وکلاء رہائی کیلئے کسی تنظیم،ایکشن کمیٹی نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر نہیں کی

         وکلاء رہائی کیلئے کسی تنظیم،ایکشن کمیٹی نے ہائیکورٹ میں درخواست ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)وکلاء ایکشن کمیٹی اورکسی نمائندہ وکلاء تنظیم کی طرف سے گرفتاروکلاء کی رہائی کے لئے لاہور ہائی کورٹ میں تاحال کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی تاہم مزنگ کے علاقہ سے گرفتارہونے والے وکلاء کی رہائی کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں مقامی وکیل کی طرف سے انفرادی طور پرحبس بے جا کی درخواست دائر کردی گئی،مسٹر جسٹس انوار الحق پنوں آج 13دسمبر کواعجاز نامی وکیل کی طرف سے دائراس درخواست کی سماعت کریں گے۔اللہ یار سپرا ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ تھانہ مزنگ کی پولیس نے وکلاء کو ان دفتروں سے گرفتار کیاجبکہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں،وکلاء اپنے دفاتر میں ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کے کاغذات تیار کررہے تھے، پولیس اہلکار وکلاء کو گرفتار کرتے وقت چھ لاکھ روپے سے زائد رقم بھی ساتھ لے گئے، ان وکلاء کوحبس بے جا میں رکھا گیاہے،ان کو بازیاب کرواکے رہا کیا جائے،لاہور ہائی کورٹ بار میں وکلاء کے مشترکہ اجلاس کے فیصلے کے مطابق وکلاء کی رہائی کے لئے لاہور ہائی کورٹ بارکے صدر نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ درخواست دائر کرنا ہے،اس سلسلے میں جب لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر حفیظ الرحمن چودھری سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ابھی تک کوئی درخواست دائر نہیں کی اور نہ ہی آج 13دسمبر کو ایسی کوئی درخواست دائر کئے جانے کا امکان ہے،ہمیں احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہاہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز بھی نامزد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مامون رشید شیخ نے وکلاء راہنماؤں سے اس معاملے میں کسی مداخلت سے معذوری ظاہر کی جبکہ بدھ کے روز بھی نامزد چیف جسٹس نے وکلاء کی غیر معمولی دادرسی کے لئے کوئی اقدام کرنے سے معذرت کرلی تھی۔چیف جسٹس سے وکلاء ایکشن کمیٹی کی ملاقات کے بعد نامزد چیف جسٹس مامون رشید شیخ کی عدالت کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی،اینٹی رائٹ فورس اور ریزروپولیس کے درجنوں اہلکاروں نے ان کی عدالت اور چیمبر کو گھیرے میں لئے رکھا۔

اظہار معذوری

مزید : صفحہ اول


loading...