سانحہ پی آئی سی،ایس ایس پی آپریشن  پونے دو گھنٹے بعد موقع پر پہنچے

  سانحہ پی آئی سی،ایس ایس پی آپریشن  پونے دو گھنٹے بعد موقع پر پہنچے

  



لاہور(کر ائم رپو رٹر) پی آئی سی میں ایس ایس پی اور 2 ایس پیز کے سامنے توڑپھوڑ ہلڑبازی ہنگامہ آرائی ہوتی رہی لیکن ڈی آئی جی آپریشنزپو نے دوگھنٹے تاخیر سے آئے جبکہ سی سی پی اوموقع پر تشریف ہی نہ لائے۔ دوسری جانب وزیراعظم کے بھانجے کو پولیس کی گاڑی توڑنے اور آگ لگانے کی واضح فوٹیج کے باوجود مقدمے میں نامزد نہیں کیا۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز دوپہر بارہ بجے کے قریب وکلا پی آئی سی کا مرکزی دروازہ توڑ اندر داخل ہو گئے اور شدید ہلڑبازی اور توڑ پھوڑ کی جسکی وجہ سے تین اموات بھی ہوگئیں لیکن حکومت کی جانب سے کرائم کنٹرول اورلااینڈ آرڈرکی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے نئے تعینات ہونیوالے آئی جی اور لاہورپولیس کی نئی قیادت کو فری ہینڈ دینے کے باوجود یہاں کوئی ریاست کی رٹ نظرنہ آئی۔ اس میں پولیس نے سستی سے کام دکھایا کیونکہ اگرپولیس بروقت اقدام اٹھاتی تو معاملات افہام تفہیم نے نمٹائے جاسکتے تھے، لیکن ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی ماڈل ٹاون، ایس پی اقبال ٹاون کی موجودگی کے باوجود وکلا پی آئی سی کے اندر وقتاً فوقتاً ڈیڑھ گھنٹہ تک آزادانہ ہلڑبازی کرتے رہے۔ ڈیوٹی پرموجود پولیس حکام کا کہنا تھا کہ اعلی حکام کی جانب سے لاٹھی چارج سے منع کیا گیا تھا کہ وکلا یا ینگ ڈاکٹرز کیساتھ زور زبردستی نہ کی جائے۔اعلی قیادت کی بات کی جائے توڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر وکلا کی ہلڑبازی کے پونے دو گھنٹے بعد پہنچے اور وہاں پولیس کی جانب سے آنسوگیس کا استعمال بھی تب شروع ہوا جب وکلا اور پی آئی سی کا عملہ ایک دوسرے پراینٹیں برسانے لگے۔ پولیس پچھلے کئی دنوں سے وکلا کے احتجاجوں اوردھرنے کے باوجود معاملات حل نہ کرواسکی۔پولیس کی گاڑی کو جلانے کی ایف آئی آر میں سات وکلا کو نامزد کیا گیالیکن وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی کی گاڑی کے دروازے توڑنے کی واضح فوٹیج کے باوجود نامزد نہیں کیا گیا۔

پولیس کارکردگی

مزید : صفحہ آخر