کالے کوٹ میں دہشت گرد

کالے کوٹ میں دہشت گرد
 کالے کوٹ میں دہشت گرد

  



گیارہ دسمبر کی دوپہر، جب باہر موسم سرد معلوم ہو رہا تھا، اپنے گرم کمرے میں بیٹھے بیٹھے ٹی وی کھولا تو پنجاب انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) کے باہر کا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔پہلے تو کچھ سمجھ میں ہی نہ آیا کہ یہ کون سا قہر نازل ہوا ہے، جوق درجوق کالے کوٹوں میں ملبوس ایک عجیب و غریب مخلوق جوبظاہر حلیے سے تو انسان لگ رہی تھی،لیکن حرکات حیوانوں سے مشابہہ معلوم ہو رہی تھیں۔ لیکن نہیں، حیوانوں کے بھی کوئی اصول ہوتے ہوں گے،کوئی اخلاقیات ہوں گی، مخلوق دندناتی ہوئی پی آئی سی کے اندر باہر گھوم رہی تھی،پتھراؤ کر رہی تھی، جنگلے توڑ رہی تھی، نعرے لگا رہی تھی، ڈنڈے برسا رہی تھی اورتو اور اس کے ہاتھ میں اسلحہ بھی تھالیکن کسی میں ہمت نہیں تھی کہ اس کو روک لیتا۔

ایک اور منظر میں وہی مخلوق پولیس کی گاڑی کو آگ لگانے کے بعد اس کے بونٹ پر کھڑی شان سے ہاتھ بلند کر رہی تھی، جیسے کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو۔ آنکھیں یقین کرنے سے قاصر تھیں کہ یہ لاہور کے ایک ہسپتال کی صورتحال ہے، یوں معلوم ہو رہا تھا کہ نقارہ جنگ بج گیا ہو لیکن نہیں جنگ میں بھی اتنی انسانیت تو قائم رکھی جاتی ہے کہ کسی صورت بھی ہسپتال پر حملے کرنے کی اجازت نہیں ہوتی،وہی تو محفوظ ترین جگہ سمجھی جاتی ہے۔ ہسپتال پر حملہ کرنے کے لئے اسرائیل جیسا سخت دل ہونا چاہئے۔ پھر جب دوبارہ غورسے دیکھا اور خبروں کی تفصیل سنی تو معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارے ملک کے’عظیم وکلاء‘ ہیں،

’پڑھے لکھے لائسنس یافتہ دہشت گرد‘۔ان کے اس احتجاج کے سامنے تو بڑے بڑے احتجاج بھی چھوٹے پڑ گئے، وہ لاہور ہائیکورٹ سے چلے اور ایسی شان سے چلے جیسے یہ ملک ان کی ذاتی جائیداد ہے،قہقہے لگاتے، جگتیں مارتے، پھبتیاں کستے پی آئی سی پہنچ گئے، کوئی مائی کا لعل انہیں روک نہیں سکا۔وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر چلاتے رہے اور انتظامیہ، حکومتی ادارے سب خاموش تماشائی بنے رہے۔

ان درندوں کا دل کیا وہ پی آئی سی پر دھاوا بول دیں، سو انہوں نے بول دیا، ہسپتال کے تو باہر بھی ہارن بجانے کی اجازت نہیں ہوتی کجا کہ اس کو میدان جنگ بنا دیا جائے۔ معلوم ہوا دل کے مریضوں کے جو آپریشن ہو رہے تھے وہ رک گئے، پانچ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس کے علاوہ جو بھی نقصان ہو ا وہ الگ، ڈاکٹر، نرس اور دوسرا سٹاف اپنی جان بچانے کے لئے جو راہ سوجھی ا سی پر ہو لئے۔یہ قیامت کی وہی گھڑی ہو گی جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی کوئی پرواہ نہیں ہو گی۔

مجھے یہ نہیں جاننا کہ ڈاکٹر اور وکیلوں کے درمیان آخر تنازع کیا تھا، مجھے اس سے بھی غرض نہیں کہ یہ معاملہ شروع کیسے ہوا، اس میں بھی دلچسپی نہیں کہ کون صحیح ہے کون غلط، مجھے صرف اس ’شیطانی دماغ‘ کی کھوج ہے جس کے کسی کونے میں یہ خیال بھی آ سکتا ہے کہ بدلہ لینے کے لئے ہسپتال پر حملہ کر دینا چاہئے، مجھے اس کو اس ’تدبیر و منصوبہ بندی‘کی داد دینا مقصود ہے، ہار پہنانے ہیں، اس کی نذر اتارنی ہے، آخر ایسا کارنامہ سر انجام دینا بھلا کسی عام آدمی کے بس کی بات کہاں، اس کو تو بیچ چوراہے’تمغے‘ سے نوازنا چاہئے۔

افسوس صد افسوس، ہم اس معاشرے کے باسی ہیں جہاں سے انسانیت مکمل طور پر رخصت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، جہاں روز کسی بچی کی عزت لٹتی ہے تو کوئی غیرت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، کسی بچے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر کوڑا سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے، یہاں سب سے سستی انسانی جان ہے۔ یہ کیسا دیس ہے،جہاں کبھی سکول پر حملہ ہوتا ہے، کبھی مسجدپر، کبھی مندر پر، کبھی گرجوں پر اور اب تو ہسپتال تک نوبت جا پہنچی ہے،

کیا یہی دن دیکھنے کے لئے وکلاء اور عدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑی گئی تھی۔پہلے تو ’پر امن احتجاج‘ میں صرف سرکاری املاک کو نقصان پہنچا یا جاتا تھا،میٹر و بس پر غصہ نکلتا تھا، ٹائر جلائے جاتے تھے، عمارات پر اینٹیں برسائی جاتی تھیں لیکن اب تو نیا زمانہ ہے ’سرکاری املاک‘کے ساتھ ساتھ ’سرکاری انسان‘ کو بھی بھینٹ چڑھانے کی روایت قائم ہو گئی ہے۔ظاہر ہے جو غریب انسان، سرکاری ہسپتال میں پڑا علاج کرائے گا، وہ ’سرکاری‘ ہی تو ہوگا نا، سرکار کی ملکیت۔

جب اے پی ایس، پشاور پر حملہ ہوا تھا، توگمان ہوا کہ یہ ملک کی تاریخ کا بدترین دن ہے،اس سے برا، بھلا اور کیا ہو گا،یہ تو کبھی بھلائے نہیں بھولے گالیکن ہسپتال پر حملہ دیکھ کر تو دل دہشت زدہ اور وحشت زدہ ہے، کیا اتنا تاریک بھی کوئی دن ہو سکتا ہے، اگرکبھی اس سے بھی برا دن دیکھنا پڑا تو وہ کیسا ہو گا؟

یہ ملک ہمارا ہے، یہ ہسپتال سرکاری ہے کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے،کس نے ان ’دہشت گردوں‘کو حق دیا کہ وہ ہسپتال کے اندر گھس جائیں، نرسوں، ڈاکٹروں کو تشدد کا نشانہ بنائیں، لاچار مریضوں کو ’بلی کا بکرا‘ بنائیں، کروڑوں کی مشینری بیکار کردیں۔اس دنگے فساد میں ہونے والے نقصان کی بھرپائی کون کرے گا ور کیسے کر ے گا؟ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جنگل سے بھی بدتر قانون رائج ہے بلکہ شائد قانون نام کی کسی چیز کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، تبھی تو نام نہاد قانون کے رکھوالے، قانون ہاتھ میں لئے دندنا رہے ہیں، کل کو کہہ دیا جائے گا کہ وکلاء کے لباس میں کرائے کے غنڈے تھے۔

ہمیں حکومت اور اس کی کوئی حکومتی رٹ کیوں نظر نہیں آئی، فیاض الحسن چوہان کو بھی ’ڈرا دھمکا‘ کر وہاں سے بھگا دیا گیا،ہم صرف یہی سن رہے ہیں کہ نوٹس لیا جا رہا ہے، تحقیقات ہو رہی ہیں۔ کیسا نوٹس؟کیسی تحقیقات؟ سب کی شکلیں ویڈیوز میں صاف نظر آ رہی ہیں، کیا کسی شک کی کوئی گنجائش ہے؟ کسی میں ہمت ہے کہ ان’قانونی دہشت گردوں‘کو کڑی سے کڑی سزا دے اور عبرت کا نشان بنا دے۔ ماضی کے تجربات دیکھ کر تو ایسا نہیں لگتا کہ ایسا کچھ بھی ہو گا، کچھ دن تبرہ ہو گا پھر دعوے ہوں گے اور الزامات لگائے جائیں گے، سب کے جذبات ٹھنڈے ہو جائیں گے اور قصہ بھی پرانا ہو جائے گا۔ پہلے ہم بازار جاتے ہوئے ڈرتے تھے، پھر مسجد جاتے ہوئے دل گھبرانے لگے، ایک وقت آیا سکول مقتل لگنے لگے اور اب ہسپتال کا رخ کرتے ہوئے بھی مرنے سے پہلے موت کا خیال ستائے گا۔

مزید : رائے /کالم