حضرت مولانا محمد نافعؒ…… ایک عہد ساز شخصیت

حضرت مولانا محمد نافعؒ…… ایک عہد ساز شخصیت

  



حضرت مولانا محمد نافعؒ (جامعہ محمدی شریف والے) اُن نابغہ روزگار شخصیات میں سے تھے جن کی نظیرہر دور میں گنی چنی ہوا کرتی ہے، علم و فضل کے اعلیٰ مقام کے باوجود اُنہوں نے کس طرح نام و نمود اور شہرت کے رائج الوقت طریقوں سے اِجتناب کرتے ہوئے تواضع اور سادگی کے ساتھ زندگی گزارِی اور اپنے آپ کو علم و تحقیق کے لیے وَقف رَکھا، وہ اُن کے اِخلاص، للہیت اور خدمت دِین کی تڑپ کا مظہر ہے۔ اُنہوں نے اپنی جان کھپاکر جو علمی اور تحقیقی شاہ کار اپنی تصانیف کی شکل میں چھوڑے ہیں وہ اُمت کا عظیم سرمایہ ہیں۔مجھے حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ سے نیاز اُس وَقت حاصل ہوا جب وہ اپنی شاہ کار کتاب ”رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ“ کی تالیف میں مشغول تھے، اُس وَقت میرے وَالد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ؒ، مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف ؒ کی دعوت پر فیصل آباد تشریف لے گئے تھے اور میں بھی حضرت وَالد مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے ساتھ تھا، اُس وَقت حضرت مولانا محمد نافع ؒ اپنی تالیف کا مسودہ حضرت وَالد ؒ کو دِکھانے کے لیے تشریف لائے، حضرت وَالد ؒ اگرچہ سفر میں تھے لیکن کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اُنہوں نے مسودَہ کا معتد بہٖ حصہ ملاحظہ فرمایا اور اُس پر اپنی پسندیدگی کا بھی اِظہار فرمایا، البتہ ایک مقام پر مسودَے میں اِمام زہری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں جو تبصرہ تھا، اُس پر نظر ثانی کی تاکید فرمائی جسے حضرت مولانا محمد نافع ؒ نے قبول فرماکر متعلقہ مقام پر عبارتیں تبدیل بھی فرمادیں

اِس سے پہلے مجھے حضرت مولانا محمد نافع ؒ سے کوئی تعارُف حاصل نہیں تھا، لیکن اسی ملاقات میں ایک طرف اُن کے مسودَے کے علمی اور تحقیقی مقام اور دُوسری طرف اُن کی اِنتہائی تواضع اور سادگی نے دِل پر گہرا نقش چھوڑَا، بعد میں جب اُن کی کتاب ”رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ“ منظر عام پر آئی اور میں اُس کے مطالعے سے مستفید ہوا تو کچھ اندازہ ہوا کہ اِس سادَہ اور متواضع شخصیت نے کتنا بڑعلمی ا کارنامہ سر انجام دِیا ہے، میں اُس زمانے میں ”فَتْحُ الْمُلْہِمْ“ (عربی شرح صحیح مسلم، از علامہ شبیر احمد عثمانیؒ) کا تکملہ لکھ رَہا تھا اور اُس میں بھی کئی مقامات پر میں نے اُن کی کتاب سے اُن کا حوالہ دے کر اِستفادَہ کیا۔

حضرت مولانا محمد نافع ؒ سے براہِ رَاست ملاقات کے مواقع تو شاذ و نادِر ہی آئے، لیکن خط و کتابت کے ذَرِیعے مستقل رَابطہ رَہا۔ اور الحمد للہ اُن کے بہت سے مکاتیب میرے پاس محفوظ ہیں جن کی نقول میں اُن کے صاحب زادگان کو بھیج رَہا ہوں تاکہ وہ اگر چاہیں تو اُنہیں شائع فرماسکیں۔ حضرت مولانا محمد نافع ؒ کا مرتبہ میرے لیے اُستاذ ہی نہیں اُستاذُ الاساتذہ جیسا تھا۔ میری پیدائش کا سن اور اُن کی دَارُ العلوم دِیوبند سے فراغت کا سنہ ایک ہی ہے، یعنی1362؁ھ، لہٰذا علم و فضل، عمر، قدامت اور تجربہ کسی بھی حیثیت سے میری اُن سے کوئی نسبت نہیں ہوسکتی، لیکن یہ اُن کی تواضع کا مقامِ بلند تھا کہ وہ خط و کتابت کے ذَرِیعہ اپنی تالیفات سے مجھ کو مطلع بھی فرماتے رہتے اور بعض اوقات مشورَہ بھی فرماتے.....چونکہ میں اُن کی کتاب ”رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ“ سے بہت متأثر تھا اور میری نظر میں اِس موضوع پر کسی بھی زبان میں ایسی جامع، معتدل اور مؤثر کتاب نہیں لکھی گئی، اِس لیے میری خواہش تھی کہ اس کتاب کا دُوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہو، لہٰذا میں نے اپنے ایک رَفیق مولانا لقمان حکیم صاحب سے جو اُس وَقت جامعہ دَارُ العلوم کراچی میں اُستاذ تھے، یہ دَرخواست کی کہ اس کا عربی میں ترجمہ کریں، چنانچہ الحمد للہ اُنہوں نے بڑی قابلیت کے ساتھ یہ خدمت انجام دِی۔ میں چاہتا تھا کہ یہ کتاب عرب ممالک ہی میں اچھے معیار کے ساتھ شائع ہو۔ اس کے لیے میں نے بحرین میں اپنے ایک دوست سے کتاب کی اہمیت کا ذِکر کیا اور یہ دَرخواست کی کہ وہ اسے اپنے اہتمام میں بیروت سے شائع کرائیں۔ اُنہوں نے اسے بخوشی قبول کیا اور میں نے اس کی اِطلاع حضرت مولانا محمد نافع ؒ کو بھی دے دِی، جس سے حضرت مولانا محمد نافعؒ بہت ہی خوش ہوئے۔ افسوس ہے کہ وَہاں اس کی طباعت اور اِشاعت میں کافی دیر لگ گئی، یہاں تک کہ وہ صاحب فراش ہوگئے اور مجھ سے بار بار تقاضہ فرماتے رَہے کہ وہ جلد شائع ہوجائے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چند سال پہلے وہ حضرت مولانا نافعؒ کی حیات ہی میں شائع ہوکر آگئی، جس پر اُن سے بہت سی دُعائیں ملیں۔

”رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ“ کے علاوہ اُن کی تالیفات میں سیرتِ علی المرتضیٰؓ، سیرتِ معاویہؓ، سوانح حسنین شریفینؓ، بناتِ اربعہؓ، مسئلہ اقرباء نوازی، فوائد نافعہ (2جلدیں)، حدیث ثقلین، مسئلہ ختم نبوت اور سلف صالحین اور حضرت ابو سفیانؓکی سوانح بھی اسی اعلیٰ معیار کی ہیں۔ جب اُن کی کوئی کتاب مکمل ہوتی تو وہ اپنے کرم سے مجھ ناکارَہ کو ضرور بھیجتے اور تبصرہ کی بھی فرمائش کرتے، چنانچہ تعمیل حکم میں، اُن کی کئی کتابوں پر میں نے تبصرہ بھی لکھا جو”البلاغ“میں شائع ہوتا رَہا ہے۔

عرصہئ دَرَاز سے حضرت مولاناؒ ضعف و علالت کی وَجہ سے صاحب فراش تھے اور بالآخر اُن کا وَقت موعود آپہنچا،جس سے کسی کو مفر نہیں اور 31 دِسمبر 2014ء؁ کووفات پاگئے۔....میں اُس وَقت خود ایک بیمارِی میں مبتلاتھا، صاحب زادگان سے خط کے ذَرِیعہ ہی تعزیت کی۔ دِل سے دُعا ہے کہ اللہ تبارَک و تعالیٰ اُن کی خدماتِ جلیلہ کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبول عطا فرماکر اُن کو اپنے خصوصی مقاماتِ قرب میں جگہ عطا فرمائے اور اُن کے صاحب زادگان کو اُن کا مشن جارِی رَکھنے کی توفیق سے نوازے۔ آمین

مزید : ایڈیشن 1