لاہور ہائیکورٹ نے 10 مئی 2019 ء سے قبل وفات پانے والے ملازمین کو اضافہ شدہ بنوویلنٹ فنڈز سے محروم کرنے کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روکدیا  

 لاہور ہائیکورٹ نے 10 مئی 2019 ء سے قبل وفات پانے والے ملازمین کو اضافہ شدہ ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے بنوویلنٹ فنڈ کے حوالے سے جاری نئے نوٹیفکیشن کے ایک خاص حصے پر عمل درآمد روک دیا۔جسٹس محمدامیر بھٹی نے سیدہ سفیرہ بتول کی درخواست پر نوٹیفکیشن کے جس حصے کو معطل کیا ہے اس میں 10مئی 2019ء سے قبل وفات پانے والے ملازمین کے ورثاء کو اضافہ شدہ ماہانہ گرانٹ سے محروم کیا گیا تھا۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے بنوویلنٹ فنڈ کے تحت ماہانہ گرانٹ 25 سو سے بڑھا کر 75 سو روپے کی ہے لیکن حکومت نے نوٹیفکیشن میں غیر قانونی نوٹ لکھ کر 10 مئی 2019 ء سے قبل وفات پانے والے ملازمین کو اضافہ شدہ بنوویلنٹ فنڈ سے محروم کردیا ہے، درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت نوٹیفکیشن میں موجود غیر قانونی نوٹ کو حذف کرکے تمام فوت شدہ ملازمین کے ورثاء کو اضافہ شدہ بنوویلنٹ فنڈ کا مستحق قراردے، عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب (چیئرمین بنوویلنٹ فنڈ بورڈ)، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (وائس چیئرمین بنوویلنٹ فنڈ بورڈ) اور سیکرٹری بنوویلنٹ فنڈ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے نوٹیفکیشن میں موجود نوٹ پر 15 روز میں تفصیلی جواب طلب لیا، عدالت نے مقدمے کی سماعت 13 جنوری تک ملتوی کردی۔

بنوویلنٹ فنڈز

مزید : صفحہ آخر


loading...