بنی گالہ کی عمارتوں کو ریگو لرائز کریں، کہیں چک شہزاد والا حاہ نہ ہو جائے: جسٹس عمر عطا ء بندیال

    بنی گالہ کی عمارتوں کو ریگو لرائز کریں، کہیں چک شہزاد والا حاہ نہ ہو جائے: ...

  



اسلام آ باد(آن لائن)سپریم کورٹ نے بنی گالہ کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی،جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنی گالہ کی تمام عمارتوں کوریگولرائزکریں، ایسانہ ہوچک شہزادوالاحال بنی گالہ میں بھی ہوجائے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں بنی گالہ کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،ممبرپلاننگ سی ڈی اے نے کہا کہ 3 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس پرکام شروع کردیا،پلانٹس پر 4 ارب روپے لاگت آئیگی،بنی گالہ میں انٹرنل سیوریج نیٹ ورک بنارہے ہیں۔ممبرپلاننگ سی ڈی اے نے کہا کہ ماسٹرپلان نظرثانی کیلئے عالمی کنسلٹنٹ ہائرکررہے ہیں،وزارت منصوبہ بندی سے بھی رائے لینی ہے،عدالت کے تمام احکامات کوبھی مدنظررکھاجارہاہے،جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ہم نے رائے دی،حکم نہیں،اپناذہن استعمال کریں۔جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ بنی گالہ کیازون 3 میں آتاہے؟ممبرپلاننگ نے کہا کہ بنی گالہ زون نمبر 4 میں آتاہے،ماسٹرپلان کی نظرثانی میں 6 سے 8 ماہ لگ سکتے ہیں،ماسٹرپلان نظرثانی کیلئے عالمی کنسلٹنٹ ہائرکررہے ہیں،جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ کتناپانی راول ڈیم میں جارہاہے؟اندرونی سیوریج کانظام کب تک مکمل ہوگا،ممبرپلاننگ نے کہا کہ وزرات منصوبہ بندی سے بھی رائے لینی ہے،عدالت کے تمام احکامات کوبھی مدنظررکھاجارہاہے، عدالت نے بنی گالہ کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی۔

بنی گالہ کیس

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے اٹھارویں ترمیم کے بعد ٹرسٹ ہسپتالوں کی صوبوں کو منتقلی سے متعلق کیس کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستوں پر حکومت کو چھ ہفتوں میں ہسپتالوں سے متعلق پلان پیش کر نے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ حتمی فیصلہ ہونے تک ہسپتالوں کو فنڈز دے کر فنکشنل رکھا جائے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں اٹھارویں ترمیم کے بعد ٹرسٹ ہسپتالوں کی صوبوں کو منتقلی سے متعلق کیس کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستوں پر سماعت پر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی۔ دور ان سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ یہ تمام ہسپتال ہمارا اثاثہ ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو حکومتی موقف پیش کرنے کا کہا تھا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ وفاقی حکومت شیخ زید اور این آئی سی وی ڈی سمیت پانچوں ہسپتال صوبوں کو واپس کرنا چاہتی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث عملدرآمد نہیں ہوپارہا۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ حکومت صرف ان پانچ ہسپتالوں کو نہیں بلکہ تمام ٹرسٹ ہسپتالوں کو دیکھے۔ درخواست گزار ڈاکٹرز نے کہاکہ  تنخواہیں نہیں مل رہی نہ ہی پنشن دی جاری ہے۔وکیل پنجاب حکومت نے کہاکہ شیخ زید کو فنڈ فراہم کر دیا ہے۔ وفاقی سیکرٹری نیشنل ہیلتھ نے کہاکہ سندھ کے ہسپتالوں کو بھی فنڈ سمیت دیگر مراعات دیں گے۔معاون خصوصی ہیلتھ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا جائیگا،عدالت چھ ماہ کا وقت دے تمام مسائل حل کریں گے۔وکیل سندھ حکومت فارو ق ایچ نائیک نے کہاکہ سندھ حکومت کو وفاق کوئی فنڈ نہیں دے رہی ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ ہم تمام مسائل کو باریک بینی سے دیکھیں گے،ہم چاہتے ہیں تمام ہسپتال فنکشنل رہیں اور ڈاکٹروں کو تنخواہیں بھی دی جائیں۔ عدالت نے کہاکہ سندھ حکومت اور وفاق نے مزید وقت مانگا،وفاقی سیکرٹری ہیلتھ نے معاملات حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ عدالت نے کہاکہ 6 ہفتوں میں حکومت ہسپتالوں سے متعلق پلان پیش کرے،حتمی فیصلہ ہونے تک ہسپتالوں کو فنڈز دے کر فنکشنل رکھا جائے،وفاق اور صوبے تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔ بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ سال مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر د ی گئی۔

ہسپتالوں کی منتقلی

مزید : صفحہ آخر