سردی کی شدت میں اضافہ ‘ لُنڈا بازار میں شہریوں کا رش

  سردی کی شدت میں اضافہ ‘ لُنڈا بازار میں شہریوں کا رش

  



ملتان(نیوز رپورٹر) ماہ دسمبر کی پہلی بارش نے شہریوں کو ٹھٹھرا کررکھ دیا اس یخ بستہ سردی سے بچنے کے لئیے شہر میں لنڈے(استعمال شدہ)کے کپڑوں اور دیگر سامان کی مانگ بے تحاشابڑھ گئی ہے ۔ دکانوں اور ریڑھیوں پر خواتین سمیت شہریوں کے رش میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ دکانداروں نے زیادہ منافع کمانے کے لالچ میں گرم کپڑوں وغیرہ کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیا ہے ۔ قیمتوں میں اضافہ کا رجحان غالب آنے سے سفید پوش طبقے اور غریب شہریوں کے لئے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ ملک میں سردی (بقیہ نمبر15صفحہ12پر )

کی حالیہ لہر کے باعث موسم میں شدت آگئی ہے ۔ جس پر شہریوں نے لنڈے بازاروں کا رخ کر لیا ہے اوراستعمال شدہ کپڑوں کی خریداری کا کام شروع کر دیا ہے ۔ گزشتہ روز حسین آگاہی،گھنٹہ گھر،اندرون شہر،گردیزی مارکیٹ،دہلی گیٹ،حافظ جمال روڈ، سمیت مختلف علاقوں میں لنڈے کے کپڑوں کی خریداری کے کام میں رش رہا ۔ شہریوں اورخواتین کی بڑی تعداد استعمال شدہ کپڑوں کی خریداری کا کام کرتی رہی ۔ لنڈے بازاروں میں سوئیٹر،جرسی،کوٹ،اپر،جوگر،ٹوپی،مفلر،ٹراءوزر،دستانوں وغیرہ کی خریداری کا کام سب سے زیادہ ہے ۔ خریدارں محمد اسحاق،ندیم،ملک رسول، ظفر، فرید احمد،آصف،نعیم،محمد علی،محمد طلال،رحمت خان،میاں اسلام دین،افراہیم نے بتایا کہ سردی کی شدت بڑھتے ہی دکاندارگرم کپڑوں کی قیمتوں میں من پسند اضافہ کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے صارفین نے پاکستان کو بتایا کہ گزشتہ سال کی نسبت لنڈے کے کپڑوں کی قیمتوں 25 سے 30 فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے جو کہ افسوسنا ک ہے ۔ خریداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کرنے والے دکانداروں کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔

لُنڈا بازار

مزید : ملتان صفحہ آخر