عطیات نہ لینے کی ہدایت توہین عدالت، سپریم کورٹ

  عطیات نہ لینے کی ہدایت توہین عدالت، سپریم کورٹ

  



اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ نے وزارت توانائی کو واپڈا کے 200 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے سیکر یٹری پاور ڈویژن کو آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔سپریم کورٹ میں دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم عملدرآمد کیس کی سماعت ہو ئی۔ نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان میں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی، کوشش کریں مہمند ڈیم کا کام 2025 سے پہلے مکمل ہو جائے۔عطیات وصولی سے انکار پر عدالت نے نجی بینکوں پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ عطیات نہ لینے کی ہدایت دینے والے توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں، گورنرسٹیٹ بینک عطیات وصولی یقینی بنائیں۔ سپریم کورٹ نے سماعت سر د یوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔سپریم کورٹ نے دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈز کیس میں کہا ہے کہ معلوم ہوا ہے بیرون ملک سفارتخانوں میں ڈیم فنڈ کی بہت بڑی رقم پھنس گئی ہے،رکاوٹ دور کریں اور سفارتخانوں سے رقم واپس لائیں، شکایات ملی ہیں کہ فنڈ جمع نہیں ہو رہا ہے، ابھی تک اس پر کارروائی نہیں کی گئی،سٹیٹ بینک تمام شکایتیں اور رکاوٹوں کو دور کریں، پاکستان میں تمام بینک فنڈ کی ترسیل میں حائل رکاو ٹوں کو دور کریں،بہت زیادہ فنڈ بیرون ملک سفارتخانوں میں ترسیلات زر کے مسائل کی وجہ سے لٹک گئے ہیں، تمام سفارتخانوں سے رابطہ کرکے فنڈز کو وصول کیا جائے،گورنر سٹیٹ بینک عدالتی حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرائیں۔ جمعرات کو دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈز کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی۔ دور ان سماعت سپریم کورٹ میں ڈیم فنڈ کی سرمایہ کاری سے متعلق رپورٹ جمع کرادی گئی،نیشنل بنک کی جانب سے رپورٹ وجاہت قریشی نے جمع کرائی۔ نمائندہ نیشنل بنک نے کہاکہ بارہ ارب روپے کی رقم کی سرمایہ کاری کی ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آؤٹ سٹائنڈگ سرمایہ کاری کی رقم گیارہ ارب روپے ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ آپ نے بارہ ارب روپے کی دوبارہ سرمایہ کاری کی۔ نمائندہ نیشنل بنک نے کہاکہ جی، جو منافع آتا ہے پھر اسے سرمایہ کاری میں شامل کردیا جاتا ہے۔ حکام نیشنل بنک نے کہاکہ نیشنل بنک کے مطابق 21 نومبر کو دوبارہ سرمایہ کاری کی گئی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ یہ جو دوبارہ سرمایہ کاری کی ہے اس کا منافع کب آئیگا؟۔ نمائندہ نیشنل بنک نے کہاکہ 27 فروری 2020 تک اس کا منافع آجائے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ہمیں فنڈز جمع نہ ہونے سے متعلق متعدد شکایات ملی ہیں سٹیٹ بینک کو انہیں دیکھنا چاہئے۔ پتہ چلا ہے کہ نجی بینک فنڈز وصول نہیں کر رہے، یہ سپریم کورٹ کا حکم تھا کون اس پر عمل نہیں کر رہا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ کون سے بینک عدالتی حکم کی عدولی کررہے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ بیرون ملک پاکستانی ڈیم فنڈ میں رقم جمع کرانا چاہتے ہیں لیکن بینک وصول ہی نہیں کر رہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ تمام پاکستانیوں کو ڈیم فنڈ میں رقم جمع کرانے کی سہولت ہونی چاہیے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ تمام نجی بینکوں کو حکم تھا فنڈز وصول کرنے کا پھر کون اس پر عمل درآمد نہیں کر رہا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہامعلوم ہوا ہے کہ بیرون ملک سفارتخانوں میں ڈیم فنڈ کی بہت بڑی رقم پھنس گئی ہے،رکاوٹ دور کریں اور سفارت خانوں سے رقم واپس لائیں۔ عدالت نے کہاکہ شکایات ملی ہیں کہ فنڈ جمع نہیں ہو رہا ہے لیکن ابھی تک اس پر کارروائی نہیں کی گئی،سٹیٹ بینک تمام شکایتیں اور رکاوٹوں کو دور کریں، پاکستان میں تمام بینک فنڈ کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں۔ عدالت نے کہاکہ بہت زیادہ فنڈ بیرون ملک سفارتخانوں میں ترسیلات زر کے مسائل کی وجہ سے لٹک گئے ہیں، تمام سفارت خانوں سے رابطہ کرکے فنڈز کو وصول کیا جائے۔گورنر سٹیٹ بینک عدالتی حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرائیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ دو قبائل نے زمین کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ دور ان سماعت دو مقامی قبائل کے وکیل روسٹرم پر آ گئے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ عثمان خیل اور دوسرے قبیلے کو زمین پر اعتراض کیوں ہے؟۔ چیئر مین واپڈنے کہاکہ کے پی حکومت زمین کا مسئلہ حل کر رہی ہے، واپڈا کا زمین ایکوائر کرنے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔وکیل قبائل نے کہاکہ ڈیم کی 90 فیصد زمین ان دو قبائل کی ملکیت ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ وکیل صاحب آپ بھی زمین کی قیمت چار گنا وصول نا کریں۔ وکیل قبائل نے کہاکہ حکومت زمین کی صحیح قیمت ادا نہیں کر رہی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ آپ کی رقم کا مسئلہ ہم حل نہیں کر سکتے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ وکیل صاحب زمین واپڈا نہیں بلکہ کے پی حکومت ایکوائر کر رہی ہے۔ چیئر مین واپڈا نے کہاکہ حکومت نے مقامی قبائل کیساتھ معاہدے کے تحت  900 ایکڑ زمین خرید کر واپڈا کو دی ہے۔ عدالت نے کہاکہ عثمان خیل سمیت دو قبائل 90 فیصد زمین کے مالک ہیں جہاں ڈیم تعمیر ہو رہا ہے۔ عدالت نے کہاکہ 900 ایکڑ زمین ادائیگی کے بعد واپڈا کو منتقل ہو چکی ہے، کے پی حکومت زمین ایکوائر کرنے کی مجاز اتھارٹی ہے۔ عدالت نے کہاکہ مقامی قبائل زمین کے قیمت کے معاملے پر متعلقہ فورم سے رابطہ کریں اس حکم کے ساتھ عدالت نے درخواست نمٹا دی۔ چیئر مین واپڈا نے کہاکہ حکومت ہمارے 200 ارب روپے نہیں دے رہی، یہ 200 ارب سیکرٹری پاور کے پاس ہیں۔ عدالت نے سیکرٹری پاور اور سیکرٹری خزانہ کو واپڈا کے واجبات ادا کرنے کا حکم دیدیا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ یہ سادات انٹرپرائز کون ہے؟ آپ کو صرف نام استعمال کرنے کے پیسے کیوں دیں؟۔ انہوں نے کہاکہ آپ نے ٹھیکہ لے کر آگے دے دیا، یہ بندہ ڈیم میں کمیشن کھا رہا ہے،یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین واپڈا اس معاملے کو دیکھیں، یہ ڈیم قومی معاملہ ہے کسی کو کمیشن کیوں دیں؟۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ چیئرمین واپڈا اس غیرقانونی کام کے خلاف فوری کارروائی کریں اور رپورٹ جمع کروائیں۔ بعد ازاں کیس کی سماعت چار ہفتوں تک ملتوی کردی گئی۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ آخر


loading...