دین اسلام کی شان! مفتی محمد بن عبداللہ شجاع آبادی

دین اسلام کی شان! مفتی محمد بن عبداللہ شجاع آبادی

  



دین اسلام کی حفاظت

1۔دین محمدی کی حفاظت کا پہلا بنیادی اصل خود اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا اس کی حفاظت کا ذمہ لے لینا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

2۔یہ دین اسلام انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات سے متعلق ہے جو امت کے مسلسل ومتواتر تعامل کی وجہ سے محفوظ چلا آ رہا ہے۔

3۔اسی طرح اس دین محمدی کے نقل وکتابت میں اسناد کا کردار ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

دین اسلام کا اولین بنیادی اصل قرآن کریم ہے تو اس کے نزول میں بھی اسناد کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:

یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جسے جبریل امین لے کر آئے ہیں۔ اے محمد! آپ کے قلب مبارک پر نازل کیا گیا ہے جس سے آپ کو منصب رسالت پر فائز کیا گیا ہے۔ یہ قرآن واضح عربی زبان میں ہے۔(الشعراء)

یہاں قرآن مجید کے نزول میں اسنادی ذکر ہے اور وہ جبریل امین ہیں۔ پہلے زبانی پڑھا گیا پھر اسے ایک مجموعہ اور کتاب میں محفوظ کر لیا گیا جو عہد رسالت سے آج تک صدور وسطور میں متواتر من وعن محفوظ ومامون موجود ہے۔

پھر اسی طرح شریعت محمدی کا ما خذ ثانی واصل ثانی حدیث رسول کریمؐ ہے۔ یہ بھی دراصل وحی کی قسم ہے۔ یہ وحی خفی ہے اور قرآن وحی جلی ہے۔

آپؐ کی حیات مبارکہ میں آپ اور آپؐ کے اصحاب کرام) کے تعامل سے حدیث بھی محفوظ رہی ہے اور آپؐ نے اپنے صحابہ کرام) کو اس پر عمل کرنے کی تلقین فرمائی۔

قرآن کی طرح بالآخر حدیث شریف بھی صحائف اور مجموعوں میں مکتوب ہو کر محفوظ ہو گئی۔ کتابت حدیث کی جانب رغبت دلائی اور ایک مشروط طریقے سے قلمبند کرنے کا ارشاد فرمایا:

کہ حدیث لکھیں اور سند کے ساتھ لکھیں۔

گویا قرآن وحدیث دونوں میں اسناد کی اہمیت ظاہر کی گئی ہے اور اس کا شرف صرف امت محمدیہ کو حاصل ہے۔ جبکہ امم سابقہ اس فضیلت سے محروم رہی ہیں۔ علامہ محمد بن حاتم المظفرؒ فرماتے ہیں:

یعنی اللہ سبحانہ نے امت محمدیہ کے لیے اس اسناد کے ذریعے قرآن وحدیث کو محفوظ کر لیا اور ان کو ممتاز رکھا۔ جبکہ پہلی امتیں اس اسناد کی برکات سے محروم ہو گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاتھوں میں جو مجموعے تھے ان میں اصل کتب سماوی اور عام خبریں ایک دوسرے سے خلط ملط ہو گئیں ان میں غیر ثقہ اور غیر معتبر لوگوں کے قصے کہانیاں شامل ہو گئے۔ یہ وہ حقیقت ہے کہ جس کا دنیا اعتراف کرتی ہے کہ اہل اسلام کا دین محفوظ ہے تو کیوں اور دوسروں کا کیوں غیر محفوظ ہے؟

اب ہم پھر اسناد کا تذکرہ کرتے ہیں۔ امام عبداللہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں:

(مقدمہ مسلم)

اسناد دین کا حصہ ہیں اور اگر اسناد کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو پھر ہر شخص جو چاہے گا وہ کہہ دے گا۔

امام زہریؒ حدیث کو بلاسند بیان کرنے کو اس طرح تشبیہ دیتے ہیں: (ترقی السطح بلا سلم) (تدریب الراوی: ج)کہ جس طرح سیڑھی لگائے بغیر چھت پر چڑھنا ہے۔

عالی سند:

چونکہ دین کی حفاظت میں سند کا ایک بلند مقام ہے تو محدثین نے اس کے حصول میں بڑی رغبت دی ہے بلکہ قرب الٰہی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ علامہ محمد بن اسلم الطوسیؒ فرماتے ہیں

(قُرْبُ الْإِسْنَادِ قُرْبَۃٌ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنَّ الْقُرْبَ مِنَ الرَّسُولِ بِلَا شَکٍّ قُرْبٌ إِلَی اللَّہِ.) (فتح المغیث)

عالی سند قرب رسول کا وسیلہ ہے جس سے قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے۔

امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں:

(طلبُ الإسنادِ العالی سُنَّۃٌ عمن سلف.) (مقدمہ ابن الصلاح)

یعنی محدثین کے نزدیک عالی سند کا طلب کرنا ایک مستحسن عمل ہے۔

دینی مدارس میں شیوخ الحدیث کو چاہیے کہ وہ طلبہ میں اس کی ترویج کریں اور تدریس کے ساتھ ساتھ اجازۃ الروایۃ کے عمل کو بھی عام کریں۔ محدثین کا یہ محبوب مشغلہ رہا ہے۔ بلکہ اجازۃ الروایۃ کے ذریعہ سے طالب علم کے پاس وسیع علم کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ہٰذا ما عندی!۔

مزید : ایڈیشن 1