زرداری کی ضمانت اور نیب کا قانون!

  زرداری کی ضمانت اور نیب کا قانون!

  



اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر دی گئی درخواست ضمانت منظور کرکے ان کو ایک ایک کروڑ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے پر رہا کرنے کا حکم دے دیا جس پر عمل بھی ہو گیا ۔ آصف علی زرداری بھی ذیابیطس، دل اور کمر کے امراض میں مبتلا ہیں ، گرفتاری سے قبل وہ اپنے ذاتی خرچ پر علاج کراتے، ان کی ادویات کا خیال رکھنے والے بھی موجود ہیں اور یوں وہ چلتے پھرتے اور سیاست کرتے نظر آتے تھے ۔ فاضل عدالت نے اپنے حکم میں جو رائے دی ہماری نظر میں وہ اہمیت کی حامل ہے ۔ فاضل عدالت کے مطابق آصف علی زرداری کو سزا نہیں ہوئی وہ زیر تفتیش اور حراست میں ہیں ، اس پر ان کی طبی رپورٹ سے ظاہر ہوا کہ وہ بیمار ہیں ، ان کا علاج سرکاری طور پر عوامی خزانے سے ہو رہا ہے، وہ ضمانت پر ہوں گے تو اپنے خرچ پر اپنے مرض کا علاج کرا سکیں گے ۔ فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں جو تحریر کیا وہ چشم کشا ہے کہ نیب کے موجودہ قانون میں ضمانت کا تصور نہیں ، نیب کو 90روز تک ریمانڈ کا اختیار ہے، تاہم احتساب عدالت کو ضمانت لینے کا نہیں ، ملزم حضرات اس کے لئے عدالت عالیہ ہی سے رجوع کرتے ہیں اور اب تک ان کو ضمانت کا حق ملا تو یہ انہی عدالتوں سے ملا، آصف علی زرداری سے قبل سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کو بھی ہائیکورٹ ہی سے ضمانت ملی اور وہ علاج کے لئے لندن گئے ۔ تاہم آصف علی زرداری کے ذراءع اور خود بلال بھٹو کے مطابق اب زرداری کا علاج خاندان کر ا سکے گا ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی فاضل بنچ کے فیصلے کی روشنی میں قومی اسمبلی کی اس قائمہ کمیٹی کو غور کرنا ہو گا جس کے پاس نیب کا ترمیمی صدارتی آرڈیننس غور کے لئے بھیجا گیا اور جسے سفارشات کے ساتھ واپس قومی اسمبلی میں آنا ہے ۔ بہتر ہو گا کہ منتخب نمائندے جو نیب کے قانون اور عمل کی وجہ سے اعتراض اور تنقید کرتے رہتے ہیں وہ اپنی توانائی نئے ترمیمی ;آرڈیننس کی درستگی پر خرچ کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ منصفانہ اور شفاف بنا لیں کہ اس پر تاجروں نے احتجاج کیا تو ان کی بات سنی گئی ۔ افسر شاہی نے شور مچایا تو ان سے بھی سفارشات لی گئیں ۔ احتساب سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور نہ کیا جا رہا ہے، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ قانون بہتر ہو اور احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے ۔ توقع ہے کہ منتخب نمائندے اب اس قانون کو زیادہ بہتر اور مفید بنا لیں گے ۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...