روٹی ،کپڑا، مکان اور انٹر نیٹ نہیں ، تعلیم

روٹی ،کپڑا، مکان اور انٹر نیٹ نہیں ، تعلیم

  



پاکستان میں سیاسی ، انقلابی اور جذباتی نعروں کی بہت اہمیت ہے ۔ درحقیقت پاکستان کی بنیاد رکھتے وقت بھی۔۔۔ ’’لے کر رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان‘‘ کے نعرے لگائے گئے ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ کس طرح 14 اگست 1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا ۔ بے شک نعرے قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں ، انقلاب لاتے ہیں ۔ ان نعروں کو زبان زدِ خاص و عام لانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم اس نظریے سے جڑے رہیں ، جس کی وجہ سے یہ نعرے بنے اور وہ نظریے پایہ ء تکمیل تک پہنچے ۔

ہم نے دیکھا کہ ان نعروں کی روح ’’ دو قومی نظریہ‘‘ تھی اور ان نعروں نے کس طرح جوش و ولولہ پیدا کیا اور مسلم قوم کی انتھک محنت اور قربانیوں کے بعد پاکستان کی تخلیق ہوئی۔۔۔روٹی ، کپڑا، مکان کا نعرہ ، ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی نعرہ تھا جو عوام کی بنیادی ضروریات کے لئے لگایا گیا ۔ اس نعرے کی تکمیل کے لئے آج بھی پلان بن رہے ہیں ،لیکن ابھی تک ہم خود کفیل نہیں ہو پائے ۔ کروڑوں لوگ آج بھی اپنے گھروں سے محروم ہیں اور روٹی تو ویسے ہی سیاست کی نذر ہو چکی ہے ۔ کبھی روٹی دو روپے کی ہو جاتی ہے تو کبھی سستی روٹی کا شور سنائی دیتا ہے، اب تو خیر سے لنگر خانے کھولنے کی تحریک چل رہی ہے ،لیکن تاحال نہ روٹی پوری ہوئی اور نہ مکان ملے ہیں ۔

اب آتے ہیں حکومت کے حالیہ نعروں کی طرف ۔۔۔ تبدیلی کا نعرہ حکومت نے کامیابی اور ووٹ حاصل کرنے کے لئے لگایا ۔ تبدیلی کے اس سفر میں ، جس کی منزل کا نام ’’ نیا پاکستان‘‘ ہے، کے لئے بےشمار وعدے کیے جا چکے ہیں ۔ ان وعدوں سے عہدہ برآ ہونے میں ابھی وقت باقی ہے ۔ یقینا ً ان وعدوں کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے بہت سے پلان بنائے ہوں گے، جن پر عملدرآمد کر کے ان وعدوں کو وفا کیا جائے گا ۔ ایک کروڑ نوکریاں ، 50 ہزار گھر ، لنگر خانے، ڈیم، گرین پاکستان، اور بہت سے ترقیاتی کام جو ابھی پاءپ لائین میں ہیں ۔ امید یہی ہے کہ ان نعروں پر کمپرومائز نہیں کیا جائے گا، کیونکہ جب نعرے کمپرومائز ہوتے ہیں تو وہ تبدیلی یا انقلاب نہیں لاتے، بلکہ تباہی کی طرف لے جاتے ہیں ۔

موجودہ حکومت تبدیلی کے نام پر بہت سے نعرے تخلیق کر چکی ہے ۔ شاید حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ ہ میں نیا پاکستان بنا کر دے رہی ہے، جس میں روز کچھ نیا ہونا چاہیے یا پھر ایسا محسوس ضرور ہونا چاہیے کہ ہم کچھ نیا کر رہے ہیں ، لیکن کیا صرف یہ نعروں کی حد تک ہے یا کوئی مثبت اور حقیقی تبدیلی بھی وقوع پذیر ہو رہی ہے؟ اب تک جو منصوبے سامنے آئے ہیں ، مثلا ً، کامیاب روزگار منصوبہ، نوکریاں ، اپنا گھر ، ریاست مدینہ اور ابھی ابھی ہم ایک اورنئے منصوبے سے متعارف ہوئے ہیں جو ’’ریاست مدینہ ‘‘ سے ہوتا ہوا ’’ ڈیجیٹل پاکستان‘‘ کی طرف جا رہا ہے ۔ ڈیجیٹل پاکستان کا نعرہ بہت ہی پرُکشش اور نیت کے لحاظ سے بہت موَثر ہے ۔ ’’ روٹی، کپڑا، مکان اور انٹر نیٹ ‘‘ یعنی نظریہء ضرورت کی ایک اور ایکسٹینشن (انٹرنیٹ ) سامنے آئی ہے ۔ پاکستان میں اس وقت 12 کروڑ انٹرنیٹ یوزر موجو د ہیں ، جن میں سے بہت کم تعداد ان کی ہے جو انٹرنیٹ کا درست استعمال جانتے ہیں ، جبکہ باقی نوجوان صرف فیس بک ، انسٹا گرام ، وٹس ایپ، ٹک ٹاک اور فوڈ ایپ کی حد تک انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں ۔ اس پیرائے کو مدنظر رکھتے ہوئے شاید روٹی، کپڑا، مکان اور انٹرنیٹ کا انقلاب لایا جا رہا ہے ، لیکن کیا یہ نظریہ اس وقت کی اولین ترجیح ہے ؟نہیں ۔۔۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے لوگوں کو شعور دیں ، وگرنہ انٹرنیٹ اور وائی فائی جیسے منصوبے ہمارے بچوں کو صر ف بے راہ روی ، جنسی بے رحمی، پورنوگرافی،جو انٹرنیٹ کے لوازمات ہیں ، کی طرف ہی دھکیلیں گے ۔

ماضی قریب میں ’’ پڑھا لکھا پنجاب ‘‘ کا ویژن بھی سامنے آیا تھا،اس پر کام بھی ہوا، لیکن اب بھی سینکڑوں بچے سکول نہیں جاتے، جو جاتے ہیں ، ان کی تعلیم کا معیار بھی حوصلہ افزا نہیں ۔ ہم ابھی تک ڈگریاں ہاتھوں میں لئے نوکریوں کی تلاش میں ہیں ، لیکن معیار تعلیم کم ہونے کے باعث ہماری ڈگریاں کاغذ کے ٹکڑوں کی سی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ہ میں صرف نعروں سے بہلایا جا رہا ہے،جبکہ ضرورت سب سے پہلے تعلیم کی ہے ۔ جی ڈی پی کا کم از کم 2.5 فیصد تعلیم کے لئے مختص کیا جا تا ہے، جس میں سے صرف 1.5 تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے جو بہت کم ہے، جبکہ باقی ممالک میں کم از کم 4 فیصد ایجوکیشن کے لئے مختص کیا جاتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی بجٹ کو بڑھایا جائے ۔ ہ میں معیاری تعلیم اور شعور دیا جائے ۔ ہم بحیثیت پڑھی لکھی قوم نئے پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں ۔

ہم گوگل سکالر کے نمبر ون یوزر بننا چاہتے ہیں ، نہ کہ پورنوگرافی سائیٹ کے نمبر ون یوزر ۔۔۔ اور یہ صرف تعلیم سے ہی ممکن ہے ۔ ای گورنمنٹ ، ڈیجیٹل پاکستان کوئی نیا منصوبہ نہیں ، ہاں لوگ نئے ضرور آئے ہیں ، کیونکہ جب کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کا ادارہ (ناردا) بنا، اس وقت بھی یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ گورنمنٹ کے سبھی ادارے کمپیوٹرائزڈ کئے جائیں گے ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ڈیجیٹل پاسپورٹ پر کام کیا گیا ، رجسٹری کے نظام کی ڈیٹا بیس بنائی گئی ، ای ٹیگ بائیو میٹرک، ڈرائیونگ لائسنس ، ای چالان پر کام ہوا اور سول رجسٹریشن بھی کمپیو ٹرائزڈ کی گئی ۔ ڈیجیٹل پاکستان تو اسی وقت سے بننا شروع ہو گیا تھا، جب ان منصوبوں پر کام شروع ہوا، تو پھر اب نیا کیا ہے؟ ہاں ٹاسک نئے ہو سکتے ہیں ، بہتری کے عمل میں تیزی لائی جا سکتی ہے، جبکہ منصوبہ تو پہلے سے موجود تھا ۔ وہی بات کہ شاید گورنمنٹ کی مجبوری ہے کہ کچھ نیا کیا جائے یا کم از کم محسوس کرایا جائے کہ کچھ نیا ہو رہا ہے ۔

مزید : رائے /کالم


loading...