مجرم کون؟وکیل،ڈاکٹر یا پولیس

مجرم کون؟وکیل،ڈاکٹر یا پولیس
 مجرم کون؟وکیل،ڈاکٹر یا پولیس

  



جب صاحب علم جاہل بن جائے تو تباہی آتی ہے اور معاشرہ برباد ہو جاتا ہے ،یہ ہولناک تباہی بدھ کے روز پاکستان کے دل لاہور کے دل ہسپتال میں دیکھنے کو ملی۔ہسپتال جہاں جنگوں میں بھی بمباری کو قابل نفرت جرم سمجھا جاتا ہے بلکہ انسانیت کے خلاف جرم تصور کیا جاتا ہے پر ایک تعلیم یافتہ طبقہ نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دھاوا بولا،اور یہ طبقہ صرف تعلیم یافتہ نہیں بلکہ شیریوں کو انصاف دلانے میں بھی مددگار ہے،سوچیں جب انصاف کی فراہمی میں معاون طبقہ خود نا انصافی پر اتر آئے تو ملک و قوم کا سر شرم سے کیوں جھک نہ جائے اور ایسا ہی ہوا،پوری قوم چند نادانوں کی حرکت پر عالمی برادری میں شرمندہ ہے۔

سوال یہ کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ ڈاکٹر، وکلاء،پولیس،صوبائی حکومت،ضلعی حکومت یا سول سوسائٹی،پولیس کو جب ایکشن لینا تھا تب وہ وکلاء کی ریلی کو اپنے حصار میں ہسپتال تک بحفاظت لائی،وکیل گیٹ توڑ کر جب ہسپتال کی حدود میں داخل ہوئے خاموش رہی اندر گھس کر کھڑکیوں دروازوں کے شیشے توڑے،واک تھرو گیٹ اکھاڑ کر پھینک دیا،ایمرجنسی آئی سی یو وارڈ میں گھس کر ڈاکٹروں اور عملہ پر تشدد کیا، مریضوں کی آکسیجن اتار دی آکسیجن سپلائی کرنے والی پائپ لائن اکھاڑ دی،آپریشن تھیٹر میں گھسنے کی کوشش کی جہاں مریضوں کے آپریشن جاری تھے،گملے توڑے فرنیچر الٹا مگر پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی،کم از کم تین مریض علاج کی سہولت نہ ملنے سے جان سے گئے،مگر پولیس افسر جو موقع پر موجود تھے ہاتھ پر ہاتھ دھرے نظارہ کرتے رہے،پنجاب حکومت کی نمائمدہ صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین موقع پر آئیں مگر ان کو ہسپتال میں داخل ہونے دیا گیا نہ وکیل رہنماؤں نے ان سے بات کرنا گوارا کی دوسرے وزیر فیاض الحسن چوہان آئے تو ان کو دھر لیا گیا ان کو جان بچا کر بھاگتے بنی،مگر پولیس کے کانوں پر جوں نہ رینگی۔

وزیراعظم کے نوٹس لینے پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو بھی ہوش آیا اور انہوں نے سخت ایکشن لینے کا حکم صادر کر دیا جس کے بعد موقع پر موجود تماشائی اہلکاروں نے فوٹیج دیکھ کر ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کی گرفت میں لانے کی بجائے ڈسٹرکٹ بار کے ممبر وکلاء کی فہرست حاصل کی اور سب کے گھروں میں چھاپے مار کر ان کو اٹھا لیا اور نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا،جرم بیگناہی میں پکڑے گئے وکلاء کے لواحقین ساری رات اور اگلے دن اپنی عزیزوں کو تلاش کرتے رہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب تب سوئے ہوئے تھے جب ہسپتال میں غنڈہ گردی جاری تھی،پولیس افسران جن کو خفیہ والوں نے پہلے ہی اطلاع دیدی تھی کہ ہسپتال میں بلوہ ہو گا مگر پولیس نفری وکیلوں کو اپنی سکیورٹی میں ہسپتال تک لائی،اس صورتحال میں وکلاء نے تو جرم کیا مگر تساہل اور تغافل برت کر پنجاب حکومت اور پولیس بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہو گئی،سچ یہ ہے کہ جو پولیس افسر اور اہلکار وہاں ڈیوٹی پر مامور تھے وہ خوفزدہ تھے،عوام کو سکیورٹی دینے کے بجائے اپنی سکیورٹی بارے فکر مند تھے۔

وکیل تو جو کچھ کرتے رہے وہ سب کے علم میں ہے مگر بدھ کے روز انہوں نے اپنے پیشہ، اخلاق، قانون، انسانیت کی ہر دیوار پھلانگ لی،مگر ڈاکٹر بھی کسی طور کم نہیں وہ بھی جب اکٹھے ہوتے ہیں تو ہر حد پار کر جاتے ہیں،معاملہ شروع ہوتا ہے جب چند روز پہلے ایک وکیل دوستوں کے ساتھ علاج کرانے پنجاب کارڈیالوجی آیا پروٹوکول نہ ملنے پر اس کی ڈاکٹروں اور عملہ سے تو تو میں میں ہو گئی،معاملہ بار تک پہنچا،پولیس اس موقع پر بھی تماشا دیکھتی رہی،کئی دن کے تنازع کے بعدڈاکٹروں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں معذرت کر لی،معاملہ ختم ہو گیا،پیر کے روز ڈاکٹر عرفان نے اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی،جس میں وکلا کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ بھی شامل تھے،وکیل اس پر مشتعل ہو گئے اور یہ سانحہ رونما ہو گیا،بات بہت معمولی تھی،مل بیٹھ کر جیسے پہلے قضیہ حل کیا گیا اب بھی کیا جا سکتا تھا یا قانوندان اس معاملہ پر خود کوئی فیصلہ لینے کے بجائے عدالت سے رجوع کر لیتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔

ڈاکٹر ریاست کے ملازم ہیں انہیں سرکار سے کوئی مسلۂ ہوتا ہے یا حقوق کی بات ہوتی ہے تو بجائے سڑکیں بلاک اور ہڑتال کرنے کے بات چیت سے مسلۂ حل کیا جا سکتا ہے مگر ینگ ڈاکٹرز کو ہر مسلئے کا حل ہڑتال اور احتجاج میں دکھائی دیتا ہے،وکیل اگر چہ سرکاری ملازم نہیں مگر عدالتی معاون ہوتے ہیں ان کا رویہ بھی وہی ہے،ان کو بگاڑنے میں اہم کردار سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کا ہے جو ان کو اپنی سپاہ قرار دیتے تھے،ان کے خلاف ہر مقدمہ کا فیصلہ ان کے حق میں دیتے،افتخار چودھری کی بحالی کے بعد وکیل پریشر گروپ بن گئے،ینگ ڈاکٹرز بھی پریشر گروپ ہی ہیں مگر حکومت نے طلبا یونینوں پر عدالتی حکم کے باوجود پابندی عائد کئے رکھی تو ڈاکٹرز اور وکیلوں کی تنظیموں کو اتنی چھوٹ کیوں دی جا رہی ہے،پابندی نہیں تو کم از کم ان کے احتجاج کو محدود کیا جا سکتا ہے کسی ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔

عدالتی معاون اگر قانون خود ہاتھ میں لینا جائز قرار دے لیں اور مسیحا مسیحائی کے بجائے موت کے سوداگر بن جائیں تو افسوس کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے،مگر یہ لوگ تنہا اس صورتحال کے ذمہ دار نہیں سیاسی جماعتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں جو ان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی رہی ہیں،خاص طور پر ن لیگ ہر دور میں ان کا سیاسی استعمال کرتی رہی،نتیجے میں یہ دونوں طبقے کنٹرول سے باہر ہو گئے،مگر اس صورتحال سے پنجاب حکومت کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا،بد انتظامی بھی اس سانحہ کی بڑی وجہ ہے،وکیلوں کی طرف سے پرتشدد احتجاج کی اطلاع ہونے کے باوجود احتیاطی تدابیر بروئے کار نہیں لائی گئیں۔

پنجاب حکومت سوئی رہی اور پولیس خاموش تماشائی بنی تماشہ دیکھتی رہی،یہ دونوں کسی کے ایجنٹ یا مددگا نہ بھی ہوں تو اپنے فرائض منصبی کی ادائگی میں کوتاہی کے مجرم ضرور ہیں،وکیل تو ثابت شدہ مجرم ہیں مگر جس ڈاکٹر نے دبی چنگاریوں کو ہواء دی اس کیخلاف اگر فوری ایکشن لیا جاتا تو احتجاج تک نوبت آتی ہی نہیں،مگر کسی حکومتی ذمہ دار نے اس کا ادراک نہ کیا،پولیس اگر وکلاء کو وہیں روک دیتی جہاں سے وہ چلے تھے تو بھی اتنا جانی مالی نقصان برداشت نہ کرنا پڑتا،اعلیٰ پولیس افسر خود وکیل رہنماؤں سے رابطہ کرتے اور انہیں ڈاکٹر عرفان کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی کراتے تو معاملہ کو وہیں دفن کیا جا سکتا تھا،مگر ہماری حکومتوں اور پولیس کا یہ مزاج بن چکا ہے کہ پانی سر سے گزرنے دو پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے خواہ تب تک پانی بہت کچھ ساتھ بہا لے جائے،اب دیکھنا ہے کہ جن لوگوں کی جانیں اس احتجاج کی نذر ہوئیں ان کے لواحقین کو کیا اور کون انصاف دیتا ہے اور جو مالی نقصان ہوا ہے اس کا ازلہ کیسے کیا جاتا ہے،بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ یہ نقصان موقع پر موجود پولیس افسروں اور اہلکاروں کی تنخواہ سے پورا کیا جائے، پنجاب حکومت کے ذمہ داروں کو بھی معاف نہ کیا جائے،جو بیگناہ وکیل گرفتار ہیں ان کو فوری رہا کیا جائے اور ڈاکٹر عرفان کیساتھ ذمہ دار وکیلوں کو بھی کٹہرے میں لایا جائے ورنہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہونگے۔

مزید : رائے /کالم