سانحہَ لاہور: چارہَ دل سوائے صبر نہیں !

سانحہَ لاہور: چارہَ دل سوائے صبر نہیں !
سانحہَ لاہور: چارہَ دل سوائے صبر نہیں !

  



اگر کوئی سمجھتا ہے کہ لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلاء کے بدترین حملے کے بعد قوم جاگ جائے گی، حکومت اٹھ کھڑی ہو گی، ادارے متحرک ہو جائیں گے، مختلف تنظی میں خود احتسابی اختیار کریں گی، آئندہ ایسے اندوہناک واقعات کا راستہ بند ہو جائے گا، تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ حالات اس سے مزید بدتر ہو سکتے ہیں ، بہتر نہیں ۔ کس میں اتنی جراَت ہے کہ حالات کو درست کرنے کا بیڑہ اٹھائے ۔ ہر ایک تو اپنے آج کی فکر میں ہے، کل کی فکر کسے ہے بھلا ۔ ابھی چند روز پہلے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ملتان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جو کہا تھا، اسے مَیں نے اپنے کالم میں بھی درج کر دیا تھا، چیف جسٹس نے تنبیہ کی تھی کہ اگر نوجوان وکلاء کی سینئرز نے تربیت نہ کی، تو وہ اس پیشے کی حرمت پر ایک گہرا داغ بن جائیں گے ۔ جہاں چیف جسٹس کی بات کوئی نہ سنے، وہاں ہماشما لوگوں کی بات کون سنے گا? اب ہر کوئی حیران ہے کہ ہسپتالوں کو تو جنگوں میں بھی نشانہ نہیں بنایا جاتا، ان پر بمباری نہیں کی جاتی، چاہے اس بات کا علم بھی ہو کہ اس میں زخمی فوجی زیر علاج ہیں ،تو لاہور کے وکلاء نے کس جگرے سے پنجاب کے سب سے حساس ہسپتال کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔۔۔ وہ کس جنون میں مبتلا تھے اور کیسے یہ بھول گئے کہ اس ہسپتال میں تو وہ بھی اپنے کسی عزیز کو کسی وقت بھی علاج کے لئے لانے پر مجبور ہو سکتے ہیں ۔ لڑائی چند لوگوں سے ہو اور آپ اپنا ہی سب سے قیمتی اثاثہ برباد کر دیں ، اسے کون اچھا کام کہے گا، پھر بستروں پر لیٹے مریضوں کو، جن کے ہاتھوں میں ڈرپ اور چہروں پر آکسیجن کے ماسک لگے ہوں ، دیکھ کر بھی آپ کا دل نہ پسیجے اور آپ پانی پت کی لڑائی سمجھ کر حملہ آور ہو جائیں تو قوم کیا سوچے گی، کیا کہے گی، کبھی اس کی بھی فکر ہوئی آپ کو ؟

مگر صاحبو! کہاں ، اتنی حساسیت اس معاملے میں ہوتی تو یہ واقعہ ہی کیوں رونما ہوتا؟ یہاں تو بس انانیت تھی، انتقام لینے کا ایک اندھا جذبہ تھا، غصہ تھا، بدلے کا بخار تھا، بچوں جیسی سوچ تھی کہ ایک ویڈیو میں کسی ڈاکٹر نے چیلنج کیوں دیا ہے؟ اب قومی ادارے کو ہی تہس نہس کر دینا ہے ۔ اس سانحہ کی پہلی ذمہ دار تو لاہور کی انتظامیہ، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں ، اگر اسی پی آئی سی میں کسی وی آئی پی شخصیت کا علاج ہو رہا ہوتا تو مَیں دیکھتا وکیل تین چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اس تک کیسے پہنچتے؟ سیاسی رہنماءوں کی پیشی پر پورے لاہور کو بند کرنے والے لاہور کے سب سے بڑے ہسپتال کو نہیں بچا سکے ۔ مشتعل اور انتقامی نعرے لگاتے ہوئے وکلاء بلا روک ٹوک ہسپتال کے سامنے پہنچ گئے ۔ کیا یہی گورننس ہے، کیا یہی انتظام ہے؟ کبھی ایسا ہوا ہے کہ چار پانچ سو لوگ احتجاج کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ جائیں اور پولیس انہیں روکنے میں کامیاب نہ ہوئی ہو ۔ اگر یہی وکلاء وزیر اعلیٰ ہائوس، گورنر کی رہائش گاہ، صوبائی اسمبلی یا پاکستان ٹیلی ویژن لاہور کی عمارت کو نشانہ بنانے نکلتے تو پولیس نے ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جانا تھا، چاہے مار مار کر ان کا بھرکس کیوں نہ نکالنا پڑتا، انہیں ہر قیمت پر روک لینا تھا ،مگر پنجاب انتظامیہ اور پولیس کی نظر میں کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی ۔ پچھلے پندرہ دنوں سے ایک لڑائی کا معاملہ چل رہا تھا، اسے حل کرانے کی توفیق تو نہ ہوئی، تاہم یہ توفیق بھی نہ ہو سکی کہ پی آئی سی کو ہی تباہی سے بچا لیا جائے ۔

وکلاء اگر جنونی ہو چکے تھے، تو پولیس اور انتظامیہ بھی دیوانی ہو چکی تھی، جسے ذرہ بھر علم نہیں تھا کہ اس اہم علاج گاہ کو میدان جنگ بھی بنایا جا سکتا ہے ۔

ایسے کتنے ہی واقعات ہو چکے ہیں ، جن میں وکلاء قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں ، ججوں کی پگڑیاں بھی ان کے ہاتھوں سے محفوظ نہیں اور سرکاری افسروں کی درگت بنانا وہ اپنا استحقاق سمجھتے ہیں ۔ وکلاء گردی کی اصطلاح اب اتنی مستعمل ہو چکی ہے کہ عام آدمی بھی اس کے معانی سمجھتا ہے ۔ اسی رویے پر چیف جسٹس نے دبے دبے لفظوں میں اظہار افسوس کرتے ہوئے سینئر وکلاء سے اصلاح احوال کا کہا تھا ۔ پولیس، انتظامیہ، ججوں اور ڈاکٹروں کے ساتھ وکلاء کی لڑائیاں آئے روز کا معمول بن چکی ہیں ، مگر یہ تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایک ہسپتال پر باقاعدہ حملہ کر دیں گے، تین گھنٹے تک پوری قوم سفاکی اور ظلم کے مناظر ٹی وی سکرینوں پر براہ راست دیکھتی رہی،

کیسے دکھی انسانیت پر قیامت ٹوٹی اور کیسے جان بچانے کے لئے ہسپتال آنے والوں کو جان سے جانا پڑا ۔ بڑی مشکل سے غریب ملک میں بننے والے قومی اثاثوں کو بے دردی سے تہس نہس کر دیا گیا ۔ وہ ہسپتال جہاں دکھی مریض، دل کے ہاتھوں بے کل انسان بڑی تعداد میں بروقت موجود ہوتے تھے، ویرانی کا منظر پیش کرنے لگا ۔ برے حالات کی و جہ سے اسے بند کرنا پڑا اور امراض دل کے شکار مریض دربدر ہو گئے ۔ ایسا تو زلزلوں میں بھی نہیں ہوتا، جنگوں میں بھی یہ خانماں بربادی نظر نہیں آتی ۔ یہ وحشت تھی، جنون تھا، سفاکی تھی یا کیا تھا، جس نے اچھے بھلے پڑھے لکھے ہونے کے دعویداروں کو اندھا کر دیا ۔ جنہیں یہ ہوش ہی نہ رہا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں ، اپنے پائوں پر کلہاڑی مار رہے ہیں ۔ توقع یہ تھی کہ اس سانحہ کے بعد بار ایسوسی ایشنز میدان میں آئیں گی، قوم سے معانی مانگیں گی، اس رویے کی مذمت کریں گی، جس کی کوئی بھی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کریں گی، گروہی سوچ کی بجائے قومی سوچ اپنائیں گی، لیکن مفادات و تعصبات میں ڈوبی ہوئی فضا میں ایسے جراَت مندانہ فیصلے کون کرتا ہے، اُلٹا ہڑتالوں اور مظاہروں کا اعلان کر دیا گیا ۔

پوری قوم ایک طرف ہے اور یہ وکلاء دوسری طرف چلے گئے ہیں ۔ ایسے میں اعتزاز احسن اور علی ظفر جیسے وکلاء کا دم غنیمت ہے ،جنہوں نے وکلاء کے اس وحشیانہ عمل کی کھل کر مذمت کی ہے اور اسے کالے کوٹ کے تقدس و حرمت کے خلاف قرار دیا ہے ۔ یہ کڑوی حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ ہمارا نظامِ انصاف وکلاء برادری کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے ۔ جب سے یہ نظریہ عام کیا گیا ہے کہ بار اور بنچ نظامِ انصاف کے دو پہیئے ہیں ، اس وقت سے بار بنچ پر حاوی ہو گئی ہے ۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے باور کرایا تھا کہ بار اور بنچ کے علاوہ ایک تیسرا فریق بھی ہے جو اس گاڑی کے آگے جتا ہوا ہے اور وہ ہے سائل ۔۔۔جب تک اس کا دھیان نہیں رکھا جاتا، یہ گاڑی چل نہیں سکتی ۔ مگر ایسی باتیں کون سنتا ہے ۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنا عہدہ بچانے کے لئے بار ایسوسی ایشنوں کو جو طاقت دے گئے ہیں ، اب شیر کے منہ سے نوالہ کون چھینے گا  ہائیکورٹ تک تو اس بے لگامی کے اثرات پہنچ چکے ہیں ، اب صرف سپریم کورٹ بچ گئی ہے،کسی دن منہ زوری کی یہ آگ وہاں تک بھی پہنچ سکتی ہے ۔ جب قانون ہی یرغمال بن گیا ہو، تو خوف کس بات کا؟ جن وکلاء کے خلاف پی آئی سی پر حملے کے مقدمات درج ہوئے ہیں ، یا جنہیں گرفتار کیا گیا ہے، ان کے مقدمات سننے والے ججوں کی خدا خیر کرے ۔ جس نے ضمانت نہ لی، وہ زیر عتاب نہ آ جائے ۔ پولیس کو اپنی فکر ہو گی کہ ان ملزموں کو لے کر کچہری کیسے جائے اور پھر با حفاظت واپس بھی لائے ۔ گواہ سارے ڈاکٹر ہیں ، وہ عدالتوں میں کیسے پیش ہوں گے، اور جو وکلاء انہیں ہسپتال میں سبق سکھانے آ گئے تھے، وہ کچہری میں ان کا کیا حال کریں گے؟ بڑی تلخ اور گھمبیر حقیقتیں سامنے ہیں ۔ ایسے میں اگر حکومت عوام کا دل خوش کرنے کے لئے یہ کہتی ہے کہ ہسپتال پر حملہ کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنائیں گے تو اسے دل پر ہاتھ رکھ کرسن لینا چاہئے، ہم پہلے بھی تو 72 برسوں سے ایسے ہی پھوکے دعوے سن رہے ہیں ۔

مزید : رائے /کالم


loading...