وہ پاکستانی جس نے اپنی چند ہزار روپے کی تنخواہ سے اربوں روپے کا کاروبار کھڑا کردیا

وہ پاکستانی جس نے اپنی چند ہزار روپے کی تنخواہ سے اربوں روپے کا کاروبار کھڑا ...
وہ پاکستانی جس نے اپنی چند ہزار روپے کی تنخواہ سے اربوں روپے کا کاروبار کھڑا کردیا

  



دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات کے کامیاب ترین کاروباری پاکستانی شخص شبیر مرچنٹ کی کامیابی کی کہانی ایسی متاثر کن ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی 1500درہم ماہانہ تنخواہ سے اربوں روپے کا کاروبار کھڑا کر دیا۔ گلف نیوز کے مطابق 1976ءمیں شبیر مرچنٹ کی عمر 18سال تھی جب وہ متحدہ عرب امارات پہنچے اور وہاں ملازمت شروع کی۔ وہ اگلے 13سال تک تنخواہ پر کام کرتے رہے اور 1989ءمیںچیمپیئن نیون کے نام سے سائنج انڈسٹری میں اپنا کاروبار شروع کر دیا۔

ان کا یہ کاروبار اس قدر پھلا پھولا کہ آج 61سال کی عمر میں ان کے اربوں روپے کے اثاثے ہیں۔ شبیر مرچنٹ نے اپنا ماضی یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ”میری پیدائش 1958ءمیں کراچی میں ہوئی تھی۔ میرے والد یوسف مرچنٹ پاکستان کی آزادی کے وقت بمبئی سے ہجرت کرکے کراچی چلے گئے تھے۔ وہ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے کیا کچھ صعوبتیں برداشت کیں۔ وہ خالی ہاتھ پاکستان پہنچے تھے۔ ہم 10بہن بھائی تھے جن میں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس بے سروسامانی کے ساتھ میرے والد نے ہم سب کی پرورش کی۔ میں نے بچپن انتہائی کسمپرسی میں گزارا ۔ یہی وجہ تھی کہ مجھے شروع ہی سے ذمہ داری کا احساس تھا۔ چنانچہ جب میں متحدہ عرب امارات آیا تو میں نے پوری لگن اور محنت سے کام کیا اور اسی محنت کی بدولت آج اس مقام پر ہوں۔“

مزید : عرب دنیا