پشاور اور اضلاع میں اب تک 7ہزار مقدمات منشیات اور مافیا کیخلاف درج

  پشاور اور اضلاع میں اب تک 7ہزار مقدمات منشیات اور مافیا کیخلاف درج

  



پشاور(ملک حشمت سے)پشاوراوردیگراضلاع میں آپس کے بڑھتے ہوئے منشیات ااوردیگر مافیاکے خلاف اب تک 7ہزار مقدمات درج ہوئے اور ملزمان کی گرفتاری کے بعد رہائی کے بعد دوبارہ اس گھناونے کاربار سے وابستہ ہونے کے بعد پولیس نے مافیا کے خلاف حکمت عملی تیار کرلی عوام کو اس مافیا کے ساتھ شوشل بائکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے او ر پراپرٹی ڈیلر ایسے افراد کو گھر کرائے یاخرید کر دینے کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے گی پشاور اوردیگر اضلاع میں آپس کے بڑھتے ہوئے استمال اوراس کے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے پولیس نے ایک نئی حکمت عملی تیارکر لی ہے جس میں صوبے کے تمام اضلا ع اور خاص کرپشاور اور نواحی علاقوں میں مساجد میں لوڈ سیپکر کے ذریعے اعلانات کروائے جائیں گے کہ اس کاروبار میں جو افراد بھی ملوث ہیں عوام ان کو اپنے علاقوں سے نکلوائیں یافوری طورپر پولیس کو اطلا ع فراہم کرے اس کے لیے پشاور میں اگاہی مہم بھی چلائی جائے گی تاہم جب اس سلسلے میں ایس ایس پی اپریشن ظہورخان آفریدی سے رالطہ کیاگیاتو ان کاکہناتھاکہ بہت جلد اس مہم کو شروع کررہے ہیں اس کے ساتھ ڈرگ کے بڑ ے مافیا کو بھی ان کی لسٹیں بھی تیار کرلی گئی ہے تاہم ان کے مطالق اب تک جو سکول اکالج اوریورینورسٹی میں اس کی فروخت کرنے کے لیے آتے ہیں ان کو گرفتار کرلیاجائے گاوراس کے علاوہ اب تک ایسے عناصر کے خلاف7ہزارمقدمات درج ہوچکے ہیں جوملزمان بھی گرفتار کیے گئے ہیں مگر وہ ملزمان رہائی کے بعد دوبارہ اس کاروبار سے وابسطہ ہوجاتے ہیں جس کے بعد اب پولیس حکام پہلے مرحلے میں تمام ایم ایز اور دیگر منتخب نمائیدوں کو اس حوالے سے بریف کریں گے اور اس سلسلہ میں میڈیااورمعززشہریوں پرمشتمل ایک کمیٹی بھی بنائی جائے گی جبکہ تمام پولیس افسران کو بھی ہدایات جاری کی ہے کہ جو عناصر اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں ان کو کرائے پرمکان دینے والے افراد اورپراپرٹی ڈیلر کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے گی اور ان کے ساتھ عوام کو ایسے افراد سے شوشل بایکاٹ کرنے اوران کی خوشی اورغم میں شرکت نہ کرنے کی بھی اپیل کی ہے تاہم پولیس حکام کی جانب سے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کوہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ایسے افراد کو گرفتاری کے بعد تھانوں میں ان کی سفارس کرنے والے کے خلاف ان کے ساتھی ہونے کی بھی ایف آئی آر درج کی جائے گی ِ

مزید : پشاورصفحہ آخر