کشمیر اور پاکستان ایک دوسرے کے بغیر نامکمل، سردار مسعود خان 

  کشمیر اور پاکستان ایک دوسرے کے بغیر نامکمل، سردار مسعود خان 

  



لاہور(این این آئی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ریاست کی حکومت اسلامی تعاون تنظیم اور وفاقی حکومت کے تعاون سے کشمیر کی تاریخ و ثقافت اور اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ آزاد جموں و کشمیرکو اپنے قدرتی حسن، معتدل موسم اور روایتی مہمان نوازی کی وجہ سے سیاحوں کی جنت بنایا جا سکتا ہے جس کے لیے بتدریج ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ نا کافی سہولتوں کے باوجود ہر سال پندرہ لاکھ سے زیادہ سیاح آزاد کشمیر کا رخ کرتے ہیں جو ہمارے لیے نہایت حوصلہ افزا بات ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے یونیورسٹی آف لاہور کی زیر نگرانی قائم ہونے والی کشمیر انیشیٹیو سو سائٹی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی آف لاہور کے بورڈ آف گورنر کے چیئرمین اویس رؤف، یونیورسٹی کے ریکٹر مجاہد کامران، کشمیر انیشیٹیو سو سائٹی کے صدر منیر ظہور اور مس سحرش قمر بھی موجود تھی۔ صدر آزاد کشمیر نے اپنے خطاب میں کشمیر انیشیٹیو سو سائٹی کے قیام پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ پلیٹ فارم مستقبل میں پاکستان کے طلبہ کے لیے مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے نکتہ ارتکاز بنے گا کیونکہ اس کے مقاصد اور پروگرام بہت واضح ہیں۔ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ کشمیری گزشتہ 72 سال سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے یہ جدوجہد دو صدیوں پر محیط ہے۔ 1947ء سے لے کر اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ کشمیریوں نے بھارت کے ساتھ یا خود مختار رہنے کے آپشن کے باوجود پاکستان کے ساتھ ملنے کی تمنا میں پانچ لاکھ سے زیادہ جانوں کی قربانی دی۔ ہمارا یہ عزم ہے کہ یہ جدوجہد جاری ر ہے گی اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس جدوجہد کو ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی ہے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کے بغیر نا مکمل ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پورے مقبوضہ علاقے کے عوام کرفیو اور بھارتی فوج کے جبر کی وجہ سے خوراک، ادویات، پانی اور دوسری ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ تیرہ ہزار سے زیادہ نوجوانو ں کو گرفتار کر کے اُنہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کا تفصیلی ذکر نیشنل فیڈریشن آف انڈین وویمن نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے اور گرفتار نوجوانوں کے بارے میں اُن کے خاندانوں کو کوئی معلومات نہیں کہ اُنہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے پانچ اگست کے دن ایک غیر قانونی قدم اُٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کر کے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے اپنی کالونی میں بدل دیا۔ عوام کی مرضی اور منشاء کے بغیر اُٹھایا گیا بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی رو سے ایک جرم ہے۔قبل ازیں اپنے خطاب میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی رکن سحرش قمر نے کشمیر انیشیٹیو سو سائٹی کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھر کی جامعات اور کالجز کے طلبہ کو اس پلیٹ فارم پر متحد ہو کر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آواز کو دنیا تک پہنچانا چاہیے۔ 

سردار مسعود

مزید : صفحہ آخر