تعلیمی بورڈحکام کو بورڈ امتحانات سے متعلق واضح پالیسی اپنانے کے احکامات

    تعلیمی بورڈحکام کو بورڈ امتحانات سے متعلق واضح پالیسی اپنانے کے ...

  



پشاور(نیوزرپورٹر) پشاور ہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا اور تعلیمی بورڈحکام کو بورڈ امتحانات سے متعلق واضح پالیسی اپنانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں،دوران سماعت جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے کہ راتوں رات فیصلے بدلنے سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے اور طلبہ اورانکے والدین کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،واضح رہے کہ عدالت عالیہ کے جسٹس قیصر رشید اور جسٹس محمد نعیم انور پر مشتمل دورکنی بنچ نے آٹھویں جماعت کا بورڈ امتحان اور نویں اور دسویں جماعت کا کمپوزٹ امتحان بھی ختم کرنے سے متعلق خبرو ں کا نوٹس لیا تھا اورسیکرٹری ایجوکیشن سمیت دیگر متعلقہ حکام کو گزشتہ روز عدالت طلب کیا تھا، گزشتہ روز جب کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیئرمین پشاور بورڈ،سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن اورڈپٹی سیکرٹری ایلمینٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ڈائریکٹر ایجوکیشن کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا، جسٹس قیصر رشید نے استفسار کیا کہ ڈائریکٹر ایجوکشن کہاں ہیں، ڈائریکٹر ایجوکیشن پیش نہیں ہوتے تو بھاری جرمانہ عائد کریں گے،اس موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ سال برائے 2020کیلئے نویں اور دسویں جماعت کا امتحان الگ الگ لیاجائے گاجبکہ سال 2021 میں صرف دسویں جماعت کا امتحان بورڈ لینے سے متعلق مشاورت کی جارہی ہے،جس پر جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ سال ختم ہونے والا ہے اور آپ لوگ اب کہہ رہے ہیں کہ امتحان بورڈ لے گا، محکمہ تعلیم کے بروقت فیصلہ نہ کرنے سے بچے اور انکے والدین پریشانی میں مبتلا ہیں۔عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ باربار پالیسیاں اور فیصلے بدلنے سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے لہذا ایک سال پہلے طلبہ اور والدین کو آگاہ کرنا چاہیے کہ پالیسی تبدیل کردی گئی تاکہ انہیں مشکلات پیش نہ ہوں،دورکنی بنچ نے کیس کی سماعت اگلی پیشی تک کیلئے ملتوی کردی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر