لٹی جاتی ہے ارمانوں کی دنیا دیکھتے جاؤ

لٹی جاتی ہے ارمانوں کی دنیا دیکھتے جاؤ
لٹی جاتی ہے ارمانوں کی دنیا دیکھتے جاؤ

  

عمران خان اس لئے سکون میں ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ عوام کے ایک طبقے میں ابھی بھی ان کی بڑی پذیرائی ہے، وہ بھی پی ڈی ایم کی طرح بڑے جلسے کر سکتے ہیں، گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج ان کے مخالفین کے لئے تازیانہ ہیں اور خود عمران خان کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، اسی طرح وہ اور اسٹیبلشمنٹ ابھی تک ایک پیج پر ہیں اور کوئی ایسا بیان کسی طرف سے سامنے نہیں آیا جس سے یہ لگتا ہو کہ دوریاں پیدا ہو گئی ہیں اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا ایک پیج پر ہونے کا بیانیہ ابھی بھی جاندار دکھائی دیتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کرپشن کے خلاف بھی عمران خان کا بیانیہ اسی طرح جاندار دکھائی پڑتا ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہ واحد دعویٰ ہے جس سے ابھی تک عمران خان نے یو ٹرن نہیں لیا ہے۔ عمران خان کے سکون میں ہونے کا سب سے بڑا سبب یہ بھی ہے کہ وہ سیاست کو موروثیت میں بدلنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی ان کی دلدادہ ہے کیونکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے انہوں نے نہ صرف تعمیراتی شعبے کے لئے ایک انتہائی پرکشش پیکج کا اعلان کیا تھا بلکہ ایکسپورٹروں کو مراعات دینے کے لئے بھی بڑے اقدامات کئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عام کاروباری افراد کو رعایتی قیمت پر بجلی کی فراہمی کا اعلان بھی کردیا ہے۔ یہ وہ تمام عوامل ہو سکتے ہیں جن کے سبب عمران خان ابھی بھی ایک comfortableپوزیشن میں ہیں اور قومی اسمبلی میں ان کی جماعت کو اپنے اتحادیوں کے سبب اکثریت حاصل ہے اور اس بات کا دور دور تک امکان دکھائی نہیں دیتا کہ آنے والے دو چار مہینوں میں ان کے درمیان کوئی بڑا بُعد پیدا ہوسکتا ہے، خاص طور پر جب  عمران خان چودھری شجاعت حسین کی عیادت کی غرض سے ان کی رہائش گاہ کا وزٹ کرکے وہ گلہ بھی ختم کر چکے ہیں جو چودھری پرویز الٰہی بار بارکرتے دکھائی دیتے تھے۔ 

اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پی ڈی ایم نے ملک بھر میں چار پانچ جاندار جلسے کرکے اپنے لئے پولیٹیکل سپیس پیدا کرلی ہے اور وہ حکومت کے سوا دیگر تمام سٹیک ہولڈروں کے ساتھ ڈائیلاگ کا عندیہ دے رہی ہے، اس ضمن میں آج کا لاہور کا جلسہ ایک بڑا تاثر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا بشرطیکہ بارش کا سلسلہ رکا رہے۔ اس میں شک نہیں کہ لاہوریوں نے نون لیگ سے اپنی والہانہ محبت کا بھرپور اظہار کیا ہے اور مریم نواز کی ریلیوں نے انتخابی ماحول پیدا کردیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ لاہور سے پی ٹی آئی کی تین نشستیں ہونے کے باوجود لاہور میں عمران خان کی مقبولیت کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ نون لیگ نے لاہور کے گیارہ کے قریب اپنے ایم این ایز کو پانچ پانچ ہزار اور لاہور سے باہر کے اضلاع سے تین تین ہزار کارکنوں کولانے کاکہا ہے، اگر ایسا ہوگیا تو نون لیگ لاہور میں ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لاہور کے علاوہ نون لیگ کو شیخوپورہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، ساہیوال، پاکپتن سمیت سنٹرل پنجاب کے لگ بھگ چودہ اضلاع میں بھرپور اکثریت حاصل ہے۔ اگر وہاں سے واقعی ایک ایک دو دوہزار افراد اٹھ کر آگئے تو مجمعے کا سماں بندھ جائے گا۔ یوں بھی جہاں 25ہزار لوگ اکٹھے ہو جائیں تو وہ ایک لاکھ کے مجمعے کا تاثر دیتا ہے اور اگر نون لیگ نے پچاس ساٹھ ہزار لوگ اکٹھے کرلئے تو لاکھوں کا تاثر پیدا ہو جائے گا جبکہ مولانا فضل الرحمٰن اور علامہ ساجد میر کے مدرسوں سے طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد علیحدہ سے جلسے کو رونق بخش رہی ہوگی۔ 

حکومت اور پی ڈی ایم کی اہلیت سے ہٹ کر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ 2018میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے کے بعد جس طرح سے پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ ہوئی، امپورٹس بند ہونے سے مشینری کی برآمد میں تعطل پیدا ہوا اور ڈیمانڈ اور سپلائی کے بگڑ جانے سے ملک میں جس مہنگائی کا طوفان آیا  اس سے عام آدمی بلبلا اٹھا ہے، اس کے برعکس اس کے ذرائع آمدن میں اضافہ نہیں ہو سکا بلکہ کورونا کے سبب ان کو دستیاب ذرئع آمدن میں بھی خاطر خواہ کمی آگئی ہے چنانچہ شکم کی بھوک نے عام آدمی کو حکومت سے متنفر کردیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس نااہل حکومت کو چلتا کیا جائے۔ عمران خان کا یہی سب سے بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح عام آدمی کو مطمئن کریں کیونکہ پی ڈی ایم کی قیادت بار بار یاد دلاتی ہے کہ عمران خان نے ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں اور پچاس لاکھ گھر بنا کر دینے تھے جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ لوگوں کو نوکریوں کے لالے پڑ گئے ہیں اور وہ کسی نجات دہندہ کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ 

یہ صورت حال اس امر کی غماز ہے کہ عوام کی نظر میں حکومت کی پوزیشن کمزور پڑتی جا رہی ہے جبکہ پی ڈی ایم کی قیادت ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی مقبولیت کا گراف اوپر لے جاتی نظر آرہی ہے۔ حکومت اگر عوام کو فوری ریلیف نہ دے سکی اور کورونا وبا کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہوگیا تو آنے والے سال میں عوام حکومت سے مزید متنفر ہو جائیں گے اور چاہیں گے کہ اس گرتی دیوار کو ایک بھرپور دھکا دے کر گرادیا جائے۔ ایسے میں اگر حکومت کو بادل ناخواستہ مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑا تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کا تو بھرکس نکل جائے گا، خاص طور پر جب کہ حکومت کو کسی دوست ملک یا عالمی ادارے سے مدد کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آرہا ۔شاعر نے ایسے ہی موقع کے لئے کہا تھا کہ 

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا  اس  بیماری  دل نے آخر کام تمام کیا 

مزید :

رائے -کالم -