دو پاکستان!

دو پاکستان!
دو پاکستان!

  



پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چند روز قبل یہ بیان دیا ہے کہ اب ایک نہیں ، دو پاکستان ہیں ۔ اس سے ان کی مراد عمران خان کی حکومت سے پہلے اور بعد کا پاکستان ہے ۔ نیا اور پرانا پاکستان! وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ عمران خان کے عہد ِ حکومت میں مخالفین کے خلاف انتظامی و انتقامی کارروائی روا رکھی جا رہی ہے ۔ مَیں عموماً بیانات و شخصیات پر نہیں لکھتا، حالانکہ یہ ایک آسان ترین عمل ہے ۔ بیانات سے متعلق کہانیوں اور شخصیات کے بارے میں حکایات کا آج کل بازارِ صحافت میں عام چلن ہے ۔ مَیں نے بلاول صاحب کے اس بیان پر اپنے کالم کی بنیاد اس لئے رکھی ہے کہ ان کے ’’دو پاکستان‘‘ کی اصطلاح غضب کی ہے ۔ غیر معمولی طور پر ایک صاف ستھری اور سچی اصطلاح! وطن عزیز،واقعی دو حصوں میں منقسم ہے ۔ ایک99فیصد عوام کا پاکستان، جو بیمار پڑ جائیں تو دوا دارو ناممکن اور اگر قلت غذا،موسم کی شدت، احساس وغیرت،ریاستی اداروں اور لاقانونیت کے ہاتھوں مر جائیں تو ان کا کفن دفن تک زکوٰۃ و خیرات کا محتاج! دوسرا ایک فیصد خواص کاپاکستان، جن کا پانی تک پیرس سے آتا ہے ۔ چھینک بھی آ جائے تو برطانیہ و امریکہ میں علاج! ڈاکٹر ہیں کہ ان کے پاءوں میں بچھے جاتے ہیں ۔ پاءوں میں کانٹا بھی چبھ جائے تو ایک طوفان اُٹھ جاتا ہے ۔

تشکیل و قیام کے وقت جغرافیائی طور پر مملکت ِ خداداد دو حصوں میں موجود تھی، مشرقی اور مغربی پاکستان! گویا یہ بانی َ پاکستان کے دو بازو تھے، جو 1971ء میں کٹ یا کاٹ دیئے گئے ۔ مَیں نے قائداعظمؒ کو جاگتی آنکھوں سے ایک بازو کے ساتھ دیکھا ہے ۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد پھر سے دو پاکستان بن گئے ۔ ایک لوٹنے اور دوسرا لٹ جانے والوں کا ۔ ملک دو ٹکڑوں میں تقسیم ضرور ہوا،لیکن ظلم و نا انصافی پر مشتمل اثاثے کبھی نہیں ۔ جنگ ِ آزادی کے پس منظر و پیش منظر میں انگزیر آقا کی نگاہِ کرم سے ’’خاص‘‘ بن جانے والے قیام پاکستان کے بعد عام قرار نہ پاسکے ۔ بے بس و بے کس عوام کے لئے بس مسائل ہی مسائل اور خواص کے حصے میں وسائل ہی وسائل،ایک نہیں دو پاکستان!پاکستان میں سب سے زیادہ جھوٹ کا کاروبار چلتا ہے، اور سیاست کی دکان عوام کے کمزور حافظے پر! اگر خوش قسمتی سے ایک پاکستان ہوتا تو آپ جناب کا نام اور مقام کیا ہوتا؟ کیا زرداری اور بھٹو بھی اگر معاشرے میں سیاست کی تجارت کے لئے ’’بھٹو کا سکہ‘‘ ناگزیر تھا، تو بھی بر بنائے عقل و شعور آپ کو بلاول بھٹو زرداری نہ کہا جاتا،بلکہ بلاول بے نظیر بھٹو قرار پاتے ۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو شہید کو سدا بہار پارٹی کا چیئرمین تجویز کرتے اور آپ کو چیئرپرسن! خود آصف علی زرداری شریک چیئرپرسن بھی کہلوا سکتے تھے ۔ آپ پی پی پی کے چیئرمین اور بلاول بھٹو زرداری اِس لئے ہیں کہ دو پاکستان موجود ہیں ۔ ایک ان کا پاکستان جو موقع بے موقع بولتے جاتے ہیں ۔ دوسرا ان کا پاکستان، جو کبھی بھی بول نہیں سکتے!

اگر ایک پاکستان ہوتا تو ظلم و ستم اور لوٹ کھسوٹ کا یہ بازار گرم نہ ہوتا ۔ آپ کو اربوں ڈالر وراثت میں کیسے اور کیونکر ملتے؟ یہ دو پاکستان ہی کا صلہ ہے کہ 60 روپے ماہانہ کا ایک مزدور اور سینما میں ٹکٹ بیچنے والوں کی آل اولاد ملک پر مسلط ٹھہری!محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ خوش قسمتی سے اس بدقسمت ملک کی دو بار وزیراعظم بنیں ۔ آپ کے والد ِ محترم پورے پانچ برس صدرِ پاکستان رہے ۔ انہوں نے دو کی بجائے ایک پاکستان بنانے کی خاطر کیا جدوجہد کی!یہی سوال میاں نواز شریف کے خاندان اور دیگر مقتدر حلقوں اور شخصیتوں سے بھی پوچھا جا سکتا ہے!دیکھئے،الّلے تللّوں کا وقت گزر چکا ہے ۔ اب کسی جفا کار محبوب کی طرح پانچویں دن کے وعدے سے کام نہیں چلنے والا، جس نے کہیں سے سُن لیا تھا کہ زندگانی چار دِن کی ہے ۔ اگر ہوسکتا ہے تو کوئی نقد عمل پیش کیجئے ۔ کوئی ایثار؟ جائز اثاثوں کے جغرافیے سے دستبرداری؟ سچا اور پائیدار منشور؟ محنت کشوں ،ریڑھی بانوں ، مزدوروں اور کسانوں کے پاس اب دینے کو کچھ بھی باقی نہیں بچا،آپ کے پاس فراتِ وسائل ہے ۔ خیرات نہیں تو بے چارے عوام کو زکوٰۃ ہی دیجئے!۔۔۔ اگر اور کچھ نہیں تو صرف یہ بتا دیجئے کہ آپ کی حکومت آ جائے تو کیا ’’دو کی بجائے ایک پاکستان قائم ہو گا‘‘؟ کیا کریں ، اور کیسے؟ یہ بے روح لفظ کافی پرانے ہو چکے ہیں ، خدا کے لئے ذرا بتایئے کہ آپ کے ایک پاکستان میں کیا ہو گا؟ قانون کی حکمرانی کے لئے ایک پاکستان کے خدوخال؟ نظام الاوقات کے لئے جیب کی گھڑی اور جادو کی چھڑی کی نسبت کچھ تو بتایئے، نا!عوام میں یہ خیال فروغ پا چکا ہے کہ آپ کبھی کچھ بھی نہیں دے پائیں گے ۔ آصف علی زرداری نے پارٹی کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے ۔ انہوں نے ماسوائے کثیر دولت کے آپ کے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا! اس کے باوجود قوم آپ کی راہ میں آنکھیں بچھا دے گی، فقط یہ بتا دیجئے کہ آپ دو کی جگہ ایک پاکستان کیسے بنائیں گے؟ اور حکومت مل جانے پر کتنے عرصہ میں بنائیں گے؟

مزید : رائے /کالم