ کیا، جائزہ دورے کے دوران ایس ایس پی انوسٹی گیشن نثار خان اور اے ایس پی کینٹ حیدر علی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، اس موقع پر ایس ایس پی آپریشن نے سکیورٹی پر معمور پولیس اہلکاروں سے بات چیت کرتے ہوئے ہمہ وقت مستعد اور چوکس رہنے کی تلقین کی، انہوں نے کینٹ ڈویژن پولیس کی جانب سے جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت کے لئے کئے گئے سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی کو مزید فعال کرنے کے لئے مزید اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی، انہوں نے واضح کیا کہ سکیورٹی آڈٹ کا مقصد تمام سرکاری عمارتوں، کالجز، یونیورسٹیز اور دیگر حساس عمارتوں کی سکیورٹی کو فول پروف بنانا ہے ایس ایس پی آپریشن ظہور بابرآفریدی نے واضح کیا ہے کہ ریڈ زون اور دیگر سرکاری دفاتر کی سکیورٹی کو مزید بہتر کے لئے تمام عمارتوں کی سکیورٹی آڈٹ کی جائے گی جس کے لئے ایس پی کینٹ کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو جامع اور باریک بینی سے عمارتوں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرے گی،انہوں نے کہا کہ پشاور پولیس عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...