ریاست کو چیلنج

ریاست کو چیلنج

  



بدھ،11دسمبر کا دن پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دِنوں میں سے ایک تھا ۔ چند برس پہلے اِسی دسمبر کے مہینے میں دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کر کے معصوم بچوں اور استادوں کو نشانہ بنایا تھا،اُنہیں خون میں نہلایا تھا،اور اس دسمبر ہی کے مہینے میں لاہور کے سینکڑوں وکیلوں نے امراض دِل کے بڑے ہسپتال۔۔۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی۔۔۔ پر حملہ کیا ۔ ڈاکٹروں اور مریضوں کو نشانہ بنایا ۔ پتھراءو کیا ۔ قیمتی آلات کو توڑ پھوڑ ڈالا،متعدد مریض جان کی بازی ہار گئے ۔ یہ وکیل لاہور کی مصروف ترین شاہراہ۔۔۔ شاہراہ قائداعظم(مال روڈ)۔۔۔ سے دندناتے اور نعرے لگاتے، دن دیہاڑے ہسپتال کی طرف پیدل مارچ کر رہے تھے ۔ ان میں ایسے بھی تھے، جن کے پاس اسلحہ تھا،یہ ڈاکٹروں کو ہسپتال کے اندر گھس کر مار ڈالنے کے اعلانات کر رہے تھے ۔ ان حملہ آوروں کا مارچ کم و بیش پون گھنٹہ جاری رہا ہو گا،لیکن اس شہر کے رکھوالوں کو کوئی خبر نہ ہوئی ۔ سیف سٹی کے کیمروں میں یہ مناظر دیکھنے والے ٹس سے مس نہ ہوئے ۔ پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ ارکان بھی مدہوش رہے، اور یوں معلوم ہوا کہ لاہور کیا، پوری ریاست لاوارث بن چکی ہے ۔ یہاں قانون نافذ کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ ہے تو جاگ نہیں رہا،جاگ رہا ہے تو حرکت کرنے پر تیار نہیں ہے،اپنی ذمہ داری کا احساس اس کے دِل میں زندہ نہیں ہے ۔

اس حملے نے قوم کو اسی طرح صدمہ پہنچایا ہے، جس طرح پشاور سکول کے بچوں پر حملہ کرنے والوں نے پہنچایا تھا ۔ ہسپتال پر حملہ تو دشمن کے جہاز،جنگ کے دوران بھی نہیں کرتے ۔ مہذب ملکوں میں ہسپتالوں کے قریب سے گذرنے والی گاڑیوں کو ہارن تک بجانے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ دُنیا کی تاریخ کا شاید یہ پہلا واقعہ ہو گا کہ قانون کی حفاظت کا دعویٰ کرنے والے،قانون کے نام پر روٹی روزی کمانے والے،اور ہر دم ملک میں قانون کی حاکمیت کی دہائی دینے والوں میں سینکڑوں ایسے دیکھنے میں آئے،جو دہشت گردی بلکہ غنڈہ گردی میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔ پاکستان دُنیا کا پہلا (اور آخری) ملک قرار پائے گا،جس میں اس طرح کی واردات بھی کی جا سکتی ہے، منصوبہ بنا کر ایسا شرمناک حملہ کیا جا سکتا ہے ۔

کہا گیا کہ چند روز پہلے ڈاکٹروں اور وکیلوں کے ایک گروہ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا،یہ بھی کہا گیا کہ ایک نوجوان ڈاکٹر نے بعدازاں اپنے ویڈیو خطاب میں وکیلوں کا تمسخر اڑایا تھا،اگر یہ سب درست تسلیم کر لیا جائے تو بھی متعلقہ وکیل(یا وکیلوں ) کو مقدمہ درج کرانا چاہیے تھا ۔ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے تھا،اور اگر مظاہرے کا شوق تھا تو وزیر صحت یا وزیراعلیٰ کے دفتر کے باہر جا کر یہ شوق پورا کر لینا چاہیے تھا ۔ اس پرپوری قوم سراپا فریاد بن گئی،ہر طرف صف ِ ماتم بچھ گئی، صدائے احتجاج آسمان کو چھونے لگے،پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی ۔ چند ’’وکیل رہنماءوں ‘‘ نے لیپا پوتی کرنے اور واقعات کو الٹنے کی کوشش کی،لیکن اس طرح انہوں نے اپنا ہی منہ کالا کیا کہ کیمروں اور ٹی وی پر جو دیکھا جا رہا تھا، اور جو محفوظ کیا جا چکا تھا اس کی تردید ممکن نہیں تھی ۔ البتہ سلام ہے اعتزاز احسن، سعد رسول اور ان جیسے دوسرے قانون دانوں پر جنہوں نے کسی مصلحت سے کام نہ لیا،واقعہ کی برملا مذمت کی، اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ افسوس عمومی رویہ اس کے برعکس تھا ۔ پنجاب کے کئی شہروں میں وکیلوں نے اظہارِ معذرت کے بجائے مظاہرے کیے، عدالتوں پر حملے کئے،اور عدالتی عملے کو زدوکوب کرنے کی کوشش کی ۔

وکیلوں کے کسی جتھے کی طرف سے قانون کو کھلونا سمجھنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ بار بار اس طرح کی بے لگامی دیکھنے میں آئی ہے لیکن ملزموں کو قرار واقعی سزا نہیں مل پائی ۔ عدالتیں عموماً چشم پوشی سے کام لیتی ہیں ، اور وکلاء تنظی میں افہام و تفہیم کے نام پر قانون توڑنے والوں کے ہاتھ مضبوط کر دیتی ہیں ۔ لاہور میں جو کچھ ہوا،اس نے گواہی دے دی کہ پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے ۔ اب کسی مصلحت، مدا ہنت یا مفاہمت سے کام نہیں چلے گا ۔ قانون کو پوری طاقت کے ساتھ نافذ کرنا ہو گا ۔ ایک ایک کو چُن چُن کر کٹہرے میں لانا ہو گا ۔ کڑی سزائیں دینا ہوں گی اور وکالت کے لائسنس منسوخ (یا معطل) کرنا ہوں گے ۔ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ ریاست کے لیے چیلنج ہے ۔ ہر وہ شخص جو خود کو ذمہ دار سمجھتا ہے،اور ریاست پاکستان کا تنخواہ دار ہے، کان کھول کر سُن لے کہ اگر قانون کے نام نہاد رکھوالوں کو ان کا ’’حق‘‘ ادا نہ کیا گیا، اور قانون پوری شدت کے ساتھ نافذ نہ کیا گیا تو پھر ریاست کا استحکام تو کیا اس کا وجود تک (خدانخواستہ) خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ حکمران جماعت کے بعض کارندوں نے اس پر بھی گروہی سیاست کرنے کی کوشش کی ہے،اور اپنے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنا گذرے ہیں ، لیکن ہ میں خوشی ہے کہ اس اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیا گیا ۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماءوں نے بلاجھجک اس حملے کی مذمت کی ہے ۔ نظم و ضبط قائم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور ضرور ت بھی ۔ قانون ہاتھ میں لے کر بچ نکلنے والے پورے معاشرے کا مزاج بگاڑتے،اور قانون شکنی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ اس رجحان، اس رویے، اس روش کو دفن کیے بغیر ریاست ِ مدینہ تو درکنار، ایک عام انسانی ریاست بھی قائم نہیں کی جا سکتی ۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...