اضافی ٹیکس نافذ ہوگا نہ زائرین کی تعدادمحدود کی جائیگی، حکومت کی شیعہ علماء کو یقین دہانی 

  اضافی ٹیکس نافذ ہوگا نہ زائرین کی تعدادمحدود کی جائیگی، حکومت کی شیعہ ...

  



لاہور(ڈویلپمنٹ سیل) شیعہ علماء کرام کے گزشتہ اجلاس کی تجویز کی روشنی میں وفاقی وزیر مذہبی امور دار الحکومت اسلام آبادایک اجلاس زیر صدارت ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور داؤد بریچ منعقد ہوا،ان کے ہمراہ وفد میں جوائنٹ سیکرٹری وزارت مذہبی امور زینت حسین بنگش،اسد اور امجد شامل تھے،اس اجلاس میں سندھ، پنجاب،بلوچستان،خیبر پختون خواہ،گلگت بلتستان سے تمام مشہور شیعہ کاروان سالاروں کے علاو ہ علامہ راجہ ناصر اور سربراہ مجلس وحدت مسلمین کے نمائندے اقبال بہشتی اور سید شہنشاہ حسین نقوی اور نمائند و ں نے شرکت کی،اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت مذہبی امور نے اجلاس میں موجود کاروان سالاروں سے زائرین کرام کی مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کو سہو لیات فراہم کرنے کیلئے تجاویز طلب کیں،میٹنگ میں موجود کاروان کے نمائندوں نے زائرین عامہ معصومین علیہ السلام کی ترجمانی کرتے ہوئے متفقہ طور پر حکومت پر واضح کیا کہ-1 موجودہ حکومت شیعہ زائرین کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے،لہٰذا کوئی بھی ایسا خود ساختہ قانون کسی بھی صورت میں شیعان حیدر کرار کیلئے قابل قبول نہیں ہو گاجس کی وجہ سے زائرین آئمہ معصومین علیہ السلام کی تعداد کو محدود کیا جا سکے،-2کسی بھی قسم کا کوٹہ سسٹم شیعان پاکستان کو منظور نہیں ہو گا،-3زیارات عائمہ معصوم علیہ السلام شیعہ مسلک کا مذہبی و ؎عقید تی مسئلہ ہے جس سے ہماری جذباتی وابستگی ہے ہم اپنا پیٹ کاٹ کر ہر مشکل حالات میں زیارات کیلئے مقامات مقدسہ جات ہیں لہٰذا ان پر کسی بھی قسم کے مالی بوجھ کا اضافہ قابل قبول نہیں ہو گا،-4جس طرح عمرہ پر جانے والوں کیلئے کوئی ٹیکس نہیں اسی طرح زیارات پر جانیوا لو ں کیلئے کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا،-5پاکستان ٹورازم کے قوانین کی موجودگی میں کوئی دوسرا خود ساختہ قانون شیعان علی پر مسلط نہ کیا جائے، -6فیملی ویزہ یا انفرادی ویزہ پر پابندی نہ لگائی جائے،-7زمینی راستے سے زیارات پر جانیوالے زائرین کیلئے جو زائرین امور کمیٹی وزارت مذہبی امور نے بنائی تھی وہ عملی طور پر مستعفی ہو چکی ہے اس کے باوجود ہر زائر سے آتے اور جاتے وقت بھتہ وصول کیا جاتا ہے،لہٰذافوری طور پر اس بھتہ خوری سسٹم کو ختم کرتے ہوئے ابتداء سے لے کر اب تک جو اس مد میں کروڑوں روپے جمع ہوئے ہیں اس کا اڈٹ کرایا جائے، -8تفتان روٹ پر انسانیت سوز مشکلات کا فوری خاتمہ کیا جائے اور بلوچستان داخلے پر پاکستانی باشندوں کیلئے ویزا(این او سی)کی شرط کو ختم کیا جائے،ہر ماہ 2کی جگہ4کا نوائے کیے جائیں،ایمگریشن میں لیڈیز عملہ تعینات کیا جائے،-9کرتار پور کا تجربہ سامنے رکھتے ہو ئے تفتان کو زائر سٹی بنایا جائے،کوئٹہ تفتان ریلوے ٹرین بحال کی جائے اور بلوچستان میں پاک ایران بارڈر کو زائرین کیلئے کھولا جائے، -10غیر ملکی ائیر لائنز کی اجارہ داری کو ختم کیا جائے اور قومی ائیر لائن کو مشہد،تہران اور نجف کیلئے چلایا جائے،آج کے اجلاس میں قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کے مطالبات کی روشنی میں وزارت مذہبی امور میں جس شیعہ ڈیسک کا قیام عمل میں میں آیا تھا جس کو سا بق حکومت نے ختم کر دیا تھا اس کی کمی کو آج شدت سے محسوس کیا گیا۔ایڈیشنل سیکرٹری نے میٹنگ کے خاتمہ پر یہ وعدہ کیا کہ آپ پر کوئی اضافی ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا،زائرین کی تعداد کو محدود نہیں کیا جائے گا اور ان کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ 

مزید : صفحہ آخر