قرآن مجیدکے درآمدی پیپر پرسیلزو ایڈیشنل سیلزٹیکس کافیصلہ واپس لیاجائے

قرآن مجیدکے درآمدی پیپر پرسیلزو ایڈیشنل سیلزٹیکس کافیصلہ واپس لیاجائے

  



موجودہ حکومت نے پاکستان کو پہلی بار ریاست مدینہ بنانے کی بات کی ہے ۔ حکومت سے اگرچہ لوگوں کوبہت سی شکایات بھی ہیں ، تاہم حکومت کے بہت سے اچھے اقدامات بھی ہیں ، جن کا سراہا جانا ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں ایک اہم قدم یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار دینی مدارس کے طلبہ کے لئے وزیراعظم ہاءوس کے دروازے کھولے گئے اوروزیراعظم عمران خان نے تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے مختلف مسالک کے طلبہ کواپنے ہاتھ سے شیلڈز دی ہیں ۔۔۔دوسرا اہم فیصلہ قرآن مجیدکے لئے درآمدی پیپرکو ڈیوٹی فری کرنے کا ہے ۔ اگرچہ قرآن مجیدکی طباعت کے لئے درآمدی پیپرکوڈیوٹی فری کرنے کافیصلہ اچانک نہیں کیا گیا ، بلکہ اس کے پیچھے ایک لمبی اورطویل جدوجہد ہے ۔

آیئے!پہلے مختصراََآپ کو اس جدوجہد اور اس کے پس منظر سے آگاہ کرتے چلیں ۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پرحاصل کیاگیا ہے ۔ اسلام کے نام پرحاصل کئے جانے والے ملک میں پرائمری کی درسی کتب کی طباعت کے لئے تو معیارمقرر کر دیئے گئے، لیکن یہاں ایک طویل وقت ایسابھی گزراہے کہ قرآن مجیدکی طباعت کے لئے کوئی بھی معیارمقررنہ کیا جا سکا ۔ قرآن مجیدسے یہ بے رغبتی پاکستان کے دولخت ہونے کاباعث بن گئی ۔ آخر سانحہ مشرقی پاکستان کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد30جولائی1973ء کو اس وقت کی پارلیمنٹ نے علماء اور عوام کے اصرار پر قرآن ایکٹ پاس کیا ۔ اس ایکٹ کی روسے ناشران کوپابندکیاگیاکہ وہ کم از کم52 گرام پیپر پر قرآن مجید چھاپیں ۔ کچھ عرصے تک ناشران نے اس ایکٹ کی پابندی کی اورشائداس ایکٹ کے پاس کرنے کاہی نتیجہ تھاکہ کچھ عرصے بعداللہ نے مشرق وسطیٰ کے دروازے پاکستانیوں کے لئے کھول دیئے ۔ پاکستان میں دولت کی ریل پیل ہونے لگی، جس سے عام آدمی کا معیار زندگی بلند ہوا ۔ ا ب چاہئے تو یہ تھا کہ قرآن مجید کی طباعت کا معیار بھی بلند ہوتا، لیکن ہوا اس کے برعکس، ناشران نے قرآن مجید52گرام کے منظور شدہ کاغذ پرچھاپنے کی بجائے 35، 40 اور 45 گرام کے کاغذ پر چھاپنا شروع کردیا، جس سے قرآن مجید کی شہادت کاگراف خوفناک حدتک بڑھ گیا ۔ صورت حال اس حدتک گھمبیر ہو گئی کہ شہید قرآنی اوراق کو باعزت طریقے سے محفوظ کرنا بذات خود ایک سنگین مسئلہ بن گیا ۔ اس کاحل صرف ایک ہی تھاکہ قرآن مجیدکی طباعت واشاعت کے لئے معیاری اور پائیدار پیپر استعمال کیا جائے، مگربدقسمتی سے اکثر ناشران ایساکرنے سے اجتناب کرتے رہے، بلکہ کچھ ناشران تو نیوز پرنٹ استعمال کرتے ہیں ، یعنی وہ کاغذ جس پر اخبارات شاءع کئے جاتے ہیں ۔ یہ کاغذ نہ تو پائیدار ہوتا ہے اور نہ ہی خوبصورت ۔ یہاں تک کہ بعض اوقات صفحہ کے ایک طرف کے چھپے ہوئے الفاظ دوسری طرف نظرآرہے ہوتے ہیں ، جس سے پڑھنے والوں کوبھی دشواری پیش آتی ہے ۔ اس طرح کے قرآن مجید، سیپارے، قاعدے جلد شہید ہو جاتے ہیں ۔ یہ بہت سنگین صورت حال تھی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہو رہی تھی ۔

بات یہ ہے کہ قرآن مجیداللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ۔ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے ۔ قرآن مجید حکومتوں یا افراد کا محتاج نہیں ، بلکہ لوگ قرآن مجیدکے محتاج ہیں ۔ اللہ ہر دور میں ایسے افرادپیداکرتارہے گاجودل وجان سے قرآن مجیدکی خدمت وحفاظت کریں گے ۔ پاکستان میں بھی بہت سے لوگ قرآن مجیدکی خدمت و حفاظت کامقدس فریضہ اپنے اپنے انداز میں انجام دے رہے ہیں ،لیکن قرآن مجیدکی خدمت اورحفاظت کاجوکام اللہ تعالیٰ لاہورسے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ حاجی ناظم الدین سے لے رہے ہیں ،اس کی سعادت کسی دوسرے شخص کو نصیب نہیں ہوسکی ۔ حاجی ناظم الدین نے ایک طرف شہیدقرآنی اوراق کی حفاظت کا بیڑا اٹھایاتودوسری طرف قرآن مجید کے طباعتی معیار کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان میں مختلف اوقات میں برسر اقتدار آنے والی حکومتوں کے ساتھ آئینی اورقانونی جنگ بھی لڑی ہے ۔ ایوان صدر،وزیراعظم ہاءوس، پارلیمنٹ اور عدلیہ سمیت ہرجگہ انہوں نے دستک دی ۔ صوبوں سے لے کروفاق تک ہرجگہ آوازاٹھائی ۔ ان کی کوششوں سے پنجاب قرآن بورڈ بنا، قرآن کمپیلکس تعمیر ہوا، قرآن مجید کی طباعت واشاعت کے معیار کو بہتربنانے کے لئے قانون سازی ہوئی ۔ ان کاموں کی تکمیل کے بعداگلا مرحلہ قرآن مجید کو امپورٹڈ پیپرپرشاءع کروانے کا تھا ، جبکہ امپورٹڈپیپرپرٹیکسوں کی بھرمارہے، اس لئے اکثرناشران قرآن مجید کی امپورٹڈپیپرپرطباعت کے متحمل نہیں ہوسکتے،مزیدیہ کہ امپورٹڈ پیپرپرطباعت کی وجہ سے قرآن مجید کا ہدیہ بھی بڑھ جاتاہے ۔ یہ تمام مسائل اپنی جگہ، مگردوسری طرف حاجی ناظم الدین ایک عرصے سے کوشش کررہے تھے کہ قرآن مجیدکی طباعت کے معیار کو بہتربنانے کے لئے امپورٹڈ پیپر کو ڈیوٹی فری کروایاجائے ۔ یہ نہایت ہی مشکل کام تھا ۔ راستے میں بیوروکریسی کی شکل میں مشکلات کے پہاڑکھڑے تھے ۔ پھر محکمہ خزانہ اورسی بی آروالے تھے، جن کا موقف تھاکہ قرآن مجیدکی طباعت و اشاعت کے لئے اگر امپورٹڈپیپر کو ڈیوٹی فری کر دیا گیا تو خزانے کوہرسال اربوں روپے کانقصان ہوگا،لیکن جب ارادے نیک ہوں توکامیابی ضرور قدم چومتی ہے ۔ یہی کچھ قرآن مجیدکے درآمدی پیپر کے سلسلے میں ہوا ۔ طویل جدوجہدکے بعد آخریہ مشکل ترین مرحلہ بھی طے ہوگیا ۔

ان تمام مراحل کوطے کرنے میں ایک شخص ایسے ہیں جن کا بظاہرکہیں ذکر نہیں ،نام نہیں ،شہرہ نہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگراس شخص کی ذاتی دلچسپی شامل حال نہ ہوتی توقرآن مجیدکے پیپرکوڈیوٹی فری کرناممکن نہ ہوتا ۔ یہ محکمہ سی بی آرکے سابق چیئرمین جناب طارق پاشا ہیں ۔ طارق پاشا سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز کے دور میں پنجاب حکومت کے محکمہ مذہبی امور میں بطورسیکرٹری خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ سیکرٹری مذہبی امور کی حیثیت سے بھی انہوں نے خدمت قرآن کے لئے بے شمارکام کئے، جن میں قرآن ویلزکی تعمیرسب سے اہم فیصلہ ہے ۔ 2013ء میں وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت سے طارق پاشاکی خدمات طلب کیں تووہ ایڈیشنل سیکرٹری فنانس بن کراسلام آبادچلے گئے ۔ طارق پاشاجب اسلام آباد میں تعینات ہوئے توانہوں نے وہاں بھی خدمت قرآن کاسفرجاری رکھا ۔ ان کی کوششوں سے پہلی بار 15،2014ء کے بجٹ میں قرآن مجیدکے امپورٹڈپیپرکوڈیوٹی فری کرنے کا فیصلہ کیاگیا،تاہم ساتھ ہی یہ شرط بھی لگادی گئی کہ یہ پیپروفاقی حکومت یاصوبائی حکومتیں ہی منگواسکیں گی، مزیدیہ کہ ساتھ واٹرمارک کی شرط بھی لگادی گئی تھی ۔ اگرچہ یہ اچھا فیصلہ تھا، تاہم اس فیصلے میں کچھ قباحتیں بھی تھیں ۔ واٹرمارک کی شرط کے ساتھ کاغذکاریٹ مزیدبڑھ جاناتھا، چنانچہ16 ،2015ء کے بجٹ میں طارق پاشا کی کوششوں سے واٹر مارک کی شرط ختم کردی گئی، لیکن پیپر منگوانے کا اختیار بدستور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس ہی رہا ۔ اب ظاہر بات ہے کہ قرآن مجید کی طباعت و اشاعت کاکام حکومت کے کرنے کانہیں ، تاہم سابقہ حکومت نے جاتے جاتے قرآن مجیدکے حوالے سے بعض تاریخ ساز فیصلے کئے ،جن میں پیپر منگوانے کا اختیار محکمہ اوقاف میں رجسٹرڈ ناشران کو دے دیا گیا اور آفسٹ پیپر پر سے ایکسائز ڈیوٹی اورسیلزٹیکس ختم کر دیئے گئے ۔

اب نئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے آفسٹ پیپرپرسے ایکسائز ڈیوٹی اورسیلزٹیکس کے خاتمے کے فیصلے کو توبرقراررکھا ہے، اسی طرح آرٹ پیپر اور میٹ پیپر پر سے ایکسائز ڈیوٹی بھی ختم کر دی ہے ۔ حکومت کے یہ دونوں فیصلے لائق تحسین ہیں ، تاہم اس کے ساتھ ایک کڑوا فیصلہ یہ کردیاگیا ہے کہ آرٹ پیپر اور میٹ پیپرپر سترہ فیصدسیلز ٹیکس اورتین فیصد ایڈیشنل سیلزٹیکس لگادیاہے ۔ اس کا پس منظر غالباََ وہ مشکل ترین مالی حالات ہیں جو موجودہ حکومت کو ورثے میں ملے ہیں ۔ وزیراعظم کہتے ہیں ،ہم پاکستان کو غیر ملکی قرضوں سے نجات دلانا ، اپنے پاءوں پر کھڑا کرنا اور ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتے ہیں ۔ غیر ملکی قرضوں سے پاکستان کو نجات دلانا بلاشبہ عمران خان کا قابل تحسین عزم ہے،لیکن ضرورت اس امرکی ہے کہ جس طرح موجودہ حکومت نے آفسٹ پیپرسے ایکسائزڈیوٹی اورسیلز ٹیکس ختم کیاہے، اسی طرح وہ آرٹ پیپراورمیٹ پیپرپرسے سیلز ٹیکس اور ایڈیشنل سیلزٹیکس بھی ختم کرے ۔ اس سے ایک طرف قرآن مجید کی طباعت کامعیاربہترہوگا ،شہادت کے گراف میں کمی آئے گی اوردوسری طرف قرآن مجیدکی برآمدسے ملک کواربوں روپے کے زرمبادلہ کی بچت بھی ہو گی ۔ پنجاب قرآن بورڈ کے ممبراورخادم قرآن حاجی ناظم الدین ،قرآن پبلشرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر قدرت اللہ، جنرل سیکرٹری عکاشہ مجاہد، پاک کمپنی کے احسن شاہ ،ضیا القرآن کمپنی کے حفیظ البرکات ،تاج کمپنی کے ضیاء الدین اور المصباح ناشران قرآن کے طارق خورشید صوفی کہتے ہیں کہ حکومت کا آفسٹ پیپر، آرٹ پیپراورمیٹ پیپرپر سے ایکسائزڈیوٹی اور سیلزٹیکس کاخاتمہ قابل تحسین ہے ۔ ان فیصلوں سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ عمران خان پاکستان کوریاست مدینہ بنانے کے عزم میں مخلص ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ نامساعد مشکل مالی حالات میں بھی انہوں نے قرآن مجیدکوریلیف دیاہے ،تاہم آفسٹ پیپر کو ہرقسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ کرکے پیپرکی دوسری قسم، یعنی آرٹ پیپراورمیٹ پیپرپرسیلز ٹیکس لگادیاگیاہے ۔ ناشران قرآن کا یہ بھی کہنا ہے کہ قرآن مجیدکے لئے پیپردرآمدکرنے کاطریقہ کاربہت مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ ابھی تک صرف چندناشران ہی اس سہولت سے مستفیدہوسکے ہیں ۔ ناشران قرآن نے وزیراعظم عمران خان اورایف بی آرکے چئیرمین شبرزیدی سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ پیپردرآمدکرنے کا طریقہء کارآسان کیاجائے، تاکہ محکمہ اوقاف میں رجسٹرڈ زیادہ سے زیادہ ناشران اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکیں ۔ اس سہولت سے جہاں قرآن مجیدکی طباعت کا معیار بہتر ہو گا، وہاں ارزاں ہدیے پرلوگوں کو قرآن مجید، قاعدے اور سیپارے بھی دستیاب ہوں گے اور ہرماہ بڑی تعداد میں شہیدہونے والے قرآن مجید ،سیپاروں اورقاعدوں کی شہادت کے گراف میں کمی بھی واقع ہو گی، اس لئے کہ قرآن مجیداللہ کی کتاب ہے ،اسے جتناعام کیاجائے، لوگوں تک پہنچایاجائے، پڑھا جائے اور اس پرعمل کیا جائے، پاکستان میں اتناہی امن وامان ہو گا اور ملک عزیزکے ریاست مدینہ بننے کی منزل اتنی ہی قریب آئے گی ۔

مزید : رائے /کالم