لاہور کا میدان

لاہور کا میدان
لاہور کا میدان

  

ٹیسٹ میچ کے پانچویں روز ٹیم کی حالت اچھی نہ ہو تو اس کے کھلاڑی دل ہی دل میں دعا مانگ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ بارش برسا دے تاکہ میچ ہو ہی نہ سکے۔ حکومت کی بھی یہ خواہش ہو گی کہ بارشوں کے اس موسم میں لاہور آج جل تھل ہو جائے۔ خاص طور پر مینار پاکستان والے حصے میں بارش صبح سے شروع ہو اور رات تک جاری رہے تاکہ پی ڈی ایم کا جلسہ اس قدرتی رکاوٹ کی و جہ سے منعقد نہ ہو سکے۔ وجہ یہ ہے کہ صرف بارش ہی اس جلسے کو روکنے کا واحد راستہ رہ گئی ہے، حکومت جس قدر اس جلسے کے بارے میں ابہام کا شکار ہے، اس سے بڑا ابہام تو کبھی دیکھا نہیں گیا۔ ایک وزیر کہتا ہے جلسے کی اجازت نہیں دیں گے دوسرا کہتا ہے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے شیخ رشید احمد نے تو وزارت داخلہ کا قلم دان سنبھالتے ہی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ جلسہ کریں کوئی نہیں روکے گا، کوئی کنٹینر بھی لاہور میں نظر نہیں آئے گا لیکن دوسری ہی سانس میں وہ یہ بھی کہہ گئے کہ لاہور کا جلسہ صوبائی حکومت کا معاملہ ہے، میں تو پی ڈی ایم والوں سے اس وقت بات کروں گا جب وہ اسلام آباد آئیں گے۔ پنجاب حکومت نے صاف کہہ دیا ہے کہ جلسے کی اجازت نہیں ہے، قانون توڑنے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے ادھر اتنا ابہام ہے تو اپوزیشن کی طرف مکمل یقین ہے کہ آج جلسہ ہو کر رہے گا۔ آج دونوں طرف سے کوئی بھی احمقانہ فیصلہ، احمقانہ قدم بھوسے میں جلتی تیلی پھینکنے کا کام کر سکتا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ پی ڈی ایم کی قیادت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے کسی تیسری قوت کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے حکومت کو بھی ایک ناگزیر مجبوری سمجھ کر آج کا دن گزارنا چاہئے اور کسی مسئلے کو ضد بنا کر طاقت کا استعمال کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

اب اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ لاہور کا جلسہ اتنی اہمیت کیوں اختیار کر گیا ہے۔ اپوزیشن کے لئے تو اس کی اہمیت ہے ہی، حکومت کیوں اسے اتنی زیادہ اہمیت دے رہی ہے کہ اس سے صرف دو دن پہلے وزیر داخلہ بھی تبدیل کر چکی ہے۔ پی ڈی ایم کے جلسے تو پہلے بھی ہوئے ہیں وزیر اعظم عمران خان نے ان کا کوئی اثر نہیں لیا، کوئی لچک نہیں دکھائی مگر لاہور جلسے سے پہلے ان کی طرف سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش بھی کی گئی، پارلیمینٹ میں مسائل حل کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا اور سب سے اہم بات یہ کہ تحریک کو تین ماہ تک ملتوی کرنے کی اپیل بھی کی گئی ظاہر ہے اس مرحلے پر ان سب باتوں کو رد کرنے کے سوا اپوزیشن کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ کیا لاہور واقعی ایسا طلسماتی شہر ہے کہ اس کا ایک بھرپور جلسہ بڑی سے بڑی حکومت کے تخت و تاج کو لرزا کر رکھ دیتا ہے۔ خود وزیر اعظم عمران خان اپنے اس جلسے کو نہیں بھولے جو انہوں نے مینار پاکستان پر کیا تھا اور اس جلسے نے ان کی پارٹی کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ لاہور اصل میں پاکستانی سیاست کا دل ہے، اس کی نبض سے پتہ چلتا ہے کہ سیاست کا دل کس رفتار سے دھڑک رہا ہے۔ شاید لاہور کی یہی حیثیت تھی جس نے تحریک پاکستان کے رہنماؤں کو قراردادِ پاکستان کی منظوری کے لئے لاہور میں اجلاس منعقد کرنے کی راہ دکھائی تھی۔ بے نظیر بھٹو کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ اگر وہ 1986ء میں لاہور کی بجائے کسی اور شہر میں اترتیں تو ان کا سیاسی قد کاٹھ کبھی اتنا نہ بڑھتا جتنا لاہور میں استقبال کے بعد راتوں رات بڑھ گیا۔

مریم نواز لاہور میں اپنی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے یہی بات کہتی رہی ہیں کہ پی ڈی ایم کا لاہور میں آخری جلسہ اس لئے رکھا ہے کہ جو فیصلہ لاہور دیتا ہے، وہی پورے پاکستان کا فیصلہ ہوتا ہے تو کیا آج لاہور کوئی فیصلہ سنانے جا رہا ہے کیا ایک بڑا اور کامیاب جلسہ حکومت کے خاتمے کی پہلی اینٹ ثابت ہوگا؟ بظاہر تو ایسا ہوتا نہیں کہ ایک جلسہ حکومت الٹا دے مگر حکومت اور اپوزیشن جس طرح اس جلسے کے لئے کھینچا تانی کرتی آئی ہیں، اس سے یہی لگتا ہے کہ اس جلسے کی سیاسی اہمیت بہت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے لئے اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ لاہور کو وہ اپنی سیاسی طاقت سمجھتی ہے نوازشریف اور شہباز شریف نے لاہور پر اپنے ادوار اقتدار میں جتنا خرچ کیا، پورے صوبے پر 

مجموعی طور پر اتنا خرچ نہیں ہوا۔ میٹرو بس سروس کے بعد اورنج لائن جیسے مہنگے منصوبے کے لئے بھی لاہور کو چنا، آج مریم نواز بھی اہل لاہور کو جلسے میں آنے کی دعوت دینے کے لئے اپنی خدمات گنوا رہی ہیں۔ ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی ہے، لیکن جو مرکزیت لاہور کو حاصل ہے وہ پاکستان کے کسی دوسرے شہر کو حاصل نہیں، ارطغرل لاہور آئے تو یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ لاہور، لاہور ہے، اب اسی لاہور نے آج یہ فیصلہ دینا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک میں کوئی جان ہے یا ایک بے جان گھوڑا حکومت گرانے کی کوشش ناتواں کر رہا ہے منو بھائی کہتے تھے جس کا لاہور مضبوط ہو اس کا اسلام آباد مضبوط ہوتا ہے۔ آج پی ڈی ایم یہی ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ اس کا لاہور مضبوط ہے اس لئے اسلام آباد بھی اس کا ساتھ دے گا۔

ملتان میں بھی سب نے دیکھا کہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو سیاسی جماعتوں کے کارکن اور حامی زیادہ شدت کے ساتھ اور بڑی تعداد میں باہر نکلے، لاہور میں بھی یہی غلطی دہرائی گئی تو مزاحمت بھی ہو سکتی ہے اور جلسے میں آنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔  اگر وزیر اعظم اور ان کے ساتھی اپوزیشن کے بچھائے جال میں آ جاتے ہیں اور ملک کے سیاسی امن نیز حکومتی رٹ کو ایک بے مقصد جنگ اور سیاسی لڑائی میں جھونک دیتے ہیں تو لاہور کا یہ میدان واقعی ان کے لئے ڈراؤنا خواب بن جائے گا۔ آج میڈیا نے یہ بھی دکھانا ہے کہ اپوزیشن مینار پاکستان کے گراؤنڈ کو بھر سکی یا نہیں، حکومت رکاوٹیں کھڑی کرے تو یہ عذر گھڑا جاتا ہے کہ لوگوں کو جلسے میں آنے نہیں دیا گیا فری ہینڈ دے کر حکومت یہ چیلنج دے سکتی ہے کہ پنڈال کو بھر کے دکھاؤ جو ظاہر ہے کوئی آسان کام نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -