جب اور جہاں ضرورت پڑی بھارت  کا بائیکاٹ کیا جائے گا،دفتر خارجہ 

   جب اور جہاں ضرورت پڑی بھارت  کا بائیکاٹ کیا جائے گا،دفتر خارجہ 

  



  اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ جہاں پر اور جس فورم پر بھی ضرورت پڑی بھارت کا بائیکاٹ کیا جائے گا،بھارتی لوک سبھا کی قانون سازی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، قانون سازی ہندو راشٹریہ کی سوچ مسلط کرنے کی سازش ہے،پاکستان افغانستان کے سیاسی اور پرامن حل کا حامی ہے، پاکستان افغان امن عمل کے لئے سہولت کاری کررہا ہے۔ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں 132 دن سے لاک ڈا ؤن جاری ہے، بھارتی حکومت تنظیموں کومقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دے رہی، بھارتی لوک سبھا کی قانون سازی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، بھارت میں شہریت سے متعلق قانون سازی سے اقلیتوں کیلئے سکیورٹی کے شدید خطرات پیدا ہو چکے، قانون سازی ہندو راشٹریہ کی سوچ مسلط کرنے کی سازش ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاک روس باہمی تعاون کمیشن کے مذاکرات کا چھٹا دور اسلام آباد میں ہوا، وزیر خارجہ نے ہارٹ آف ایشیا کے بین الوزارتی اجلاس میں شرکت کی اور ترک صدر سمیت ترک وزیر خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں جبکہ وزیر خارجہ نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھی بھارتی وزیر کے خطاب کا بائیکاٹ کیا، جہاں پراور جس فورم پر بھی ضرورت ہوگی بھارت کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن پروزارت خارجہ میں ڈپلومیٹک کور کو بریفنگ دی گئی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ بحرین پر جلد کرٹن ریزر جاری کریں گے جبکہ وزیر اعظم کا سعودی عرب کا دورہ طے ہو چکا۔

ترجمان دفتر خارجہ

مزید : صفحہ اول


loading...