ملک میں قانون اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں،اسلامک یونیورسٹی پر حملہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا:سراج الحق

ملک میں قانون اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں،اسلامک یونیورسٹی پر حملہ سوچے ...
ملک میں قانون اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں،اسلامک یونیورسٹی پر حملہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا:سراج الحق

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نےحکومت سےمطالبہ کیاہےکہ اسلامی یونیورسٹی قاتلانہ حملےمیں شہیدہونےوالے اسلامی جمعیت طلبہ کےرہنماسیدطفیل الرحمن کے قاتلوں کوگرفتارکرکےقانون کےکٹہرے میں لایاجائے،ایسا نہ ہوا تو اس کا مطلب ہوگا کہ حکومت امن وامان کی صورتحال کوخودسبوتاژکرناچاہتی ہے،معصوم نوجوان کا یہ قتل اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ کے سر پر بھی ہے،انتظامیہ بتائے کہ ان اسلحہ بردار غنڈوں کو یونیورسٹی میں گھسنے کی اجازت کس نے دی؟یہ حملہ اچانک نہیں بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا،ملک میں قانون اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں،تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں پر حملے ہورہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلا م آباد میں اسلامی جمعیت طلبا کے رکن سید طفیل الرحمن کی نماز جنازہ کے اجتماع سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلو چ،میاں محمد اسلم،اسلامی امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود،جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ محمد عامر اور عبدالرشید ترابی بھی موجود تھے۔نماز جنازہ کے بعد سینیٹر سراج الحق نے پمز ہسپتال میں زخمی کا رکنوں کی عیادت کی۔سینیٹر سراج الحق نےکہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے اسلامی یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس ایکسپو کےنام سےپروگرام آرگنائز کیاتھا،اس پروگرام میں بڑی تعداد میں جمعیت کے سابقین اورمہمانوں کودعوت دی گئی تھی،میں خود اس پروگرام میں دو روزقبل شامل ہواتھا،یہ پروگرام پورے نظم وضبط کے ساتھ جاری تھامگرشرپسندعناصر نے اس پرامن پروگرام پرحملہ کردیا،لسانی تنظیم نے پوری منصوبہ بندی سے یہ حملہ کیاجس میں یونیورسٹی انتظامیہ ملوث ہے۔انہوں نے ڈی آئی جی کے اس بیان کی مذمت کی کہ دو طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہ شرپسند عناصر کی سوچی سمجھی سازش تھی جس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے،پولیس اور انتظامہ حقائق کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے،یہ تصادم نہیں بلکہ جمعیت کے پروگرام پر حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کھلی غنڈہ گردی اور حملے کو دو تنظیموں کے درمیان تصادم قرار دینے والوں کی عقل ماری گئی ہے،شہادتوں کایہ سفر 1400 سال سے جاری ہےاورقیامت تک جاری رہے گا،اسلامی جمعیت طلبہ بھیڑا ور ہجوم نہیں ایک نظریاتی اور فکری تنظیم ہے،طلبہ کی کردارسازی اوراور نظریہ پاکستان کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے،جمعیت طلبہ کو تعمیر پاکستان کیلئے آمادہ و تیار کرتی ہے،اساتذہ اور والدین کی تکریم کے پروگرامات اور نادار طلبہ کی دیکھ بھال کرتی ہے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے صبر کا دامن ہاتھ سے جانے دیانہ قانون اپنے ہاتھ میں لیا،ان طلبہ کے ہاتھ میں طاقت موجود ہے مگر وہ نظم وضبط کے پابند ہیں،حکومت نوجوانوں کے صبر کا امتحان نہ لے،لاہور میں ہسپتال پر حملہ ہوا حکومت تماشا دیکھتی رہی اور پھر رونادھوناشروع کردیا،7 دسمبر کو مریدکے میں ہمارے تین کارکنان کو شہید کیا گیا مگر قاتل ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ نااہل اور نالائق ٹولے نے ملک کو انتشار اور انارکی کے حوالے کردیا ہے،پورا ملک بدامنی کا شکار ہے،ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں امن نہیں۔

شہید کے والد مولانا عبد الجلال نے اپنے خط میں کہا کہ میں نے مرشد سید مودودی رحمتہ اللہ کی اتباع میں اللہ تعالی کے ہاں ایف آئی آر درج کروادی ہے ،اللہ تعالی خود ان سفاک،ظالم قاتلوں سے نمٹے،میں جماعت اور جمعیت کے دوستوں اور سر براھان کاشکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے غم کو بانٹا۔سید طفیل الرحمن شہید کی نماز جنازہ کے بعد میت ان کے آبائی گاؤن گلگت بلتستان روانہ کر دی گئی۔سینیٹر سراج الحق نے بعد ازاں پمز ہسپتال میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زخمی کارکنان کی عیادت کی۔

مزید : قومی


loading...