شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل سمیت10ملزموں کیخلاف ایل این جی ریفرنس سماعت کیلئے منظور

 شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل سمیت10ملزموں کیخلاف ایل این جی ریفرنس سماعت ...

  



 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایل این جی ریفرنس دوبارہ احتساب عدالت میں دائر کردیا، عدالت نے ایل این جی ریفرنس باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرلیا، ریفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت 10 ملزمان نامزد ہیں۔ن لیگ کے دور حکومت میں وزیراعظم رہنے والے شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سمیت 10 ملزمان کے خلاف ایل این جی ریفرنس رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے کے بعد دوبارہ احتساب عدالت میں دائر کر دیا گیا جس پر احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان سماعت کریں گے۔نیب کی جانب سے احتساب عدالت اسلام آباد میں ایل این جی ریفرنس دوبارہ جمع کرایا گیا ہے جس میں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل سمیت 10 افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔نیب ریفرنس کے مطابق ملزمان نے اختیارات کاغلط استعمال کیا، ایک کمپنی کو 21 ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا گیا، فائدہ مارچ 2015 سے ستمبر 2019 تک پہنچایا گیا، جس سے 2029 تک قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان ہو گا۔ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاہدے کے باعث عوام پر گیس بل کی مد میں 15 سال کے دوران 68 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔اس سے قبل 3دسمبر کو رجسٹرار آفس نے ریفرنس کی سکروٹنی کے دوران بعض اعتراضات عائد کرتے ہوئے ریفرنس نیب کو واپس کر دیا تھا۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ نیب ریفرنس میں لگائے گئے الزامات کا نہ سر ہے نہ پیر، نیب کی تماش بینی ہے اور یہ پولیٹیکل انجینئرنگ ہو رہی ہے، جن کو شریک ملزم نامزد کیا گیا ان کا کیا تعلق بنتا ہے اس کیس سے؟سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ 4 سال سے یہ لوگ تفتیش کر رہے تھے، ہم نے ایل این جی کا سب سے سستا ٹرمینل لگایا، ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ اس سے سستا ٹرمینل لگ سکتا تھا۔

ایل این جی ریفرنس

مزید : صفحہ اول