ڈاکٹرز کےخلاف قانونی جنگ لڑنے کی بجائےہسپتال کو میدانِ جنگ بنانا کہاں کی اخلاقیات ہے؟سینیٹرساجد میر

ڈاکٹرز کےخلاف قانونی جنگ لڑنے کی بجائےہسپتال کو میدانِ جنگ بنانا کہاں کی ...
ڈاکٹرز کےخلاف قانونی جنگ لڑنے کی بجائےہسپتال کو میدانِ جنگ بنانا کہاں کی اخلاقیات ہے؟سینیٹرساجد میر

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ ساجد میر نے کہا ہے کہ وکلاء کے پاس پی آئی سی پر حملے کا کوئی جوازنہیں تھا،انسانیت پامال ہوئی، حملہ قابل مذمت اور شرمناک ہے،دوسروں کو قانون کی بالادستی کا درس دینے والوں نے قانون کی دھجیاں بکھیردیں،ڈاکٹرز کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کی بجائے ہسپتال کو میدان جنگ بنانا کہاں کی اخلاقیات ہے؟ حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے سخت شکنجے میں کیفرکردار کو پہنچایا جائے ورنہ کل کو کسی کی بھی پگڑی، گریبان اور عزت کے محفوظ ہونے کی ضمانت فراہم نہیں کی جاسکے گی۔

سینیٹرعلامہ ساجد میر کاکہنا تھاکہ پڑھے لکھے طبقات میں عدم برداشت اور بڑھتے ہوئے تشدد کا رحجان اخلاقی گراوٹ کی بدترین مثال ہے،وکلاء کا پی آئی سی پر حملہ حکومت اور انتظامیہ کی غفلت اور بے نیازی کا شاخسانہ ہے،اشتعال انگیزی کو برقرار رکھنے والے وکیل اور ڈاکٹرز کو بھی کٹہرے میں لانا چاہیے، یہ بلاشبہ حکومتی رٹ اور گورننس کا بھی سوال ہے جس کا فوری سدباب نہ کیا گیا تو کل کو کوئی بھی طبقہ یا گروہ کسی معمولی بات کو جواز بنا کر تشدد کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اگر اس صورتحال میں خانہ جنگی کی فضا سازگار ہوگئی تو پھر حکومتی رٹ جابجا چیلنج ہوتی نظر آئیگی، اس لئے اب بھی وقت ہے کہ فہم و تدبر سے کام لے کر صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا ہونے سے روک لیا جائے،اس کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ وکلاء اور ڈاکٹر تنظیموں کی قیادتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے چھوٹے موٹے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے اپنے اپنے لوگوں کو تشدد کے راستے پر چلانے سے گریز کریں اور پی آئی سی پر حملے کے واقعہ کو مثال بنا کر آئندہ ایسے واقعات کے سدباب کیلئے ٹھوس اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور