افغان جنگ بارے امریکی جھوٹ کا پردہ چاک

افغان جنگ بارے امریکی جھوٹ کا پردہ چاک
افغان جنگ بارے امریکی جھوٹ کا پردہ چاک

  



امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان کو شکست دینے میں ناکام ہو گئے ہیں ۔ افغانستان میں امریکہ یکسر ناکام ہو چکا ہے ۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ شاءع کی ہے جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ امریکا، افغانستان میں کنٹرول کھو چکا ہے اور امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کے زیر کنٹرول اضلاع کی تعداد کم ہو رہی ہے ۔ اس کے مقابل ان علاقوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن پر طالبان کا قبضہ یا اثر و رسوخ ہے ۔

واشنگٹن پوسٹ نے افغان جنگ سے متعلق امریکا کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکی حکام نے افغانستان میں جیت کا تاثر دینے کیلئے حقائق بدلے ۔ اخبار نے افغان جنگ کے متعلق دو ہزار صفحات پر مشتمل خفیہ دستاویز کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ پر ایک کھرب امریکی ڈالر خرچ ہوئے ۔ خواتین سمیت 2300 فوجی ہلاک اور 20 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ۔ افغان جنگ سے قبل کئے جانے والے تمام سروے ناقابل اعتماد اور ان کا مقصد امریکا کی جیت دکھانا تھا ۔ رپورٹ میں امریکی فوجی افسروں اور اہلکاروں کے انٹرویوز بھی شامل ہیں ۔ اخبار نے یہ دستاویزات جنگی اخراجات اور نا اہلی کا محاسبہ کرنے والے سرکاری ادارے ’’ اسپیشل انسپکٹرجنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن ’’ سے حاصل کی ہیں لہذا یہ مصدقہ دستاویز ہیں ۔

امریکا کو افغانستان میں آئے تقریباً 17 سال ہوچکے لیکن اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اب تک وہاں امن و امان قائم نہیں کیا جاسکا ۔ سینٹرفار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیزکے اعداد وشمار کے مطابق 2001 سے اب تک امریکا افغانستان میں تقریباً 841 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے ۔ جس میں 110 ارب ڈالر مالی امداد کی مد میں دیئے گئے ۔ جس میں افغان فورسزکی تعمیر نو، اقتصادی امداد اور منشیات کنٹرول کرنے کے منصوبے شامل ہیں ۔ اگر اس میں دیگر اخراجات بھی شامل کرلیے جائے تو امریکا کا افغانستان جنگ پر خرچہ 20 کھرب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے ۔

اس عرصے میں امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کو دیکھا جائے تو 2001 میں 13سو امریکی فوجی افغانستان میں اترے جس کے بعد اگست 2010 میں یہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور اب بھی امریکی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان میں موجود ہے ۔ لیکن افغانستان سے اب تک نہ تو شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ہوا، نہ ہی کرپشن ختم ہوئی اور نہ ہی اقتصادی طور پر کوئی بہتری آئی ۔ افغان حکومت کی رٹ تمام تر سپورٹ کے باوجود صرف 60 فیصد رقبے پر قائم ہے اور افغانستان کے 34 میں سے 16 صوبے ایسے ہیں جن میں کہیں افغان طالبان کا مکمل تو کہیں جزوی کنٹرول ہے جب کہ بعض صوبے ایسے ہیں جہاں ان کا اچھا خاصا اثر و روسوخ موجود ہے ۔ امریکا کی ناکامیوں کی فہرست یہیں نہیں رکتی کیونکہ افغانستان میں دہشتگردی کی وارداتوں میں بھی مستقل اضافہ یکھا جارہا ہے ۔ افغانستان میں مضبوط حکومت کے قیام کی امریکی پالیسی احمقانہ عمل تھا ۔ ایک تہائی بھرتی افغانی اہلکار نشے میں مبتلا یا طالبان سے تعلق رکھتے ہیں ۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ معلومات اس وقت سامنے آئیں ہیں جب امریکہ طالبان کے ساتھ جنگ کے پرامن تصفیے کے لیے دوحہ میں مذاکرات کررہا ہے ۔ امریکا، افغانستان میں واضح اہداف نہ ہونے کی وجہ سے جنگ ہار رہا ہے ۔ کیونکہ کچھ امریکی عہدے دار جنگ کے ذریعے افغانستان کو جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں جبکہ بعض چاہتے ہیں کہ افغانستان کی ثقافت کو تبدیل کرکے خواتین کے حقوق کو بلند کیا جائے ۔ کچھ امریکیوں کے خیال میں پاکستان، بھارت، ایران اور روس کے مابین علاقائی طاقت کے توازن کو نئی شکل دینا بہتر ہوگا ۔

بہرحال اعلیٰ امریکی حکام نے تقریباً 20 سال کی کوشش میں ناکامی کے امکان کو چھپانے کے لیے افغانستان کی جنگ کے بارے میں امریکی عوام کو گمراہ کیا ۔ امریکی فوجی آج تک یہ نہیں بتا سکے کہ وہ کس سے لڑ رہے ہیں اور کیوں لڑ رہے ہیں ۔ کیا القاعدہ دشمن تھی یا طالبان;238; کیا پاکستان دوست تھا یا مخالف;238; دولت اسلامیہ اور غیر ملکی جہادیوں کی صفوں کا کیا ہوگا ۔ سی آئی اے کے تنخواہ پر جنگجووں کو چھوڑ دو

افغانستان پر امریکی حملے کے درست یا غلط ہونے پر امریکی قوم منقسم ہے اور 49 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ واشنگٹن افغانستان میں مقاصد حاصل نہیں کر پایا ۔ 16 فیصد امریکی اس ابہام کا شکار ہیں کہ افغانستان میں امریکا کامیاب ہوا یا ناکام ۔ 2009 سے 2011 تک امریکیوں کا خیال تھا کہ امریکا اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگا لیکن اس میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور 2014 اور 2015 میں مثبت سے زیادہ منفی ردعمل سامنے آئے ۔

رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز کی اپنی تحقیق اور امریکی حکومت کو عالمی ایڈ ایجنسیوں سے ملنے والے اعداد وشمار سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی حکومت افغانستان بارے جھوٹ بولتی ہے ۔ امریکی حکومت کہتی ہے کہ طالبان کو افغانستان کے 44 فیصد اضلاع میں کنٹرول حاصل ہے جبکہ نیویارک ٹائمز کا دعوی ہے کہ جنگجوں کو دراصل 61 فیصد علاقے میں مکمل اثر ورسوخ حاصل ہے ۔ اکتوبر 2001 میں امریکی آمد کے بعد سے 2017کے بعد طالبان کو افغان علاقوں میں سب سے زیادہ کنٹرول حاصل ہوا ۔ تقریبا 2 ہزار 200 امریکی افغان جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں اور واشنگٹن 40 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم لگا چکا ہے ۔ افغان جنگ مہنگی ترین جنگ ثابت ہورہی ہے ۔ موجودہ لگنے والی رقم مارشل پلان سے زیادہ جس کے تحت جنگ عظیم دوم کے بعد یورپ کو ازسرنو تعمیر کرنے کے لیے درکار تھی ۔

ایک امریکی افسر نے انٹرویو میں کہا کہ ہم نے افغانستان کے تاریخی پس منظر کا مطالعہ ہی نہیں کیا اور وہاں اپنے جیسا با اختیار مرکزی حکومت کا نظام لانے کی کوشش کی جبکہ وہاں ڈھیلے ڈھالے مرکزی نظام کے ساتھ علاقائی طاقتور حکومتیں رہی ہیں ۔ امریکا نے افغانستان میں سماجی نظام تبدیل کرنے کے لیے تقریباً 138 ارب ڈالر خرچ کرڈالے مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ اتنی رقم سے جنگ عظیم کے بعد آدھے یورپ کی معیشت کو بحال کردیا گیا تھا ۔

مزید : رائے /کالم


loading...