ریلوے ریستوران کی چائے

ریلوے ریستوران کی چائے
ریلوے ریستوران کی چائے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


یہ تقریباً چھے ماہ پرانا واقعہ ہے، میرے ایک عزیز کو لاہور سے ملتان جانا تھا۔انہوں نے ریلوے ہیڈ کوارٹرز سے اپنی سیٹ پہلے ہی بُک کرا رکھی تھی۔ انہوں نے سفر کے لیے ملک کی قدیم ترین ٹرینوں میں سے ایک خیبر میل چنی تھی، جو آج بھی اپنے لال ڈبے سے پہچانی جاتی ہے۔ اس لال ڈبے کے ذریعے پاکستان بھر کی ڈاک اِدھر سے اُدھر کی جاتی ہے،چونکہ مجھے بھی ٹرین دیکھے ہوئے بہت دن ہو گئے تھے اس لیے مَیں نے طے کر لیا تھا کہ اپنے عزیز کو رخصت کرنے کے لئے خود جاؤں گا۔ اسٹیشن پر پہنچے تو پتا چلا کہ ٹرین حسب ِ توقع کچھ تاخیر سے روانہ ہو گی۔پشاور سے گاڑی آ چکی تھی،اب لاہور سے اس کے ساتھ نئے ڈبے اور نیا انجن لگنا تھا۔ ظاہر ہے کہ اِس میں کچھ وقت تو لگتا ہی ہے۔ مَیں نے موقع غنیمت جانا اور اپنے عزیز کو پلیٹ فارم نمبر چار پر واقع ریستوران میں لے گیا۔ ریلوے اسٹیشن کے ریستوران میں بیٹھنا مجھے ہمیشہ سے پسند رہا ہے۔جب مَیں ریلوے میں بہت زیادہ سفر کیا کرتا تھا تو عام طور پر گاڑی کے روانہ ہونے سے گھنٹا ڈیڑھ گھنٹا پہلے اسی جگہ آ جایا کرتا تھا۔مَیں دراصل زیادہ سے زیادہ وقت ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر گزارنا چاہتا تھا۔ مزید پاگل پن دیکھئے کہ منزل پر پہنچنے کے بعد بھی مَیں کبھی ریلوے اسٹیشن سے فوراً باہر نہیں نکلتا تھا۔اس شہر کے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر واقع ریستوران یا ٹی سٹال سے چائے پی کر جایا کرتا تھا۔


اس روز عجیب واقعہ ہُوا۔ریستوران میں ہمارے بیٹھتے ہی ویٹر آ گیا۔مجھ سے اُس نے چائے کا آرڈر لیا، ساتھ مَیں نے دو پیکٹ بسکٹ بھی منگوا لیے تھے۔آرڈر دیتے ہوئے مَیں نے ویٹر سے پوچھا:”کیا خیبر میل روز اسی طرح تاخیر کا شکار ہوتی ہے“ میرا سوال سنتے ہی اس نے عالم بالا سے بات شروع کی۔ بولا: ”جناب! کیا بتاؤں؟ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید صاحب کی پالیسیاں ہی ایسی ہیں کہ ریلوے کا کوئی ورکر کام نہیں کرنا چاہتا“۔ اس کے بعد اس نے جو کچھ کہا وہ یہاں لکھے جانے کے لائق نہیں۔اس نے  دو چار سخت جملے کہے جن میں چھوٹی موٹی گالیوں کا تڑکا بھی لگا ہوا تھا۔گویا اُس نے گاڑی کی تاخیر کا سارا بوجھ اس شخص پر ڈال دیا تھا، جو اِس وقت لاہور سے بہت دور اپنی لال حویلی میں محو ِ خواب رہا ہو گا۔ بہرحال اپنے دِل کی ساری بھڑاس نکال کر وہ چائے لینے چلا گیا۔ چند لمحوں کے بعد وہ چائے لے آیا۔ بسکٹ بھی آ گئے۔ چائے پینے اور بسکٹ کھانے کے بعد مَیں نے ویٹر سے بل کے بارے میں پوچھا تو اُس نے160 روپے طلب کیے۔ چائے سنگل ٹی پیک والی تھی اس نے اس کے50 روپے لگائے تھے اور بسکٹ کا پیکٹ 30روپے کے حساب سے ہمارے کھاتے میں ڈالا تھا۔ جب مَیں نے کہا کہ سنگل ٹی پیک والی چائے تو 25 سے 30 روپے کی ہوتی ہے تو وہ شدید غصے میں آ گیا۔

اب میری باری تھی۔ مَیں نے کہا: ”میرے بھائی! تم ابھی ایک بہت بڑے سیاسی آدمی کو اس کی غیر موجودگی میں ریل گاڑیوں کی تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرا رہے تھے اس کے لئے نہایت ”شاندار“ کلمات ادا کر رہے تھے۔ وہی سارے ”شاندار“کلمات میں آپ کی ذاتِ مبارک کی ”تعریف“ میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ جتنی گالیاں آپ شیخ صاحب کو دے رہے تھے، وہی آپ کو بھی دی جا سکتی ہیں،کیونکہ آپ مسافروں کی جیبیں کاٹ رہے ہیں۔ اوور چارجنگ کر کے جرم کے مرتکب ہو رہے ہو اور اس پر شرمندہ بھی نہیں ہو۔ پہلے تم خود ٹھیک ہو جاؤ۔ اس کے بعد وفاقی وزیر ریلوے کو ٹھیک کرنے کی بات کرنا۔ میری بات سن کر وہ شخص ذرا سا بھی شرمندہ نہیں ہوا، اسے اپنا بل چاہئے تھا، جو مَیں نے ادا کر دیا تھا۔

یہ واقعہ دراصل ہم سب کے کردار کی تصویر کشی کرتا ہے، اسی لئے مَیں نے یہاں درج کیا ہے۔ ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے، لیکن اپنے سامنے کھڑے ہوئے کسی بھی شخص کے کردار پر انگلی اٹھا دیتے ہیں۔ ہم مہنگائی کا ذمے دار کبھی زرداری کو ٹھہراتے ہیں، کبھی نواز شریف کو اور کبھی عمران خان کو،لیکن جب ہم خود اپنی دکان پر بیٹھے ہوتے ہیں تو ہر چیز اپنے ہی متعین کیے ہوئے بھاؤ پر بیچنے کی کوشش کرتے ہیں۔گاہگ مہنگی چیزیں خریدتے ہوئے اعتراض کرے تو کہتے ہیں کہ یہ سب حکمرانوں کا کیا دھرا ہے؟ فیس مالک کا ڈبا ان دِنوں ڈیڑھ سو روپے میں مل جاتا ہے،جس میں پچاس ماسک ہوتے ہیں۔ ایک ماسک تین روپے میں پڑتا ہے، لیکن کچھ لوگ یہ تین روپے والا ماسک دس سے بیس روپے تک فروخت کر رہے ہیں،یعنی وہ تین روپے پر17 روپے تک منافع وصول کر رہے ہیں۔
مجھے اپنے دوستوں سے عرض یہ کرنا ہے کہ معاشرے میں پھیلے ہوئے بہت سے بگاڑ تو ہم خود بھی ٹھیک کر سکتے ہیں،لیکن سچ یہ ہے کہ ہماری آنکھوں پر لالچ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ جب تک یہ پردہ ہم اپنی آنکھوں سے نہیں اُتاریں گے، ہمارا معاشرہ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -