سوئٹزرلینڈ سے معاہدہ،منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا:شاہ محمود قریشی

سوئٹزرلینڈ سے معاہدہ،منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا:شاہ ...
سوئٹزرلینڈ سے معاہدہ،منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا:شاہ محمود قریشی

  



ملتان (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ سے معلومات کے تبادلے کا معاہدہ مثبت قدم ہوگا جس کے تحت منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا،حسان نیازی کی گرفتاری پر وزیراعظم عمران خان نے کوئی پابندی نہیں لگائی،بھارت نے شہریت ترمیمی بل پاس کر کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا،سیاسی مفاہمت سے افغان مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے مختلف امور پر بات کی اور کہا کہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ سے معلومات کے تبادلے کا معاہدہ مثبت اقدام ہوگا جس کے تحت منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا،معاہدے سے قومی خزانے سے لوٹی گئی رقم کی واپسی میں معاونت ملے گی جبکہ پاکستان میں احتساب کا عمل بہتر ہوگا اور ملک میں کرپشن ختم ہوگی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا افغان امن عمل میں پاکستان کے تعمیری کردار اور اس موقف کو تسلیم کرچکی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں، پاکستان ابتدا ہی سے افغانستان میں مکمل امن کا خواہش مند رہا اور ہمیشہ تجویز دی کہ سیاسی مفاہمت سے افغان مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ترکی میں امریکی نائب سیکریٹری سے ملاقات ہوئی اور ایلس ویلز نے پاک،افغان تجارتی حجم بڑھانے پرزور دیا،میں نےایلس ویلز سےمطالبہ کیا کہ افغانستان میں ایپکس کا اجلاس متوقع ہےلہذا تجارت اور اقتصادیات،رابطہ کاری کا ایک ورکنگ گروپ ایسے ایجنڈے میں لے کر آئیں تاکہ اس پر بات چیت شروع ہو سکے۔

شاہ محمود قریشی نے ایلس ویلز سےافغانستان میں حالیہ صدراتی انتخاب سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغان صدارتی انتخاب میں کوئی مداخلت نہیں کی بلکہ ہر ممکن سہولت پہنچائی،افغان حکام کی درخواست پر طورخم پر کارگو کی نقل و حرکت کو بہتر اور آسان بنانے کے لیے سرحد 24 گھنٹے کھلی ہے،امریکا اور طالبان سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد انٹرا افغان مذاکرات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ کابل کی طرف سے بعض مسائل پر سخت موقف آتا ہے اور ہم بھی ترکی بہ ترکی جواب دے سکتے ہیں لیکن سازگار ماحول قائم رکھنے کے لیے جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔

 سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور میں امراض قلب ہسپتال(پی آئی سی) پر وکلا کے حملے سے ہر پاکستانی کو صدمہ ہوا، وکلا اور ڈاکٹرز دونوں پڑھے لکھے طبقے میں شامل ہوتے ہیں، لہذا اگر غلط فہمی ہوگئی تو اس کا قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا، دونوں طبقات کی کشیدگی سے سائلین اور مریض متاثر ہوں گے،دونوں طرف ذمہ دار افراد موجود ہیں جو فریقین کے مابین معاملہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی سے متعلق سوال پر انہوں نےکہاکہ عمران خان نےکسی کارروائی میں رکاوٹ نہیں ڈالی، اُنہوں نے قانونی اداروں اور انتظامیہ پر کوئی پابندی نہیں لگائی،تمام ادارے میرٹ پراپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، حسان نیازی کی گرفتاری پر وزیراعظم عمران خان نے کوئی پابندی نہیں لگائی، ان کے متعلق انتظامیہ جو بہتر سمجھے وہ فیصلہ کرے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ماضی میں بھی متعدد پیشگوئی کرچکے ہیں جو حقائق سے دور ثابت ہوئیں،مولانا فضل الرحمن جو کہنا چاہیں کہیں لیکن میں بصد احترام اختلاف رائے کرسکتا ہوں جبکہ ماضی میں بھی ان کی پیش گوئی درست ثابت نہیں ہوئی،امید ہے کہ اب بھی ان کے اندازے درست ثابت نہیں ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے ذریعے مسلمانوں پر ضرب لگائی گئی اور اب بھارت نے شہریت ترمیمی بل پاس کر کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے، مذکورہ قانون بنیادی انسانی حقوق کی حق تلفی ہے اور پاکستان شہریت ترمیمی قانون کا بل مسترد کرتا ہے،بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے متنازع بل پر احتجاجا اپنا دورہ بھارت منسوخ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسی حکمت عملی پر کار فرما ہے جو خطے سمیت مسلم امہ کے مابین دوطرفہ تعلقات قائم کرے اور مسائل کی نشاندہی کے بعد اس کا سدبات ہوسکے، پاکستان کا ایران، سعودی عرب، افغانستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مثبت کردار رہا ہے۔

مزید : قومی


loading...