پردہئ سیمیں سے اسلام کے سائے میں

پردہئ سیمیں سے اسلام کے سائے میں

  



فوزان الٰہی خان

ہر سن و سال کی عورتیں پردے کا اہتمام کرنے لگی ہیں، مسجد جانے والے اور مذہبی نشریات سننے والے دن بدن بڑھ رہے ہیں، مصر کے بارے میں آئے دن ایسی باتیں آپ کے کان میں پڑتی ہی رہتی ہیں، مگر اس قبیل کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں بڑے بڑے مشاہیر ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اپنے اس فیصلے کا اعلان و اظہار کرتے دیکھے جارہے ہیں کہ انہوں نے پردہئ سیمیں کی شہرت و ناموری کو لات ماردی ہے اور اب خداہی کے ہو رہیں گے۔

اس قسم کا سب سے اہم اور خوش آئند اعلان 25برس پہلے اس وقت ہوا تھا جبکہ مصر کی سب سے زیادہ دل فریب اداکارہ شمس برودی نے بڑی کامیاب فلمی زندگی کے خاتمے اور پردے کے اہتمام کی بات برسر عام کہی تھی یہی وہ شمس تھی جس کی ایک فلم ”ملاطلی کا حمام“ 37ء میں سنسر بورڈ کی نظر میں انتہائی اشتعال انگیز قرار پائی تھی، مصر کی فلمی دنیا کی یہی اداکارہ اب سب سے پہلے یہ اعلان کررہی ہے کہ اداکاری ایک معصیت ہے، اس کا شوہر ممتاز اداکار حسن یوسف بھی اس ”کوئلے کی کان“ کو خیرباد کہہ دیتا ہے اور میاں بیوی دونوں اس سے تائب ہوکر مذہبی زندگی اختیار کرلیتے ہیں۔

برودی کو انتہائی سخت ذہنی کشمکش سے دوچار ہونا پڑا، جس کے نتیجہ میں اس کی زندگی میں ایک مکمل اخلاقی اور جسمانی تبدیلی رونما ہوئی، اب وہ ٹی وی کے صرف مذہبی پروگراموں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

شمس اور یوسف کے علاوہ دوسرے اداکاروں نے بھی پردہئ سیمیں کو دونوں ہاتھوں سے سلام کیا اور خدا کی عبادت کی پرامن زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ صدی کی نویں دہائی میں چلی ہوئی دینی لہر سے متاثر ہوکر بہت سی فلمی ہستیوں نے معصیت کی زندگی سے توبہ کرلی اور ازسرنو مسلمان ہوگئیں،

مثلاً اداکارہ حنا ثروت اور رقاصاؤں میں زینوی مصطفی، ہالہ صفی اور سحر حمدی ان میں سرفہرست ہیں۔

واضح رہے کہ نئی نسل کے بہت سے مشاہیر نے آرٹ اور کلچر کے ان نفع بخش میدانوں کو ترک کردینے اور خدا کی عبادت میں زندگی بسر کرنے کا جو فیصلہ کیا وہ شیخ متولی شعراویؒ کی تعلیم و تربیت کا فیض ہے، جو مصر کے ایک نامور عالم اور خدا رسیدہ بزرگ تھے، ان کی دردمندانہ پندو موعظت نے فلمی بستی کی بہت سی ہستیوں کے ضمیر کو زندہ اور ان کے شعور کو بیدار کردیا، ان کے بعد یہ کام 2مخلص داعیوں عمرو خالد مصری اور شیخ حبیب بن علی یمنی نے جاری رکھا، ان کی تبلیغی جدوجہد کے طفیل راہ راست کی طرف آنے والے فلمی ستاروں میں یہ لوگ مشہور ہیں، حمدی حافظ، مجدی حافظ، مجدی امام، سحیر بابلی، عفاف شعیب، ساحرہ وغیرہ۔

ان مخلص داعیوں میں 30سالہ عمرو خالد سیدھے سادھے آدمی ہیں، انگلستان میں رہتے ہیں، دعوتی میدان میں جدت پسند ہیں، ان کی ایک خاص بات یہ ہے کہ روحانی حیثیت سے فاقہ زدہ بہت سے لوگوں کی تسکین کا انہوں نے سامان کیا ہے۔

چنانچہ 2002ء ہی کی بات ہے کہ ان کے حلقہ درس میں حاضری کے نتیجہ میں عبیر صبری نامی ممتاز اداکارہ نے اپنی انتہائی نفع بخش اداکاری چھوڑ دی، پردہ کرنے لگی اور اپنا سرمایہ اور ساری زندگی دین اسلام کے لئے وقف کردی، فالحمدللہ۔

فلمی زندگی ترک کردینے کی وجہ سے صبری سے اس کے شائقین ناخوش ہوگئے، مگر اسے اس کی ذرا پروا نہیں، وہ کہتی ہے کہ اس نے دولت اور شہرت کو مکمل اسلامی زندگی کے لئے چھوڑ دیا ہے کیونکہ زندگی اتنی مختصر ہے کہ اسے کھیل کود کی نذر نہیں کیا جاسکتا، ایک ٹی وی پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں صبری کہتی ہے ”میں نے 2مذہبی درس سنے، ایک حبیب بن علی یمنی کا اور دوسرا ایک سابق اداکارہ کا اور میری کایا پلٹ ہوگئی،ان درسوں کے معًا بعد میں نے اسلامی لباس زیب تن کرنے کا فیصلہ کرلیا“۔

فلمی ”تخلیق کار“ اس وقت بھی بڑے مایوس ہوگئے جب ایک اور اداکارہ ”مونالزا“نے فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا، ”آمسٹرڈم میں حمام“ نامی فلمم میں اس کی اداکاری نے دھوم مچادی تھی، مونا کہتی ہے کہ ایک عجیب و غریب حادثے نے اس کی دنیا بدل دی، وہ ایک بار سمندر کے کنارے Head Phone کے ذریعے موسیقی کے مزے لے رہی تھی، اچانک موسیقی رک گئی، پھر چند لمحوں کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کی آواز آنے لگی، حالانکہ یہ ریکارڈ نہیں ہوئی تھی، وہ حیران تھی کہ یہ آواز کہاں سے آرہی ہے، ہر چند غور کیا، کچھ پتہ نہ چل سکا، اس نے محسوس کیاکہ یہ ہاتف غیبی ہے، چند ہفتے بعد وہ جا عمرہ کرآئی، فلمی دنیا میں پھر قدم نہ رکھا۔

”جیہان بابی کر“ کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے جو ابھی پچھلی صدی کے اخیر تک مصر کی چوٹی کی اداکارہ تھی، اسلام کی خاطر اس نے اپنا سب کچھ قربان کردیا، وہ کہتی ہے کہ دنیا جہاں کی دھن دولت کے باوجود وہ خوش نہیں تھی، کسی چیز کی کمی برابر محسوس ہوتی رہتی تھی، ایسے میں ایک رمضان میں اس نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا، وہ کہتی ہے ”رفتہ رفتہ عدم تحفظ اور بے چینی کا احساس دور ہونے لگا اور میں نے فیصلہ کرلیاکہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر روحانی تسکین کی تلاش میں لگ جاؤں گی“۔

فلمی زندگی ترک کردینے پر ایک دنیا اس سے بھی ناراض ہوگئی، مگر اس نے ذرا پروا نہ کی، وہ اپنے فیصلے پر خوش ہے اور ہفتے میں 4,5بار دینی درس کے کلاسوں میں پابندی سے شریک ہوتی ہے۔

فلمی زندگی ترک کرنے والے بہت سے مشاہیر اپنے فیصلہ پر اٹل ہیں، اب وہ اپنا وقت دین حق کی تعلیم اور اس کی دعوت و اشاعت کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں، (ماشاء اللہ)۔

دین حق کی طرف یہ بازگشت دراصل اس اسلامی احیاء کا نتیجہ ہے جس کی لہر مصری معاشرے میں پچھلے 30برس سے خاصی تیز ہے، اللہ کرے اس کی رفتار تیز تر ہوجائے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...