ملاوٹ ، کرپشن، تجاوزات

ملاوٹ ، کرپشن، تجاوزات
ملاوٹ ، کرپشن، تجاوزات

  



پنجاب کے اداروں کے سربراہوں کو اپنی عزت کی خاطر، اپنے بچوں کی صحت کی خاطر موجودہ حکمران طبقے کا ساتھ دینا ہو گا ۔ چونکہ ہمارا معاشرہ ہر قدم پر کرپشن ، ملاوٹ، خود غرضی اور لالچ کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے،اس لئے دھاندلی، جعلی الیکشن پر عدلیہ، اداروں اور پارلیمینٹ کی پوری توجہ مرکوز کر کے قوم کا وقت ضائع کیا جاتا ہے، اگر چند لوگ الیکشن ہار کر پارلیمینٹ سے باہر ہیں تو پھر کیا ہوا ۔ یہ معزز لوگ مختلف حکومتوں میں عیش و عشرت کی زندگی گزار چکے ہیں ۔ بقول مولانا فضل الرحمن اور پاکستان کے چند مخالفین، الیکشن جعلی ہوئے تھے تو پھر آپ لوگ اپنے ساتھیوں سمیت استعفے دے کر اسمبلیوں سے باہر آ کر احتجاج کریں ۔ یہ کمال کا احتجاج ہے کہ پارلیمینٹ کی تمام سہولتیں اور الاءونسز لے کر ملک و قوم کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے اور بیرونی و اندرونی ملک دشمنوں کو خوش کیا جا رہا ہے ۔ ملک کے اندر بے تحاشا مہنگائی ہے، کرپشن ہے،فٹ پاتھوں ، سڑکوں پر تجاوزات کی بھرمار ہے، جعلی دوائیاں مارکیٹ میں بک رہی ہیں ، امن و امان کی وجہ سے عوام پریشان ہیں ۔

حکومت کا اپنا سارا وقت ان جلسے جلوسوں پر خرچ ہو رہا ہے، اگرساری انتظامیہ احتجاجوں پر لگی رہے گی توعوام کے مسائل کون حل کرے گا،کروائے گا؟ عوام پریشان ہیں ، مہنگائی کی وجہ سے، بیروزگاری کی وجہ سے، مگر چند خود غرض لوگوں نے اودھم مچا رکھا ہے ۔ کوئی ہسپتالوں میں ہڑتالیں کروا دیتے ہیں ، کوئی شاہراہیں بند کروا دیتے ہیں ، ان لوگوں کا بھوکے، پریشان حال عوام خود مقابلہ کریں یا حکومت کچھ کرے گی ۔ پورے معاشرے کی اصلاح اور عوام کی مشکلات دور کرنا سیاست دانوں ، خصوصاً پارلیمینٹ میں موجود جماعتوں کی ذمہ داری ہے ۔ پارلیمینٹ میں موجود لوگ اپنی ذمہ داری پوری کریں یا استعفے دے کر باہر آ جائیں ، روز روز کی جھک جھک ،کبھی اندر کبھی باہر،جو لوگ سابقہ حکومت میں شامل رہے ہیں ،اگر ان پر کرپشن یا لوٹ مار کے الزام ہیں تو وہ اپنی صفائی پیش کریں ، موجودہ حکومت کا ان کیسوں کے ساتھ قطعی کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اگر موجودہ قانون ہمارے ملک کے عوام کو انصاف نہیں دلا سکتا تو پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قانون کا نفاذ پوری قوم کی آواز ہے ۔ چوروں کے ہاتھ کاٹے جائیں ، قاتلوں کو چوراہوں پر نشان عبرت بنایا جائے ۔

دیکھا یہی گیا ہے کہ اگر اراکین پارلیمینٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا بل تو اتفاق رائے سے پاس ہو جاتا ہے کہ تمام حکومتوں میں یہی پہلی ترجیح رہی ہے، اس کے علاوہ پارلیمینٹ ایسے قانون بنانے پر توجہ مرکوز رکھتی ہے،جن سے حکمرانوں کے اختیارات میں اضافہ ہو۔۔۔ کرپشن، لالچ اور ملاوٹ و فراڈ کی دلدل میں دھنسے معاشرے کو اسی راستے پر برقرار رکھنے میں مدد ملے ۔ پارلیمنٹ میں موجود عوامی نمائندوں کو علم ہی نہیں کہ عوام کن کن مشکلات میں گھرے ہیں ، کیونکہ خود ان کو ہر طرح کی سہولتیں حاصل ہیں ۔ سیاست دانوں کے اس روّیے کی سب سے بڑی وجہ صرف یہی ہے کہ شوگر ملز، گھی ملز، پٹرولیم ڈیلرز، بڑے بڑے کارخانوں ، فیکٹریوں کے مالک اور سرپرست ایوان میں بیٹھے ہیں ، جو اپنے اپنے متعلقہ شعبے کی خامیوں کی پردہ پوشی پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں جب پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو روپوں میں ، جب قیمت کم ہوتی ہے تو پیسوں میں ، جن اشیائے ضروریہ کی قیمت اگر مجبوری کے تحت حکومت کم کرنے کی کوشش کرتی ہے، وہ اشیاء بازار سے سٹاکسٹ غائب کر دیتے ہیں ۔ پٹرول مہنگا ہونے کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت زیادہ ہو جاتی ہے ۔ پٹرول مہنگا ہونے کے باوجود معیار سے کم اور ملاوٹ والا فروخت ہو رہا ہے، کیا کیا جائے، ملک میں غیر معیاری پٹرولیم مصنوعات کی فروخت جاری ہے اور آئے روز آزاد الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے جعلی لیوب اور ملاوٹ کرنے والے گروہ بے نقاب ہوتے ہیں ،

لیکن نہ تو حکومت کی طرف سے اس کی وجوہات ختم کی جا رہی ہیں ، نہ تو ایسے کاروبار میں ملوث افراد کے لئے کسی سزا کا اعلان کیا جا رہا ہے، نہ پارلیمینٹ میں موجود حکومتی و اپوزیشن اراکین کی خواہش ہے کہ اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے ۔ حکومت پنجاب نے جعلی ادویات تیار کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف اطلاع دینے والوں کے لئے دس لاکھ کے انعام کا اعلان کیا ہوا ہے ۔ یہ اچھا ہے، لیکن اس پر قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی؟ گزشتہ دنوں گھی ملز مالکان نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے چھاپوں کے خلاف ہڑتال کر دی تھی، حالانکہ ملک میں گھی کے چند برانڈ خالص گھی تیار کرتے تھے، باقی تمام جعلی اور غلط اشیائے خوردنی سے گھی اور تیل تیار کرتے ہیں ، مگر افسوس کہ کوئی سزا جزا نہیں ہے، کیوں؟

عوام پر اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ مرغیوں بکروں کی باقیات، گائے بھینسوں کی باقیات سے خوردنی تیل بنایا جا رہا ہے اور یہ سب سر عام حکومتی لوگوں ، ذمہ داروں کے نوٹس میں ہو رہا ہے، عوام کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے، جرم کرنے والے قتل عام کے مرتکب ہو رہے ہیں ، جو لوگ یہ باقیات اٹھاتے ہیں ، جہاں لے کر جاتے ہیں ،تمام انتظامی اداروں کو پتہ ہے، ایکشن کیوں نہیں لیا جا رہا ۔ حکومت کو فرصت نہیں مل رہی ۔ مجھے صوبہ پنجاب کے حالات کا پتہ ہے،باقی صوبوں میں بھی حالات اسی طرح کے ہوں گے ۔ حکومت کو فوری طور پر عوام کے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے سخت سے سخت سزاءوں کا قانون بنانا ہو گا ۔ ہمارے معاشرے میں ملاوٹ و غیر معیاری اشیاء کی تیاری و فروخت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ آج تک کسی کو سزا نہیں ملی،بلکہ کیس رجسٹرڈ تک نہیں ہوتے ۔ کوئی اتھارٹی اگر ہے تو وہ بھرپور طریقے سے ایکشن لے اور پورے اختیارات کے ساتھ ملک اور عوام دشمنوں کا قلع قمع کرے،جو لوگ بھی یہ فراءض ادا کریں ، ایمانداری سے کریں ، اس میں ان کی اپنی اولادیں بھی ہیں ۔ کراچی کا بتایا جاتا ہے کہ تجاوزات کو ختم کیا جار ہا ہے، ناجائز تعمیرات گرائی جا رہی ہیں ۔ پنجاب حکومت کو بھی اپنی پہلی فرصت میں لاہور سے تجاوزات کے خاتمے کا کام شروع کرنا چاہئے تاکہ صوبے کے دوسرے شہروں میں بھی تجاوزات کے خلاف کچھ ہو ۔

تجاوزات مافیا نے لاہور کے تمام فٹ پاتھوں پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ مختلف اداروں کے ملازمین نے سڑکوں ، بازاروں میں دکانداروں کے قبضے کروا دیئے ہیں ۔ ٹاءون شپ، فیصل ٹائون، گرین ٹاءون میں اتنی زیادہ تجاوزات ہیں کہ تمام فٹ پاتھوں پر دکانیں بن چکی ہیں ۔ دکانداروں نے دس دس فٹ سڑکوں پر قبضہ کر کے دکانیں بنائی ہوئی ہیں ۔ المدینہ روڈ مین سڑک ہے، لیکن تجاوزات کی بھرمار ہے ۔ ٹاءون شپ، سرکلر روڈ پر دکانداروں نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔ اگر کوئی اہل کار آتا ہے دکھاوے کے لئے کارروائی کے لئے تو دکاندار ملی بھگت کر کے اس کو بھگا دیتے ہیں ۔ دوسرا مسئلہ ملاوٹ، جعلی اشیاء کا کاروبار بھی ہے ۔ یہ تمام اشیاء بچے بھی استعمال کرتے ہیں ،جو ملک کا مستقبل ہیں ۔

بچوں کے لئے جو اشیاء، پاپڑ، چپس وغیرہ تیار ہوتے ہیں ۔ سنا ہے ان میں کپڑے دھونے کا صابن، سوڈا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ گھی کم استعمال ہو ۔ حکومت اپوزیشن کے شور شرابے کو اگر ختم نہیں کروا سکتی تو چھوڑے، عوام کے مسائل کی طرف توجہ دے، کھانے پینے کی تمام اشیاء ملاوٹ شدہ سپلائی ہو رہی ہیں ۔ ان میں مصالحہ جات، دودھ،حرام گوشت کی فروخت، غیر معیاری گھی، بیکریوں کا زہریلا سامان، بازاروں میں تقریباً کھانے پینے کی ہر چیز جعلی اور صحت کے لئے نقصان دہ فروخت ہو رہی ہے، پنجاب حکومت میں اب تبادلوں کا ریلا چل چکا ہے، اب ان معزز افسروں سے عوام کے مسائل اور پریشانیوں کو دور کرنے کی خدمات حاصل کریں ۔ کوئی بھی حکومتی ادارہ،جو عوام کی خدمت پر مامور ہے، اس کو اپنا کام محنت اور ایمانداری سے کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ چونکہ ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمن برسر پیکار ہیں ۔ عوام کو بھی خود غرض،مفاد پرست اور موقع پرست لوگوں سے ہوشیار رہنا ہو گا اور اپنی مجموعی مشکلات کے حل کے لئے حکومت کا ساتھ دینا ہو گا،ان لٹیروں سے جان چھڑانی ہو گی ۔

مزید : رائے /کالم


loading...