ٹائم لائن میں کسی قسم کی توسیع نہیں، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا: محمود خان 

ٹائم لائن میں کسی قسم کی توسیع نہیں، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا: ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے رشکئی سپیشل اکنامک زون کا باضابطہ سنگ بنیاد رکھنے کیلئے تمام تر تقاضے اور انتظامات مقررہ ٹائم لائنز کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ اس مقصد کیلئے ٹائم لائن میں کسی قسم کی توسیع نہیں دی جائے گی اور نہ ہی معیار پر کوئی سمجھوتہ ہو گا۔ تمام ذمہ داران اپنی ذمہ داریاں بروقت پوری کریں تاکہ حکومت کی ترجیحات کے مطابق منصوبے کو تیز رفتاری سے عملی جامہ پہنایا جا سکے۔اُنہوں نے رشکئی سپیشل اکنامک زون میں بجلی اور گیس کی سہولیات کی بلاتاخیر فراہمی یقینی بنانے کیلئے متعلقہ حکام کا آئندہ ہفتے اجلاس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں رشکئی سپیشل اکنامک زون پر پیشرفت کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین، وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان، مشیر برائے تعلیم ضیاء اللہ بنگش، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت عبد الکریم، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو رشکئی سپیشل اکنامک زون کیلئے بنائے گئے جوائنٹ ونچر، کنسیشن اور ڈویلپمنٹ ایگریمنٹس کے فریم ورک، منصوبے کے متوقع معاشی اثرات اور منصوبے پر اب تک ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ رشکئی سپیشل اکنامک زون کا ترقیاتی کام مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے پر عمل درآمد کیلئے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت جوائنٹ ونچر تشکیل دیا گیا ہے۔اکنامک زون تک آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کی تعمیرپر کام پہلے سے شروع ہے۔سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کی سہولت فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے،صنعتکاروں کو بجلی کی سہولت فراہم کرنے کیلئے پی سی ون کی ڈی ڈی ڈبلیو پی سے منظور ی لی جا چکی ہے جس کی لاگت 1.8 ارب روپے ہے۔ اسی طرح گیس کی فراہمی کیلئے بھی پی سی ون متعلقہ حکام کو پیش کیا جا چکا ہے، تاہم بجلی او رگیس کی سہولیات بروقت فراہم کرنے کیلئے متعلقہ وفاقی محکموں کا بروقت تعاون ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس مقصد کیلئے متعلقہ حکام پر مبنی اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کی تاکہ تمام زیر التواء مسائل کا حل نکالا جا سکے اور منصوبے کے لئے درکار بجلی اور گیس کی فراہمی بلا تاخیر ممکن ہو سکے۔ محمود خان نے ڈویلپمنٹ ایگر یمنٹ کی بورڈ آف اپروول سے منظوری سمیت تمام انتظامات جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق منصوبے پر ترقیاتی کام کا باضابطہ افتتاح کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ رشکئی سپیشل اکنامک زون کی تیز رفتار ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس مقصد کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنی ذمہ داریاں بروقت پوری کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے خصوصی طور پر اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کو تیز تر اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ منصوبے پر ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں مقررہ ٹائم لائنز میں کسی قسم کی توسیع کی گنجائش نہیں ہو گی۔ 

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت صوبے میں غیر مراعات یافتہ طبقے کو چھت کی سہولت فراہم کرنے کے لئے تمام تر اقدامات بروئے کار لارہی ہے۔ ریگی للمہ ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریگی ماڈل ٹاؤن کو درپیش سوئی گیس، بجلی، سیوریج لائن، اپروچ روڈ، انٹری گیٹ، اراضی کے مسئلہ سمیت دیگر تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے، تاکہ صوبائی حکومت کے اس منصوبے کو جلد ازجلد فعال بنایا جا سکے، جس سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، بلکہ عوام کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کئے جاسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریگی للمہ ٹاؤن کو سوئی گیس کی فراہمی سے متعلق تمام تر مسائل وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھائیں جائیں گے، جبکہ متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی تک رسائی کے لئے سڑکوں کی تعمیر اور سیوریج لائن کے مسائل بہت جلد صوبائی حکومت حل کر لے گی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر پشاوراور ڈائیریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو بھی ہدایت کی کہ وہ ریگی للمہ ماڈل ٹاؤن کے اراضی سے متعلق تمام تر مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ اس موقع پر وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا،ایم پی اے پیر فدا محمد، فہیم خان، ملک واجد،پاکستان رئیل اسٹیٹ ریٹیلر کے صدر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔   

مزید : صفحہ اول