آرمی چیف کی مدت ملازمت، قانون سازی جلد مکمل کی جائے، مجسٹریٹ سسٹم فوری بحال، نشاندہی کی جانیوالی اراضی کی تفصیلات نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی سے شیئر کی جائیں، ہسپتالوں پر بلوے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: وزیراعظم

    آرمی چیف کی مدت ملازمت، قانون سازی جلد مکمل کی جائے، مجسٹریٹ سسٹم فوری ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کور کمیٹی کو ہدایات دی ہیں کہ آرمی چیف، چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے اپوزیشن سے رابطے تیز کیے جائیں،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی جلد مکمل کی جائے، پارٹی کی تنظیم سازی کا عمل بھی جلد مکمل کیا جائے،لاہور ہسپتال پر حملہ بدترین واقعہ تھا اس میں ملوث افراد کیخلاف کوئی رعایت نہ برتی جائے،معیشت کو مستحکم کرکے مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جاسکے، مجسٹریٹ سسٹم کو فوری بحال کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق کور کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک بھر کی موجودہ سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور، آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے قانون سازی،چیف الیکشن کمشنر اور اراکان کی تعیناتی، معیشت کو مستحکم کرنے، عوام کو ریلیف کی فراہمی، لاہور واقعہ سمیت متعدد اہم امور پر غور کیا گیا۔کور کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرنے کیلئے ملک بھر میں جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، اجلاس میں لاہور واقعہ سے متعلق عدالتوں اور وکلاء تنظیموں سے رابطوں کا بھی فیصلہ کیا گیا۔وزیراعظم نے کہاکہ نشاندہی کی جانے والی اراضی کی تمام تفصیلات نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے ساتھ شیئر کی جائیں،وزیر اعظم کی ہدایت متعلقہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے  نامکمل دستاویزات یا ناجائز قبضہ شدہ املاک کو ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک کرنے کے عمل کو بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے،کم آمدنی والے غریب افراد  اور خصوصاً  شہروں میں واقع کچی بستیوں میں رہنے والے افراد کو جدید سہولتوں سے مزین سستے گھروں کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں واقع کچی بستیوں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر سے جہاں غریب اور پسے ہوئے طبقے کی رہائش کا مسئلہ حل ہوگا وہاں  اسی جگہ رہائشی عمارات کے ساتھ  واقع کمرشل پلازوں کی تعمیر سے حاصل ہونے والی آمدنی کو غریب افراد کو سستے گھر وں کی فراہمی کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔کور کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر حماد اظہر کی جانب سے وزیراعظم کو معیشت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جلد قانون سازی مکمل کی جائے اور اس حوالے سے حکومتی کمیٹی اپوزیشن کیساتھ رابطوں کو مزید تیز کرے، وزیراعظم نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی بروقت تعیناتی کے حوالے سے بھی اپوزیشن کیساتھ رابطے کیے جائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے قانون سازی اور چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے قائم کردہ حکومتی کمیٹی کو مکمل اختیارات دیئے گئے ہیں جنہیں وہ بروئے کار لاتے ہوئے یہ معاملات جلد حل کرلے گی۔اس موقع پر اجلاس کے شرکاء نے تجویز دی کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع بارے قانون سازی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کا انتظار کیا جائے۔کور کمیٹی اجلاس کے شرکاء نے وزیراعظم کو تجویز دی کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف کوئی رعایت نہ برتی جائے،اراکین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس لاہور واقعہ کے دوران بروقت ایکشن لیا جاتا تو نقصان کم ہوسکتا تھا۔جس سے پر شرکاء کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کیساتھ قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کیساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ او بی آئی پنشنز میں حکومت نے 62فیصد اضافہ کیا ہے اس عملے سے پنشنرز کو ریٹائر ہوتے کے بعد تحفظ ملے گا انہوں نے کہاکہ پنشنرز کا تحفظ ریاست مدینہ کی جانب ایک اہم قدم ہے اور یہ سب عمل ادارہ جاتی اصلاحات کے باعث ممکن ہوا ہے۔وزیراعظم نے کور کمیٹی اجلاس میں وزیراعظم دفتر میں قائم سرکاری سوشل میڈیا سیل ختم کرنے کی منظوری دیدی۔اجلاس کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق نے کور کمیٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہسپتال پر حملے میں وزیر اعظم کا رشتہ دار یا کوئی بھی ملوث ہو اس کیخلاف ایکشن لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ  وزیر اعظم نے کور کمیٹی کو مثبت معیشت کے اشاریوں سے متعلق آگاہی دی اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔فردوس عاشق نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کور کمیٹی کے اراکین نے معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور معاشی استحکام پر وزیر اعظم عمران خان کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اجلاس میں مقامی حکومتوں سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔معاون خصوصی نے کہا کہ مہنگائی کی روک تھام اور ذخیرہ اندوزی کو قابو کرنے پر حکومتی اقدامات کو بھی سراہا گیا۔فردوس عاشق نے کہا کہ بیماری ہسپتال میں ٹھیک ہو سکتی ہے گھر کے نرم بستروں میں نہیں لیکن عجیب بات ہے ملزمان طبی بنیادوں پر ضمانت لے کر اپنے اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔ آخر یہ کیسے بیمار ہیں جنہیں ہسپتال کے بجائے گھر میں شفا ملتی ہے؟ البتہ ہم بیماروں کی شفایابی کے لیے دعا گو ہیں۔انہوں نے وکلا گردی کے حوالے سے کہا کہ کالے اور سفید کوٹ کا ٹکرا معاشرے میں حوصلہ افزا امید نہیں ہے۔ وزیر اعلی سٹیک ہولڈرز سے رابطہ کریں گے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے فیاض الحسن چوہان کو فون کر کے پی آئی سی واقعہ سے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔ عمران خان نے کہا کسی کو ہسپتالوں پر بلوے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، پی آئی سی ل پر دھاوا بولنے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔وزیراعظم عمران خان نے فیاض الحسن چوہان کی خریت بھی دریافت کی۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے لاہو ر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین ایس ایم عمران کو ہدایت کی ہے کہ عام آدمی کی رہائشی ضروریات پوری کرنے اور مکانات کی کمی دور کرنے کے لئے تعمیراتی شعبے کی حوصلہ افزائی کی خاطر ضروری اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایل ڈی اے کی طرف سے قیمتی زرعی اراضی کے تحفظ کے لئے کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کو فروغ دینے کے لئے قوانین کی منظوری'پرائیویٹ رہائشی سکیموں کے قوانین میں بہتری اور جوائنٹ وینچر کی بنیاد پر منصوبوں کی تکمیل کے لئے قوانین کی تیاری خوش آئند امورہیں جن کے نتیجے میں ایل ڈی اے مزید بہتر طور پر شہر کی ترقی اور شہریوں کی خدمت کرسکے گا۔وزیراعظم نے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے لئے جوائنٹ وینچر کے تحت کام کرنے کی بھی ہدایت کی۔ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین ایس ایم عمران نے وزیراعظم سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم کے ویڑن کے مطابق ایل ڈی اے میں کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔انہوں نے وزیر اعظم کو لاہور کے نئے ماسٹرپلان کی تیاری کے سلسلے میں کئے جانے والے اقدامات اور کمرشلائزیشن پالیسی کی تیاری کیلئے لینڈ یوز رولز 2019ء کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی تنخواہوں کے معاملات سسٹم پراڈکٹ پرافیشینسی (SAP) کے تحت منظم کیے جائیں۔ جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ اور وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے متعلقہ معاملات کے حوالے سے اجلاس  ہوا۔وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی تنخواہوں کے معاملات سسٹم پراڈکٹ پرافیشینسی (SAP) کے تحت منظم کیے جائیں تاکہ اس حوالے سے ملازمین کو درپیش مسائل کا موثر حل یقینی بنایا جا سکے۔بعدازاں وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر عوام کو خوشخبر ی دیتے ہوئے ہماری حکومت نے1سال میں (ای او بی آئی) کے بوڑھے پنشنرزکوملنے والی رقم 62 فیصداضافے کیساتھ 5250سے بڑھاکر8500روپے کردی ہے،اس سے پنشنرزکو ریٹائرمنٹ کے بعد کے ایام میں مالی تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں مزیدکہا ہے کہ مودی کی ہندو بالادستی ایجنڈا سے ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے، جرمن نسل پرستی پر عالمی خاموشی دوسری جنگ عظیم کا باعث بنی تھی،مودی قیادت بھارت ہندو بالادستی کے ایجنڈا کی جانب بڑھ ر ہا ہے جبکہ بھارت میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو پر تشدد ہجوم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم 

  اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان تحریک انصاف کی تنظیم سازی کے دور ان ملک بھر میں جلسوں سے خطاب کرینگے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی،وزیر اعظم نے تحریک انصاف کو متحرک کرنے کی ہدایت دیدی۔ ذرائع نے بتایاکہ وزیر اعظم نے کہاکہ سردی کا موسم اچھا ہے اور ملک بھر میں جلسے کرنے کی خواہش ظاہر کردی، وزیر اعظم عمران خان تنظیم سازی کے دوران ملک بھر میں جلسوں سے خطاب کریں گے۔ذرائع  کے مطابق سردیوں کے جلسوں کا آغاز فواد چوہدری کے حلقے سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع نے بتایاکہ کور کمیٹی میں تحریک انصاف کے دو بڑوں کیاختلافات کا معاملہ زیر بحث آیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سیف اللہ نیازی اور عامر کیانی میں اختلافات ختم دیکھنا چاہتا ہوں، کور کمیٹی نے بھی تحریک انصاف کے دونوں قائدین کی صلح پر زور دیا۔سیکریٹری جنرل عامر کیانی اور چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی کے اختلافات کرنے کیلئے معاملات طے پاگئے۔مریم نواز، آصف زرداری اور نوازشریف کا معاملہ پر بھی بات چیت کی گئی۔

اندرونی کہانی

مزید : صفحہ اول


loading...