برداشت کہاں گئی؟

برداشت کہاں گئی؟
برداشت کہاں گئی؟

  



دل اداس اور ذہن پریشان ہے ۔ گزشتہ روز سے یادِ ماضی والا دورہ ہے ۔ بہت کچھ یاد آ رہا اور دُکھ ہو رہا ہے کہ آج ہم بحیثیت قوم برداشت کی کس درجہ بندی میں ہیں ۔ یقینا اب تو یہ درجہ بندی بھی مات ہو چکی کہ امراض دِل کے ہسپتال پر حملہ تو ہوا ہی،موت بھی واقع ہوئی،مریض بھی پریشان ہوئے،لیکن آج حالت یہ ہے کہ اس ہسپتال کی توڑ پھوڑ کو درست کر کے چلانے کی بجائے اسے بند کر دیا گیا ۔ صرف آئی سی یو کے مریض رکھے گئے سب کو گھر بھیج دیا گیا،ان کی تعداد کم از کم 250 ہے ۔ اسی ہسپتال میں بائی پاس اور اینجیو پلاسٹی کے آپریشن بھی نہ ہو سکے اور نہ ہی شریانوں کی تحقیق کے لئے اینجیو گرافی کا عمل ہوا،یوں سینکڑوں مریضوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں ، توڑ پھوڑ ہمارے کالے کوٹ والے ڈبل گریجوایٹ حضرات نے کی تو ہسپتال کی بندش سفید کوٹ والے دہرے گریجوایٹ حضرات نے کر دی،جو مسیحا ہیں اور جن کی محنت اور توجہ سے ان مریضوں کو تندرست ہونا ہے، اب سوال یہ ہے کہ یہ جو مریض گھر گئے ۔ یہ سب یہاں زیر علاج تھے اور صحت کے منتظر تھے، اب ان افراد پر کیا بیتی وہ کسی کو علم نہیں ،ڈاکٹر حضرات اور پیرا میڈیکل سٹاف نے تو پورے پنجاب میں آءوٹ ڈور بند کر دیئے ہیں ،ان کا مطالبہ کیا ہے ابھی سامنے نہیں آیا،لیکن ہ میں حیرت یہ ہے کہ جب پی آئی سی کی ایمرجنسی پر حملہ ہوا اور ناقابل ِ برداشت سین نظرآئے تو پورے میڈیا، دیکھنے اور سننے والوں نے حملہ آوروں ہی کی مذمت کی اور سب کی ہمدردی مریضوں اور اس کے بعد طبی عملے کے ساتھ تھی،اس کے علاوہ وزیراعظم سے وزیراعلیٰ اور پوری صوبائی مشینری نے سخت نوٹس لیا، حتیٰ کہ رینجرز تک طلب کر لی ۔ ہمارے خیال میں اس کے بعد ڈاکٹر حضرات کے پاس اس نوعیت کے احتجاج کا کوئی جواز نہیں بنتا،اب تو مقدمات بھی درج ہوئے اور گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں ، اس لئے ہماری گذارش تو یہی ہے، گرینڈ ہیلتھ الائنس واے عقل مندی کا ثبوت دیں اور فوری طور پراپنا یہ ہڑتال نما بائیکاٹ ختم کر کے دُکھی انسانیت کی خدمت کا اپنا فریضہ شروع کریں ۔

اب بات کرتے ہیں ، وکلاء حضرات کی، یہ بھی ایک معزز پیشہ ہے،اس کا کریڈٹ ہے کہ بانی َ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ  بھی وکیل تھے اور ان کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں نے مل کر جدوجہد کی تو وکلاء کا بھی حصہ تھا ۔ بعد ازاں یہ حضرات آئین اور انسانی حقوق کی پاسداری، جمہوریت کے احیاء اور انصاف کے لئے بھی تحریکوں میں نمایاں رہے،بلکہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ وکلاء جس تحریک میں شامل اور متحرک ہوں وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے،لیکن آج کا جو دور ہے، اس میں ہمارے وکلاء (خصوصاً نوجوان) برداشت کی حدود کو پار کر چکے ہوئے ہیں ، ذرا ذرا سی بات پر مشتعل ہو جاتے اور تشدد والے عمل کرتے ہیں ا ور عدلیہ تک کو معاف نہیں کرتے یہ نہیں کہ من حیث الطبقہ سب ایسے ہیں ۔ سینئر وکلاء اور سنجیدہ فکر اب بھی ایسے ہنگاموں سے دور ہی رہتے ہیں ،لیکن ان مشتعل نوجوانوں نے تو حد کر دی اور ایک نئی تاریخ رقم کر کے چھوڑی،ہسپتال وہ بھی دِل کے ہسپتال پر ایسا حملہ نہ کبھی سنا نہ دیکھا، آج کے بدترین گلوبل دور میں بھی یہ کنونشن ہے کہ جنگ میں بھی ہسپتالوں پر حملہ نہیں ہوتا،حتیٰ کہ جنگ کے دوران تو ہسپتالوں کی چھت پر ہلالِ احمر یا ریڈ کراس کا نشانہ لگا دیا جاتا ہے تاکہ ہوائی حملہ کرنے والے پائلٹ ان کو ہدف نہ بنائیں ،لیکن یہاں ایک معمولی بات کے جواب میں ایسا عمل کیا گیا، جس کا کوئی بھی جواز نہیں بنتا اور افسوس یہ ہے کہ اتنا افسوسناک عمل کر کے بھی شرمندگی کا احساس نہیں ،اُلٹا ہڑتال کر دی گئی اور دلائل دے کر سارے معاملے کو اُلجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے،حالانکہ فوٹیج بالکل واضح ہے اور یہ بھی طے ہے کہ دو روز قبل سارا معاملہ ختم ہو چکا تھا، ڈاکٹر حضرات نے معذرت بھی کر لی تھی اس کے باوجود ایک ویڈیو کو بنیاد بنا کر ایسا حملہ کیا گیا، جس کی وجہ سے وکلاء برادرکی بدنام ہوئی اور یقینا یہ داغ دھلنے سے رہا ۔ اب تو حکومت کو اپنا کام کرنا اور کہے کی لاج بھی رکھنا ہے ۔

ہم نے جو یادِ ماضی کی بات کی تو یہ دونوں طبقات کے لئے تھی، ہم جب روزنامہ ’’امروز‘‘ (مرحوم) میں تھے، تو ہمارا میو ہسپتال آنا جانا تھا ۔ ہمارے کئی ہم جماعت بھی ڈاکٹر تھے اور دفتر قریب ہونے کے باعث ان کے ساتھ گپ شپ ہوتی تو ان کے ساتھی بھی دوست بن گئے، وہ ایسا دور تھا جب ڈاکٹر انتہائی قابل ِ احترام مانے جاتے ۔ ہمارا مشاہدہ تھا کہ جب ہم اپنے کسی دوست ڈاکٹر سے ملنے اور ساتھ چاء پینے کی بات کرتے تو وہ زیادہ تر اپنی وارڈ (ڈیوٹی والی) کے دفتر میں ہوتے اور وہاں ہی بُلا لیتے،ہم نے اکثر یہ دیکھا کہ کسی وقت وارڈ سے کسی مریض کا کوئی تیمار دار یا وارڈ بوائے آ کر اطلاع دیتا کہ کسی مریض کو ضرورت ہے تو ڈاکٹر چاء اور محفل چھوڑ کر چلا جاتا اور مریض کی دیکھ بھال اور اس کی تسلی کے بعد ہی واپس آتا تھا، اکثر یہ ہوتا کہ اپنے دوست کو تاخیر ہوتی تو پیغام آ جاتا اور ہم بھی اُٹھ کر دفتر آ جاتے تھے اگر زیادہ دور نہ جائیں ،یہ2009ء کی بات ہے جب ہمارا بائی پاس آپریشن اسی پی آئی سی میں ڈاکٹر جواد صاحب کے ہاتھوں ہوا،اس دور میں شکایات تھیں ، مریض بھی زیادہ تھے، لیکن یقین جانئے ڈاکٹر حضرات کی توجہ آج سے کہیں بہتر تھی اور ہڑتال کا تصور نہیں تھا ۔ یہ سب ینگ ڈاکٹرز کے باعث ہوا اور اب تو اللہ ہی اللہ ہے ۔

اسی طرح ڈسٹرکٹ بار لاہور کا بڑا پیپل اور ہائی کورٹ میں بوڑھ کا درخت تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ، ہم نے1963ء سے1970ء تک کورٹس رپورٹنگ کی، آج بھی یاد ہے کہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیپل کے سائے میں مرحوم رفیق احمد باجوہ کی حقہ َ محفل جمتی، ملک اسلم حیات، خاقان بابر، قیصر مصطفےٰ، منصور ملک، شمسی صاحب اور دیگر وکلاء آتے، گپ لگتی، لطیفہ بازی ہوتی ۔ ان حضرات کا تعلق کبھی بھی کسی ایک سیاسی فکر سے نہیں ہوتا تھا ۔ اس کے باوجود خوشگوار باتیں ہوتیں اور قہقہے لگتے تھے ۔ ہ میں چودھری نذیر، جسٹس(ر) شیخ شوکت، ایس ایم ظفر، ڈاکٹر خالد رانجھا، سید احمد سعید کرمانی، ایم انور، جسٹس(ر) سردار اقبال جیسے حضرات بھی یاد ہیں اور ان کی محافل بھی کہ ایک دوسرے کا احترام کرتے، احتجاج کا تو سوال ہی نہیں تھا ۔ انہی حضرات میں سے سیاست میں حصہ لینے والے بھی تھے ۔ آج بھی یہ درخت آباد ہی ہے کہ رشید قریشی یہاں ہوتے ہیں ۔ یہ سب کہنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ کچھ زیادہ عرصہ تو نہیں گذرا جب جذبات ہوتے،لیکن اشتعال نہیں تھا،لیکن آج برداشت نہیں ہے ۔ اسے تلاش کرنا ہو گا کہ کہاں گم ہو گئی ۔ وجوہ جان کر سدِباب ضروری ہے ۔ ورنہ یہ معاشرہ جدھر جا رہا ہے،بدھ کو ہونے والا سانحہ اس کا پیش منظر ہے ۔

مزید : رائے /کالم


loading...