چیف الیکشن کمشنر و ممبران تقرری کے معاملےپرحکومت اور اپوزیشن میں اختلافات برقرار،ڈیڈلاک شدت اختیار کر گیا

چیف الیکشن کمشنر و ممبران تقرری کے معاملےپرحکومت اور اپوزیشن میں اختلافات ...
چیف الیکشن کمشنر و ممبران تقرری کے معاملےپرحکومت اور اپوزیشن میں اختلافات برقرار،ڈیڈلاک شدت اختیار کر گیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آنلائن)چیف الیکشن کمشنر و ممبران  کی تقرری کے معاملے پرحکومت اپوزیشن میں اختلافات برقرارہے، اپوزیشن  نے باقاعدہ  اعتراض  کردیا ہے کہ بابر یعقوب فتح محمد کے بطور سیکرٹری الیکشن کمیشن متنازعہ انتخابات ہوئے،حکومت نے اپوزیشن کے اعتراضات مسترد کردئیے۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن اور حکومت کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کے نام پر ڈیدلاک  شدت اختیار کرگیا ،چیف الیکشن کمشنر و ممبران  کی تقرری بارے پارلیمانی کمیٹی کے دو غیر رسمی مشاورتی اَ دوارہوئے جن کی تجاویزکے بارے میں اعلی سطح پر  اعتماد میں لینے کا سلسلہ جاری رہا ،کوئی گرین سگنل نہ ملنے پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس چو تھی بار موخر ہوگیا،سپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں  بار بار بیٹھک میں بھی کوئی اتفاق نہ ہوسکا ۔مسلم لیگ ن کے مشاہد اللہ خان،ڈاکٹر نثار چیمہ اور مرتضی جاوید عباسی جبکہ وفاقی وزیرپارلیمانی امور اعظم سواتی، علی محمد خان اور فخر امام سپیکر آفس میں غیر رسمی مشاورت میں شریک ہوئے ، پیپلزپارٹی کے راجہ پرویزاشرف اور سکندر میندھرو بھی موجود تھے۔مشاورتی اجلاس میں  طے گیا کہ حکومت اپوزیشن کو جواب دے گی کہ اسے چیف الیکشن کمشنر کے بدلے دوممبران اپوزیشن کو دینا منظور ہے یا نہیں؟ تاہم جمود نہ ٹوٹ سکا ،اپوزیشن اور حکومت کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کے نام پر ڈیدلاک  شدت اختیار کرگیا ۔اپوزیشن نے بابر یعقوب فتح محمد کا نام بطور چیف الیکشن کمشنر کی مخالفت کردی ہےجبکہ حکومت بابر یعقوب فتح محمد کےنام پرڈٹ گئی ہے،اپوزیشن  نےمطالبہ کردیا ہےکہ حکومت بابر یعقوب کی بجائے کسی اور نام پر بات کرے۔حکومت نے اپوزیشن کی تجویز کی مخالفت کردی۔ حکومت نے  اپوزیشن سے سوال  کیا ہے کہ بابر یعقوب پر اعتراضات بتائے جائیں، اپوزیشن کا کہنا تھا کہ بابر یعقوب فتح محمد کے بطور سیکرٹری الیکشن کمیشن متنازعہ انتخابات ہوئے،حکومت نے اپوزیشن کے اعتراضات مسترد کردئیے،اب اگلا اجلاس پیر کو ہوگا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...