سانحہ پی آئی سی ، آئی جی پنجاب نے اپنے دفتر کی سیکیورٹی کیلئے رینجرز مانگ لی لیکن سری لنکن ٹیم پر حملے کے وقت موجود افسران کیساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا؟ سینئر صحافی نے آئینہ دکھادیا

سانحہ پی آئی سی ، آئی جی پنجاب نے اپنے دفتر کی سیکیورٹی کیلئے رینجرز مانگ ...
سانحہ پی آئی سی ، آئی جی پنجاب نے اپنے دفتر کی سیکیورٹی کیلئے رینجرز مانگ لی لیکن سری لنکن ٹیم پر حملے کے وقت موجود افسران کیساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا؟ سینئر صحافی نے آئینہ دکھادیا

  



لاہور(ویب ڈیسک) صوبائی دارلحکومت میں موجود پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی ) میں وکلا اور ڈاکٹروں کی ہنگامہ آرائی میں زیرعلاج غریب مریض بھی چل بسے، اس کے بعد سے صورتحال کشیدہ ہے ، وکیل رہنمائوں نے میڈیا کو بھی دھمکی دی جبکہ ایک عہدیدار کو توہین عدالت کا نوٹس ملنے پر وکیلوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت کے بائیکاٹ کی بھی قرارداد منظور کرلی ، اس مبینہ حملے کے بارے میں سینئر صحافی رئووف کلاسرا نے بھی  قلم اٹھایا ہے اور بتایا کہ اطلاعات ہیں کہ آئی جی پنجاب نے اپنے دفتر کی سیکیورٹی کے لیے رینجرز مانگ لی ہے جبکہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے وقت موجود افسران کو بھی ترقیاں دی گئیں، اب بھی اگر کوئی انتظامی افسر روکنے کی کوشش کرتا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ 

روزنامہ دنیا میں انہوں نے لکھا کہ ’ لاہور میں وکیلوں نے ہسپتال کو تباہ کر کے رکھ دیا‘ ہنگامے کرتے رہے‘ پتھرائو ہوتا رہا‘وکیل فائرنگ کرتے رہے ‘لیکن مجال ہے آپ کو پولیس نظرآئی ہو۔ حالت یہ ہوچکی ہے کہ وکیل سینکڑوں کی تعداد میں ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے لیکن حکومت پنجاب کے کسی محکمے کو علم نہ ہوا کہ شہر میں کیا ہونے والا ہے۔ جن کا کام ہے کہ شہر میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی نظر رکھیں‘ انہیں علم نہیں ہے‘ کوئی سیکرٹ ایجنسی نہیں جانتی کہ اتنی بڑی تعداد میں وکیل نعرے لگاتے کہاں جارہے ہیں۔ یہ کوئی لیہ‘ مظفرگڑھ کی کہانی نہیں سنا رہا ‘یہ وزیراعلیٰ اور آئی جی پولیس کے دفتر سے کچھ فاصلے پر ہورہا تھا۔ آپ ان لوگوں کی اہلیت اور قابلیت ملاحظہ فرمائیں کہ انہیں یہ نہیں پتہ کہ چند قدموں کے فاصلے پر کیا ہورہا ہے۔

ایک انگریز تھے کہ ہزاروں میل دور سے ہندوستان آئے اور صرف چار پانچ سو افسران کے ساتھ پورے ہندوستان پر ڈیڑھ سو سال تک حکومت کی۔انہیں چپے چپے کا پتہ تھا کہ کیا ہورہا تھا ۔ یہاں صرف شہر لاہور میں ہزار سے زیادہ افسران ہوں گے‘ لیکن مجال ہے انہیں پتہ ہو کہ ہمیں ان حالات میں کیا کرنا ہے۔ اس ملک میں کسی سے پوچھ گچھ کا کوئی سلیقہ نہیں ‘ اسی لیے سری لنکا کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوتے وقت جن پولیس افسران نے غفلت دکھائی تھی ان کو شہباز شریف نے ترقیاں دیں اور انہیںاعلیٰ پوسٹنگز بھی ملیں۔ اب بھی آپ یہی دیکھیں گے کہ جو پولیس افسران سارا دن وکیلوں کو تباہی بربادی کرتے دیکھتے رہے انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ ان کا بہانہ یہ ہے کہ وہ نظامِ عدل سے ڈرتے ہیں‘ جو ان وکیلوں کے خلاف کارروائی پر ان کی ایسی تیسی کر دیتا ہے۔

سوال یہ ہے اگر آپ وکیلوں سے ڈرتے ہیں تو ساہیوال میں کیسے پورے خاندان کو قتل کردیتے ہیں؟ مطلب یہ کہ جو آپ سے زیادہ طاقتورہے وہ جو چاہے کر لے آپ ڈر کے مارے دبک کر بیٹھیں گے؟ اب پتہ چلا ہے کہ آئی جی پولیس شعیب دستگیر نے اپنے دفتر کی سکیو رٹی کے لیے رینجرز مانگ لی ہے۔ یہ ہے انجام پنجاب پولیس کا‘ اس حکومت میں جس کا سربراہ پانچویں دفعہ تبدیل ہوا ہے۔ پورے ملک کی بدنامی الگ ہوئی‘ سارا دن لاہور میں کوئی قانون نہیں تھا۔ وزیراعلیٰ بزدار نے وزارتِ داخلہ بھی اپنے پاس رکھی ہوئی ہے اور وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ وزیراعظم عمران خان‘ جو ہنگاموں کے روز سارا دن غائب رہے‘ اب پنجاب حکومت کو خراج تحسین پیش کرنے بعد فرماتے ہیں: بزدار حکومت کی شاندار حکمت عملی سے لاہور میں بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ایک پرانا لطیفہ یاد آگیا: ایک بندہ کہیں بھاگتا جا رہا تھا ‘ کسی نے پوچھا‘ کیا ہوا؟ وہ ہانپتے کانپتے بولا: پچھلے چوک میں میرے باپ کو لوگ ماررہے ہیں ‘ میں عزت بچا کر بھاگ آیا ہوں ‘۔

مزید : قومی


loading...